بی بی سی کا اسلامی امارت میں اختلاف کا دعویٰ بے بنیاد: ذبیح اللہ مجاہد

بیح اللہ مجاہد نے ایکس پر ایک سلسلہ وار پوسٹ میں کہا ہے کہ ’اسلامی امارت کی صفوں میں کسی قسم کا کوئی اختلاف موجود نہیں ہے۔‘

افغان طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کابل میں 12 اکتوبر 2025 کو ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے (فائل فوٹو/ اے ایف پی)

افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے جمعرات کو برطانوی نشریاتی ادارے (بی بی سی) کی ایک رپورٹ کو ’بے بنیاد‘ قرار دیا ہے جس میں افغان طالبان کی قیادت میں ’دراڑ‘ کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

ذبیح اللہ مجاہد نے ایکس پر ایک سلسلہ وار پوسٹ میں کہا ہے کہ ’اسلامی امارت کی صفوں میں کسی قسم کا کوئی اختلاف موجود نہیں ہے۔ تمام امور اسلامی شریعت کے مطابق انجام دیے جاتے ہیں اور اختلاف کی کوئی گنجائش نہیں۔‘

بی بی سی نے جمعرات کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ آڈیو کا حوالہ دے کر دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس میں ’افغان طالبان کے سربراہ ہیبت اللہ اخونزادہ کو سنا جا سکتا ہے جو حکومت کے اندر ایک دوسرے کے مخالفین کے بارے میں خبردار کر رہے ہیں۔‘

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’اس تقریر میں افغان طالبان کے سربراہ کہتے ہیں کہ اندرونی اختلافات ان کی حکومت گرا سکتے ہیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بی بی سی کے مطابق ’یہ تقریر جنوری 2025 میں قندھار کے ایک مدرسے میں طالبان اراکین کی موجودگی میں کی گئی تھی جس نے کئی ماہ سے افغان طالبان کے اعلیٰ رہنماؤں کے درمیان اختلافات کی افواہوں کو ایندھن فراہم کیا تھا۔‘

تاہم افغان طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایک بیان میں بی بی سی کی اس رپورٹ کو ’بے بنیاد‘ قرار دیا ہے۔

ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا ہے کہ ’قیادت کی جانب سے اتحاد اور یکجہتی کی اہمیت پر دیے گئے بیانات، یا بعض معمولی امور جن میں رائے کا فرق ہو سکتا ہے، انہیں ہرگز اختلاف سے تعبیر نہیں کیا جانا چاہیے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’اسلامی امارت کے اندر مضبوط اتحاد، اطاعت اور ہم آہنگی موجود ہے، اور کسی بھی قسم کے انتشار یا اختلاف کا کوئی اندیشہ نہیں۔‘

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا