کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے جنجگجوؤں کو 2021 میں پاکستان لانے کے حوالے بحث ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی۔ یہ فیصلہ کس کا تھا اور کتنے شدت پسندوں کا لانا تھا، کتنے لائے گئے اور کتنے نہیں لائے گئے، یہ معاملہ سیاسی بیان بازی کی نذر ہو چکا ہے۔
عمران خان کے دور حکومت میں جب جنرل فیض ڈی جی آئی ایس آئی تھے تب افغان طالبان سے مذاکرات کے نتیجے میں انہیں خیبر پختونخوا کے علاقوں میں دوبارہ آباد کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ جن علاقوں میں وہ واپس آئے اب وہاں وہاں امن عامہ کی صورت حال مخدوش ہے۔
پاکستان فوج کے ترجمان لیفٹینیٹ جنرل احمد شریف نے بھی منگل کو ہونے والی پریس کانفرنس میں واضح کر دیا کہ 2021 میں ایک بااختیار وزیراعظم نے یہ فیصلہ کیا تھا۔ ہمیں یہ سمجھنا ہو گا کہ ریاست فیصلے کیسے کرتی ہے۔ جو حکومت ہوتی ہے وہ بااختیار ہوتی ہے۔ ادارے حکومت کے ماتحت ہوتے ہیں۔ ادارے بااختیار نہیں ہیں۔ جب ان سے کہا گیا کہ خفیہ ایجنسی کے سربراہ بھی فیصلے میں شامل تھے تو انہوں نے کہا کہ تو جو اس وقت ڈی جی آئی ایس آئی تھے اب کہاں ہیں؟ جنہیں سیاست کے لیے استعمال کیا گیا ان کو ان کے کیے کی سزا مل چکی ہے۔
خیبر ضلع سے تعلق رکھنے والے سینیٹر پیر نور الحق قادری نے، جو پی ٹی آئی دور حکومت میں وزیر مذہبی امور تھے، دعویٰ کیا کہ طالبان واپسی کے معاملے پر انہوں نے اور مراد سعید نے مخالفت کی تھی، تاہم اس وقت کے فوجی سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ اور آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل فیض حمید نے کہا کہ یہ ملک کے مفاد میں ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
بقول نورالحق قادری فوجی حکام کا کہنا تھا کہ ان (عسکریت پسندوں) کے نقصانات پورے کیے جائیں۔ ان کا اصرار تھا کہ تحریک انصاف دور میں ان کی واپسی کا فیصلہ نہیں ہو سکا تاہم ان کی حکومت جانے کے بعد 35 سے 40 ہزار افراد آئے۔
تحریک انصاف کے روپوش رہنما مراد سعید بھی ایک ویڈیو میں کہہ چکے ہیں کہ انہوں نے ان عسکریت پسندوں کے ان کے آبائی علاقے میں آمد کی مخالفت کی جس پر انہیں کہا گیا کہ چپ رہو۔ ’پھر میرے علاقے میں تو نہیں آئے لیکن جنوبی اضلاع میں یہ لوگ لائے گئے۔‘
خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع کافی عرصے سے شدت پسندی کی لپیٹ میں ہیں۔
سابق وزیر اعظم عمران خان کے اس معاملے پر بھی کئی بیانات سامنے آئے۔ اپنی حکومت ختم ہونے کے بعد بھی انہوں نے کہا کہ یہ ان کی حکومت کا فیصلہ تھا۔ انہوں نے مارچ 2023 میں بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کو واپس لانے کے سوا ان کے پاس کوئی دوسرا چارہ نہ تھا۔ ’افغان طالبان نے ہم سے مطالبہ کیا تھا کہ یہ پاکستان کے شہری ہیں، تیس سے چالیس ہزار ہیں انہیں واپس لے لیں تو پاکستان کیا کرتا ہمارے پاس کوئی چوائس نہیں تھی۔‘
جنوری 2023 میں ہی عمران خان نے ایک سیمینار میں اپنے ایک اور بیان میں کہا کہ پانچ ہزار پاکستانی طالبان کی اپنے خاندانوں کے ساتھ واپسی کی بات ہوئی تھی جن کی مجموعی تعداد 35 ہزار افراد بنتی تھی۔ ’لیکن یہ منصوبہ کامیاب نہ ہو سکا کیوںکہ صوبوں نے اس کی مالی معاونت سے انکار کر دیا تھا۔‘
عمران خان کا موقف تھا کہ کابل میں اگست 2021 میں حکومت کی تبدیلی کے بعد افغان طالبان نے ٹی ٹی پی پر دباؤ ڈالا جس کے 40 ہزار کے نیٹ ورک میں سے پانچ ہزار سے زائد جنگجو واپس پاکستان آنے کو تیار ہوئے تھے۔
اس منصوبے سے متعلق اس وقت کی حزب اختلاف کی سیاسی جماعتوں کو فوجی حکام نے بریفنگز بھی دی تھیں جس میں بقول وزیر دفاع خواجہ آصف جنرل باجوہ اور جنرل فیض عسکریت پسندوں کے حامی دکھائی دیتے تھے۔
تحریک طالبان کے عسکریت پسندوں کی واپسی کا معاملہ ہر چند روز بعد سر اٹھاتا ہے اور سیاسی بیانات تو سامنے آتے ہیں لیکن حقیقت کیا تھی، بہت سے سوالات کو تشنہ چھوڑ دیتا ہے۔