وزارتِ تجارت کے مطابق رجسٹرار کے فیصلے میں واضح طور پر تسلیم کیا گیا تھا کہ باسمتی چاول پاکستان میں بھی پیدا ہوتا ہے۔
اس تناظر میں یہ بھی اہم ہوگا کہ جہاں ایک ملک پر حملہ دوسرے ملک پر حملہ تصور کیا جائے گا وہیں ایک کا دشمن دوسرے کا دوست نہیں رہ سکے گا، لہذا ضروری ہوگا کہ معاہدے کے فریق دوستی و دشمنی کے معیارات کو اپنی ان طویل مدتی دفاعی ضرورتوں کے حوالے سے ’ری وزٹ‘ کریں۔