پانی زندگی کی حیات ہے اور زمین کا 70 فیصد حصہ پانی سے بھرا ہوا ہے۔ پانی کے بغیر کوئی تہذیب تمدن جنم نہیں لے سکتی۔
سمندر میں پانی کی فراوانی کے باوجود پانی غیر مساواتی طور پر تقسیم ہے اور بڑھتی ہوئی قلت کا شکار بھی ہے۔ موسمیاتی تبدیلی نے اس خطرے کو زیادہ سنگین بنا دیا ہے۔ پانی کی قلت نے تاریخ میں جنگوں کو بھی جنم دیا ہے۔
پیسیفک انسٹی ٹیوٹ کی واٹر کانفلکٹ کرونولوجی کے رپورٹ میں حالیہ دہائیوں میں پانی سے منسلک تشدد میں تیزی سے اضافہ دکھایا گیا ہے۔ پانی سمجھ داری سے انتظام کا تقاضا کرتا ہے۔ ادب بار بار ہمیں اس بات کی ترغیب دیتا ہے کہ پانی کو لڑائی کے لیے ایک ہتھیار کے طور پر نہ دیکھا جائے بلکہ ایک مشترکہ وراثت کے طور پر جس کی دیکھ بھال اور احترام درکار ہے۔
ایمی ایتارانٹا کے ناول ’میموری آف واٹر‘ میں اس عنصر کو اس طرح پیش کیا گیا ہے: ’پانی تمام عناصر میں سب سے زیادہ کثیر الاستعمال ہے۔ پانی ہماری ملکیت نہیں، بلکہ ہم پانی کی ملکیت ہیں۔‘
1960 میں پاکستان اور انڈیا کے مابین ایک پانی کا معاہدہ طے پایا، جسے ’سندھ طاس معاہدہ‘ کہتے ہیں۔ اس میں مشرقی دریا (راوی، بیاس اور ستلج) انڈیا کو دے دیے گئے جبکہ مغربی دریاؤں (سندھ، جہلم اور چناب) پاکستان کو دیے گئے، جنہیں انڈیا کو محدود استعمال کرنے کی اجازت دی گئی۔
یہ پابندیاں پاکستان کے جنوبی ساحلی مفادات کی حفاظت کے ساتھ انڈیا کو اپنے علاقے (خاص طور پر اس کے زیر انتظام جموں و کشمیر) سے بہنے والے دریاؤں کے کچھ ترقیاتی استعمال کی اجازت دیتی ہیں۔
انڈیا پانی کے زرعی استعمال کی معلومات اور ذخیرہ کرنے کے منصوبے کی مکمل معلومات پاکستان کو فراہم کرنے کا پابند ہے، جس پر پاکستان کا متفق ہونا ضروری ہے۔
پانی کی جنگوں اور سرحد پار معاہدوں کی وسیع تر بحث میں آئی ڈبلیو ٹی اس لیے نمایاں ہے کیونکہ اس نے مبہم منصفانہ استعمال کی زبان کی بجائے مقررہ، قابلِ مقدار حقوق پیدا کیے۔ اس نے مستقل ادارے اور واضح تنازع حل کے راستے قائم کیے جو شدید سیاسی دشمنی (تین جنگوں اور جاری تناؤ) کے باوجود قائم رہا ہے۔
عمومی روایتی بین الاقوامی پانی کے قانون میں دو بنیادی اصول ہیں، جو نیچے ساحلی کنارے والوں کی حفاظت کرتے ہیں: منصفانہ اور معقول استعمال، اہم نقصان نہ پہنچانے کی ذمہ داری۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
سندھ طاس معاہدے کی بنیاد پر پاکستان کی 80 فیصد سے زائد قابلِ کاشت زمین سیراب ہوتی ہے اور اس سے 24 کروڑ سے زیادہ افراد کی روزی روٹی وابستہ ہے۔ یہ دنیا کے سب سے بڑے مربوط آبپاشی نظاموں میں سے ایک ہے، جس کی وجہ سے پانی کی حفاظت پاکستان کے لیے قومی بقا کا مسئلہ بن جاتا ہے۔ اس لیے معاہدے کی پاسداری سے فصلوں کے موسم اور نہری نظام کی منصوبہ بندی ممکن ہوتی ہے۔
یہ معاہدہ اس وقت غیرمعمولی دباؤ میں ہے۔ اپریل 2025 میں انڈیا نے اس معاہدے کو ’التوا میں‘ رکھنے کا اعلان کیا، جسے پاکستان اور عالمی بینک نے قانونی بنیادوں کے بغیر قرار دیا ہے۔ اس سے شدید غیریقینی صورت حال پیدا ہو گئی ہے۔ پاکستان نے اہم ہائیڈرولوجیکل ڈیٹا کی عدم دستیابی، فصلوں کے اہم مراحل پر نہری پانی کی فراہمی میں رکاوٹ اور دریاؤں کے پانی کی سطح میں ’اہم اتار چڑھاؤ‘ کے خطرے کی اطلاع دی ہے، جس سے پیداوار کو خطرہ لاحق ہے۔
اگرچہ پانی کا بڑے پیمانے پر موڑنا مہنگا اور برسوں کا کام ہے، لیکن التوا سے انڈیا کو ذخائر بنانے کا موقع مل سکتا ہے، جس سے وہ پانی کی مقدار اور وقت دونوں پر قابض ہو سکے گا۔
۔ انڈیا یکطرفہ طور پر معاہدے کو معطل نہیں کر سکتا۔
۔ معاہدے کی حدود می پاکستان کی منظوری کے بغیر ڈیزائن کی تبدیلیاں (جیسے پانی کے مقدار کا ذخیرہ) جائز نہیں۔
انڈیا فوری طور پر دریا روک یا موڑ نہیں سکتا، لیکن پانی چھوڑنے کے اوقات میں ہیرا پھیری (جیسے سیلاب یا خشک سالی) نئے ڈیم بنانا، اپنی آبپاشی بہتر بنانا اور اپنی خشک سالی والی فصلوں کو فروغ دینا پاکستان کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔
کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ انڈیا عمومی بین الاقوامی قانون کے تحت نیچے دیئے ہوئے اصولوں کا فائدہ اٹھا سکتا ہے۔
1. مادی خلاف ورزی
2. حالات کی بنیادی تبدیلی
3. جوابی اقدامات
لیکن یہ معاعدہ عمومی بین الاقوامی قانون پر نہیں بلکہ دو ملکوں کے درمیان خصوصی معاہدہ ہے جس میں سوائے فریقین کی مرضی کے کچھ تبدیل نہیں ہوسکتا، مزید براں دہشت گردی سے اس معاہدہ کا دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہے۔
انڈیا کے ان غیرقانونی اقدامات کو پاکستان کے پانی پر قبضہ تصور کیا جا سکتا ہے، جس وجہ سے پاکستان نے انڈیا کے اس اقدام کو آبی جنگ قرار دیا ہے۔ اس کشیدگی کے بہت خطرناک نتائج ہو سکتے ہیں۔ عمومی بین الاقوامی قوانین کے تحت پاکستان صرف بین الاقوامی اداروں میں اپیلیں دائر کرسکتا ہے اور انڈیا کی خلاف ورزیوں کے دستاویزی ثبوت اکٹھے کرسکتا ہے جنہیں وہ سفارتی سطح پر بین الاقوامی اداروں جیسا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بھیج سکتا ہے۔
لیکن اگر بین الاقوامی اداروں نے کچھ نہیں کیا تو کیا پاکستان کے عوام کو اور ریاست کو تباہی کے لیے چھوڑا جا سکتا ہے۔ یا پاکستان کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنا دفاع کرے جیسا کہ بین الاقوامی قانون اجازت دیتا ہے۔ آج کل کے دور میں بین الاقوامی قانون شدید دباؤ کا شکار ہے۔ اس کی نئی نئی تشریحات ہو رہی ہیں، خصوصاً دفاعی حملے اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی مناسبت سے۔ مزید یہ کہ بین الاقوامی قانون خود نئے انداز سے تشکیل پا رہا ہے۔
ثنا اللہ عباسی وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے سابق ڈی جی ہیں، جو آئی جی پنجاب اور خیبر پختونخوا بھی رہ چکے ہیں۔ اب وہ کراچی کی ایک لا یونیورسٹی میں وزیٹنگ فیکلٹی کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔
نوٹ: یہ تحریر مصنف کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، جس کا انڈپینڈنٹ اردو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
