اپنی اس لوٹ مار کو انہوں نے یہ کہہ کر جائز قرار دیا کہ چونکہ وہ ان قوموں کو مہذب بنا رہے ہیں لہذا اس کے معاوضے کے طور پر ان کے نوادرات کو لے جا رہے ہیں تاکہ انہیں عجائب گھروں کی زینت بنائیں۔
ہلانی کے اصغر شاہ کے مطابق انہوں نے دو دہائیوں میں ایسے 200 نایاب پتھر جمع کیے ہیں جن پر قدرتی طور پر ’اللہ‘ اور ’محمدؐ‘ کے نقوش نمایاں ہیں۔