موہن جو دڑو: سو سال بعد تانبے کے سکے دریافت

سندھ کے تاریخی علاقے موہن جو دڑو سے حال ہی میں ساڑھے پانچ کلو تانبے کے سکے دریافت ہوئے ہیں۔

پاکستان کے صوبہ سندھ کے علاقے موہن جو دڑو کے کھنڈرات کی دریافت کے سو سال کے بعد بھی ان کھنڈرات سے قیمتی نودرات ملنے کا سلسلہ جاری ہے۔

موہن جو دڑو کے ڈائریکٹر اور محقق ڈاکٹر سید شاکرعلی شاہ نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’مرکزی عمارت کے قریب سے تقریباً ساڑھے پانچ کلو کے تانبے کے سکے برآمد ہوئے ہیں جو ایک سو سال بعد کی سب سے بڑی اور اہم دریافت ہے۔‘

سندھ کے شہر لاڑکانہ سے 20 کلو میٹر اور سکھر سے 115 کلو میٹر کے فاصلے پر قدیم تہذیب کا حامل موہن جو دڑو موجود ہے۔

ماہرین کے مطابق 100 سال گزرنے کے بعد بھی اس شہر کا صرف دس فیصد علاقہ ہی دریافت ہو سکا ہے۔

موہن جو دڑو کے ڈائریکٹر ڈاکٹر سید شاکر علی شاہ کے مطابق گذشتہ سال ہونے والی تباہ کن بارشوں نے آثار قدیمہ کو بھی نقصان پہنچایا تھا۔ جن کی مرمت اور بحالی کا کام شروع کردیا گیا ہے۔

ان کے مطابق 17 نومبر کو دوران مرمت مزدوروں کو ایک سکہ ملا جس کے بعد ہنگامی اقدامات کے تحت، جب اس جگہ کا معائنہ کیا گیا تو انکشاف ہوا کہ یہاں ایک بڑے پیالے میں تقریباً پانچ ہزار پانچ سو گرام کے سکے موجود ہیں۔

سید شاکر نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ’ کنزرویشن کے دوران سکے کے نوادرات ملنا عجیب اور حیرت انگیز تھا۔ سیٹلائٹ کا دور ہے۔ عملے نے مجھ سے رابطہ کیا تو میں جلد ہی سائٹ پر پہنچا اور اصل صورت حال کا اندازہ ہوا کہ یہاں مزید مواد بھی ہے۔‘

ان کے مطابق ’اس روز کام کرتے رات ہو گئی اور رات کو کام کرنے میں خاصے مسائل درپیش تھے کیونکہ یہ ایک بہت بڑی دریافت تھی۔ ٹیکنیکل طور پر بہت احتیاط سے نکالنا تھا۔

’ہمیں ایک پیالے کے اندر سے پانچ ساڑھے پانچ کلو گرام سے زیادہ وزن کے سکے ملے جو ایک دوسرے میں جڑے ہوئے اور زنگ آلود ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’وہ سب سکے جڑے ہوئے ہیں لیکن وہ پانچ ساڑھے پانچ کلو کے ہیں۔ جس جگہ سے یہ دریافت ہوئے وہ جگہ زمین سے 15 فٹ اوپر اور جو ٹاپ لیول ہے۔ اس سے کوئی ساڑھے چھ فٹ نیچے ہے، تو وہاں کوئی ایسی جگہ نہیں تھی جہاں کھڑے ہو کر کام کیا جا سکے۔‘

ان کے مطابق دریافت کے بعد ان سکوں کو واٹر اینڈ سوئیل اینالسز لیبارٹری موہن جو دڑو بھجوا دیا گیا ہے تاکہ انہیں ممکنہ اصل حالت میں لا کر مزید تحقیق کی جا سکے۔

ڈاکٹر سید شاکرعلی شاہ نے بتایا کہ ’اس نئی دریافت کو ہم بہت غیر معمولی لے رہے ہیں کیونکہ اس سے تحقیق کے نئے باب کھلیں گے اور تاریخ کے کچھ خاموش پہلوؤں کو تلاش کیا جا سکے گا۔‘

انہوں نے بتایا کہ ’اس کے لیے ہم ملک کے ساتھ ساتھ بیرون ممالک سے بھی رابطہ کریں گے تاکہ ترقی یافتہ ملکوں کی لیبارٹریوں سے استفادہ حاصل کیا جا سکے۔ اس غیر معمولی دریافت کا ایک مرحلہ مکمل ہوچکا ہے۔ جب اس پر تحقیق ہو گی تو معلوم ہو گا کہ یہ سکے کس دور کے ہیں اور کن بادشاہوں کے ہیں۔ اتنی بڑی دریافت سو سال بعد ہوئی ہے۔‘

موہن جو دڑو کا قلعہ ایک ٹیلے پر واقع ہے، جو جنوب میں سطح زمین سے 20 فٹ اونچا ہے جبکہ یہ قلعہ ایک چبوترے پر واقع ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی تاریخ