سیلاب سے موہن جو دڑو کی پانچ ہزار سال پرانی دیواریں گر گئیں: حکام

موہن جو دڑو سائٹ کے کیوریٹر احسن عباسی نے بتایا کہ ماہرین آثار قدیمہ کی نگرانی میں درجنوں تعمیراتی کارکنوں نے سائٹ کی مرمت کا کام شروع کر دیا۔

نو فروری، 2017 کی اس تصویر میں سیاح موہن جو دوڑ سائٹ کا دورہ کر رہے ہیں (اے ایف پی)

سیلاب زدہ پاکستان میں مون سون کی ریکارڈ بارشوں اور سیلاب کے نتیجے میں سینکڑوں لوگوں کی جان جا چکی ہے۔

اب بارش نے ملک کے مشہور اور ساڑھے چار ہزار سال پرانے آثار قدیمہ موہن جو دڑو کو خطرے سے دوچار کر دیا ہے۔

موہن جو دڑو کے کھنڈرات دریائے سندھ کے قریب جنوبی صوبہ سندھ میں واقع ہیں، جنھیں یونیسکو نے عالمی ثقافتی ورثہ قرار دے رکھا ہے۔

ان آثار قدیمہ کو جنوبی ایشیا کی بہترین محفوظ شہری بستیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

ان آثار قدیمہ کو 1922 میں دریافت کیا گیا او اس کی تہذیب کے مٹ جانے کے حوالے سے آج بھی اسرار موجود ہیں۔ یہ تہذیب قدیم مصر اور میسوپوٹیمیا کے ہم عصر تھی۔

موسلا دھار بارشوں اور بڑے پیمانے پر سیلاب نے پاکستان کے بیشتر حصوں کو بری طرح متاثر کیا ہے۔

سیلاب سے کم از کم 1325 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ لاکھوں لوگ بے گھر ہیں۔

بہت سے ماہرین موسمیاتی تبدیلیوں کو مون سون میں غیر معمولی بارشوں کو ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔

سائٹ کے کیوریٹر احسن عباسی کہتے ہیں کہ سیلاب نے موہن جو دڑو کو براہ راست متاثر نہیں کیا لیکن ریکارڈ توڑ بارشوں نے قدیم شہر کے کھنڈرات کو نقصان پہنچایا ہے۔

ان کے بقول: ’کئی بڑی دیواریں جو تقریباً 5000 سال پہلے تعمیر کی گئی تھیں، مون سون کی بارشوں کی وجہ سے گر چکی ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ماہرین آثار قدیمہ کی نگرانی میں درجنوں تعمیراتی کارکنوں نے سائٹ کی مرمت کا کام شروع کر دیا ہے۔ انہوں نے موہن جو داڑو کو پہنچنے والے نقصانات کا تخمینہ نہیں بتایا۔

موہن جوداڑو کی خاصیت وہاں موجود بدھ کا سٹوپا ہے۔ یہ نیم کروی ڈھانچہ پوجا، مراقبے اور تدفین کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ عباسی نے بتایا کہ سیلاب نے اسے نقصان نہیں پہنچایا لیکن بارش سے اس کی بیرونی اور بعض بڑی دیوارں کو نقصان پہنچا جو انفرادی کمروں کو الگ کرتی ہیں۔

عباسی نے کہا کہ موہن جو دڑو کی تہذیب نے نکاسی آب کا ایک وسیع نظام بنایا جو ماضی میں سیلاب میں بہت اہم رہا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اگرچہ سیلاب نے پورے پاکستان کو متاثر کیا لیکن صوبہ سندھ سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔ پیر کو فوج کے انجینیئرز نے پاکستان کی سب سے بڑی میٹھی پانی کی جھیل منچھر کے پشتے میں دوسرا کٹ لگایا تاکہ قریبی شہر سہون کو بڑے سیلاب سے بچایا جا سکے۔

دریں اثنا منگل کو امدادی کارروائیاں جاری رہیں۔ فوج اور رضاکاروں نے ہیلی کاپٹروں اور کشتیوں کا استعمال کرتے ہوئے سیلاب زدہ علاقوں میں پھنسے ہوئے لوگوں کو نکال کر قریبی امدادی کیمپوں تک پہنچایا۔

لاکھوں لوگ پہلے ہی ایسے کیمپوں میں رہ رہے ہیں۔ ہزاروں افراد نے بلند مقامات پر سڑکوں کے کنارے پناہ لے رکھی ہے۔

سہون کے مضافاتی علاقے کے رہائشی 52 سالہ غلام صابر نے منگل کو بتایا کہ حکام کی جانب سے انہیں گھر خالی کرنے کے لیے کہنے کے بعد وہ تین دن قبل اپنا گھر چھوڑ گئے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’میں اپنے خاندان کے افراد کو اپنے ساتھ لے کر اس محفوظ جگہ پر آ گیا ہوں۔‘ صابر نے کہا وہ نہیں جانتے کہ ان کا گھر گر گیا یا بچ گیا۔

زیادہ پڑھی جانے والی تاریخ