گل افشاں کے مطابق ان کا یہ سفر مجموعی طور پر 36 دنوں پر مشتمل تھا، جس کا اختتام لاہور میں ہوا۔ اس دوران وہ فرانس، سوئٹزرلینڈ، اٹلی، یونان، ترکی اور پھر پاکستان پہنچیں۔
اگرچہ چین ماضی میں اپنی سرحدوں سے دور تنازعات اور جنگوں میں مداخلت سے گریز کرتا رہا لیکن اب وہ جنوب مشرقی ایشیا سے لے کر یورپ تک مختلف تنازعات میں ثالثی کی کوششیں کر رہا ہے۔