سرگودھا سے تعلق رکھنے والی 22 سالہ فاطمہ زہرا نے انڈپینڈنٹ اردو سے خصوصی گفتگو میں بتایا کہ کامن ویلتھ گیمز میں وہ اپنے آخری مقابلے کے لیے انجری کے ساتھ رنگ میں اتریں۔
لانگ ریڈ
کھیلوں کے بڑے مقابلوں کی میزبانی مقامی آبادیوں میں تیزی سے غیر مقبول ہوتی جا رہی ہے جو اخراجات کے بارے میں شعور رکھتے ہیں اور سیاستدان قرضوں کے بوجھ تلے دبے کھیلوں کا چہرہ بننے سے ہچکچا رہے ہیں۔