کاشت کاروں نے حکومتی پالیسی پر تحفظات کا اظہار کیا ہے اور 3500 روپے فی من قیمت اور طریقہ کار کو مسترد کرتے ہوئے گندم کی برآمد یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔
کسان احتجاج کے حوالے سے چیئرمین کسان اتحاد خالد کھوکھر کا کہنا ہے کہ کاشتکار کو پیداواری لاگت بھی نہ ملنے کی وجہ سے بجلی، کھادوں اور بیجوں کے نرخ قوت خرید سے باہر ہیں۔ پیداواری اخراجات 3400 روپے فی من جب کہ گندم کا ریٹ 2200 روپے مل رہا ہے۔