سعودی عرب تیل کی مانگ پوری کرنے سے قاصر

دنیا میں ایندھن اور اشیا خورد کی قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ جاری ہے اور صورت حال میں مستقبل قریب میں بہتری کے آثار کم دکھائی دے رہے ہیں۔

سعودی وزیر توانائی عبدالعزیز بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود نے 16 مئی 2022 کو بحرین کے دارالحکومت مناما میں مشرق وسطیٰ اور گیس کی 29 ویں سالانہ کانفرنس سے خطاب کیا (اے ایف پی)

سعودی وزیر توانائی شہزادہ عبدالعزيز بن سلمان کا کہنا ہے کہ مملکت 2026 کے اختتام یا 2027 کے آغاز تک اپنی تیل کی پیداوار بڑھا کر یومیہ 1.34 کروڑ بیرل سے زیادہ کرنے کی جانب گامزن ہے۔

بحرین میں توانائی سے متعلق ایک کانفرنس میں پیر کو سعودی وزیر نے کہا کہ اگر منڈی کو ضرورت ہوئی تو اس سطح پر پہنچنے کے بعد اس کو برقرار رکھا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق موجودہ مانگ کو پورا کرنے کے لیے ریفائننگ کی گنجائش نہیں پائی جاتی۔

شہزادہ عبدالعزیز نے کہا کہ میتھین برآمد کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں اور تمام پیداوار کو مقامی سطح پر استعمال کیا جائے گا۔

انہوں نے واضح کیا کہ مقامی سطح پر توانائی کی پیداوار کو گیس اور قابل تجدید توانائی کی طرف منتقل کرنے سے یومیہ دس لاکھ بیرل اضافی تیل برآمد کے لیے دستیاب ہو گا۔

شہزادہ عبدالعزیز نے باور کرایا کہ کویت اور سعودی عرب ایران کے ساتھ الدرہ گیس فیلڈ کا معاملہ زیر بحث لانا چاہتے ہیں اس لیے کہ وہاں موجود وسائل دونوں ممالک کے مفاد میں ہیں۔

سعودی وزیر کے مطابق توانائی کے سیکٹر میں ہر سطح پر پیداواری صلاحیت کا ختم ہونا ایک عالمی مسئلہ ہے جس پر دنیا کو توجہ دینا چاہیے۔

دنیا بھر میںتیل پیدار کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک نے1985میں تیل کی قیمتوں کے تعین کا نظام وضع کیا۔1986میں قیمتوں کے تعین کو مارکیٹ سے لنک کیا اور 1988سے اب تک OPEC کی مقرر کردہ قیمتوں کا اطلاق دنیا بھرمیں ہوتا ہے۔

پانچ ممالک یعنی ایران، عراق، کویت، سعودی عرب، اور وینیزویلا نے 1960 میں اوپیک تشکیل دی تھی لیکن 1973 تک مزید سات ممالک اس میں شامل ہوئے۔ اوپیک ممالک کی پیداوار دنیا میں پیدا ہونے والے تیل کا نصف ہے۔

ان حقائق کے جائزے سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ دنیا بھر میں تیل کی طلب اور رسد میں توازن ختم ہو جانے سے تیل کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔

دنیا میں سال 2022 میں منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے جس کی اگرچہ اپنی بھی کئی وجوہات ہیں تاہم یوکرین جند کے آغاز کے بعد روس پر مغربی دنیا کی اقتصادی پابندیاں تیل کی قیمتوں میں بے یقینی کا بڑا سبب ہیں۔

آرامکو کو 82 فیصد منافع

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق سعودی آرامکو نے اتوار کو پہلی سہ ماہی کے منافع میں 82 فیصد کا اضافہ  حاصل کیا ہے جو تیل کی قیمتوں میں عالمی سطح پر اضافے سے ممکن ہوا ہے جس نے اسے دنیا کی سب سے قیمتی کمپنی بنا دیا ہے۔

اس اعلان نے سعودی عرب کے لیے حالیہ مثبت اقتصادی خبروں کا سلسلہ جاری رکھا جہاں تیل کا تیزی سے بڑھتا ہوا شعبہ ایک دہائی میں تیز ترین شرح نمو کو ممکن بنا رہا ہے۔

ایک پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ آرامکو کی 39.5 ارب ڈالر کی خالص آمدنی 2021 کے اسی عرصے کے مقابلے میں 21.7 ارب ڈالر سے بڑھ کر 2021 میں ہوئی تھی جو بنیادی طور پر خام تیل کی زیادہ قیمتوں اور فروخت ہونے والے حجم کی وجہ سے ہوئی اور ڈاؤن سٹریم مارجن میں بہتری آئی۔

سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق اتوار کو وزارت خزانہ نے 2021 کے اسی عرصے کے مقابلے میں سہ ماہی آمدنی میں 36 فیصد اضافے کا اعلان کیا جس سے 15 ارب ڈالر سے زائد کے مساوی سرپلس حاصل ہوا۔

آرامکو سعودی عرب کا ’اہم ترین ہیرا‘ اور آمدنی کا بنیادی ذریعہ ہے۔

گندم کی ریکارڈ قیمت

بھارت کی جانب سے ہیٹ ویو کی وجہ سے پیداوار میں کمی کے باعث اجناس کی برآمدات پر پابندی لگانے کے فیصلہ کے بعد پیر کو گندم کی قیمتیں ایک نئی ریکارڈ بلند سطح پر پہنچ گئیں۔ یورپی مارکیٹ کھلتے ہی قیمت 435 یورو (453 ڈالر) فی ٹن تک بڑھ گئی۔

فروری میں روس کی جانب سے زرعی پاور ہاؤس یوکرین پر حملے کے بعد سے گندم کی عالمی قیمتوں میں سپلائی کے خدشات میں اضافہ ہوا ہے جو اس سے قبل عالمی برآمدات کا 12 فیصد تھا۔

کھاد کی قلت اور ناقص فصلوں کی وجہ سے اس اضافے نے عالمی سطح پر افراط زر کو ہوا دی ہے اور غریب ممالک میں قحط اور سماجی بدامنی کے خدشات پیدا کر دیئے ہیں۔

دنیا کا دوسرا سب سے بڑا گندم پیدا کرنے والے ملک بھارت نے ہفتے کو کہا کہ وہ ریکارڈ گرم ترین مارچ کے بعد برآمدات پر پابندی عائد کر رہا ہے۔

نیو دہلی نے کہا کہ کم پیداوار اور تیزی سے زیادہ عالمی قیمتوں سمیت عوامل کا مطلب ہے کہ وہ اپنے ایک اشاریہ چار ارب افراد کی غذائی سلامتی کے بارے میں پریشان ہے۔

اس میں کہا گیا ہے کہ 13 مئی کو جاری کردہ ہدایت سے قبل طے شدہ برآمدی سودوں کا احترام اب بھی کیا جاسکتا ہے لیکن مستقبل میں ترسیلات کو حکومتی منظوری کی ضرورت ہے۔

تاہم اگر دہلی دیگر حکومتوں کی درخواستوں کو ’ان کی غذائی تحفظ کی ضروریات کو پورا کرنے‘ کی خاطر منظوری دے دے تو برآمدات بھی ہوسکتی ہیں۔

بھارت نے، جس کے پاس بڑے بفر سٹاک ہیں، پہلے کہا تھا کہ وہ یوکرین جنگ کی وجہ سے سپلائی کی کچھ قلت کو پورا کرنے میں مدد کرنے کے لیے تیار ہے۔

برآمدی پابندی پر سات صنعتی ممالک کے گروپ کی جانب سے شدید تنقید کی گئی جس میں کہا گیا تھا کہ اس طرح کے اقدامات سے اشیاء کی قیمتوں میں اضافے کا بحران مزید ابتر ہو جائے گا۔

پاکستان میں گندم کے اہداف

وزیراعظم شہبازشریف نے صوبوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اگلے ماہ کی یکم تاریخ تک گندم کی خریداری کے اہداف مکمل کریں۔

ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے انہوں نے صوبوں کی طرف سے گندم کی خریداری کے اہداف مکمل نہ کیے جانے پر برہمی کا اظہار کیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ کسی بھی طرح کے حالات میں عوام کو مشکلات میں نہیں ڈالا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت ہر قیمت پر عوام کو ارزاں نرخوں پر آٹا فراہم کرے گی انہوں نے کہا کہ آٹے کی قلت برداشت نہیں کی جائے گی۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا