چیف جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ کی سربراہی میں پانچ رکنی آئینی بنچ نے 10 دن کی طویل سماعت کے بعد 11 مئی کو اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔
یہ مقدمہ بڑے پیمانے پر عوامی توجہ کا سبب بن گیا کیونکہ اس کا تعلق ایسے موضوعات کے ساتھ ہے جن پر فرانس میں شدت کے ساتھ بحث کی جاتی ہے۔