راولپنڈی میں مبینہ ’ہم جنس شادی‘ عدالت میں چیلنج

راولپنڈی میں دو لڑکیوں کے درمیان مبینہ ’ہم جنس‘ شادی کے ایک واقعے کو عدالت میں چیلنج کر دیا گیا ہے، تاہم ایک لڑکی کا دعویٰ ہے کہ وہ دراصل لڑکا ہے۔

درخواست کے مطابق عاصمہ ایک سکول ٹیچر ہیں اور تین سال تک نیہا کے گھر رہائش پذیر رہی ہیں (پکسابے)

راولپنڈی میں دو لڑکیوں کے درمیان ’ہم جنس شادی‘ کے ایک واقعے کو چیلنج کر دیا گیا ہے جسے عدالت نے سماعت کے لیے منظور کر لیا ہے۔ تاہم ایک لڑکی نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ جنس تبدیل کروا کے لڑکا بن گئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق 19 سالہ عاصمہ بی بی نے 16 سالہ نیہا نامی لڑکی سے شادی کی جس کے بارے میں نیہا کے والد کو علم ہوا تو انہوں نے ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ میں رٹ دائر کرتے ہوئے لڑکی کی حوالگی کے عدالتی فیصلے کو چیلنج کر دیا۔

جس پر عدالت نے نیہا علی کے والد سید امجد حسین کی جانب سے دائر کردہ رٹ پٹیشن سماعت کے لیے منظور کر لی ہے۔

درخواست کے مطابق عاصمہ سکول ٹیچر ہیں اور تین سال تک نیہا کے گھر رہائش پذیر رہی ہیں۔

نیہا کے والد نے بتایا کہ تین سال ان کے گھر رہنے کے بعد وہ دوسری جگہ منتقل ہو گئی تھیں لیکن ان کے نیہا سے روابط رہے، مگر وہ رشتے کی نوعیت سے مکمل طور لاعلم تھے۔

انہوں نے بتایا کہ بعد ازاں نیہا کا داخلہ بھی اسی سکول میں ہوا جہاں عاصمہ ٹیچنگ کرتی تھیں۔

درخواست کے مطابق رواں برس فروری میں عاصمہ نے اپنے شناختی کارڈ پر نام اور جنس تبدیل کر کے نیہا سے نکاح کر لیا، اور تین دن کے اندر ایڈیشنل سیشن جج ٹیکسلا کو درخواست دی کہ اس کی بیوی کو اس کے گھر والوں نے قید کر رکھا ہے اور اُس کے ساتھ جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔

نیہا علی کے والد کے وکیل آصف توفیق اعوان نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ دو منٹ کی سماعت میں ایڈیشنل سیشن جج نے بغیر کسی انکوائری کے نیہا کو عاصمہ عرف علی آکاش کے حوالے کرنے کا حکم دے دیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ ’ماسک اور حلیہ بدلنے کے باعث عدالت کو بھی پتہ نہیں چلا کہ علی آکاش درحقیقت لڑکی ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’تب سے دونوں لڑکیاں اکٹھی رہ رہی ہیں جو کہ کبیرہ گناہ بھی ہے کیونکہ اسلام میں اس کی بالکل اجازت نہیں ہے اور نہ پاکستان کے آئین میں اجازت ہے۔‘

لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ نے نوٹس جاری کرتے ہوئے دونوں لڑکیوں کو بدھ 15 جولائی کو طلب کر رکھا ہے۔

جنس تبدیلی کا یہ پہلا واقعہ ہے؟

عاصمہ نے اپنی جنس تبدیل کرنے کے بعد شناختی کارڈ پر اپنا نیا نام علی آکاش درج کروایا ہے۔

اس حوالے سے نادرا حکام نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ جنس تبدیلی کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے اور نہ ہی نادرا کے قانون میں جنس تبدیلی کی کوئی پابندی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ریکارڈ کے لیے نادرا کو مطلوب تمام دستاویزات مہیا کی گئی ہیں۔ جن میں میڈیکل سرٹیفیکیٹ بھی شامل ہیں۔

ان کے مطابق عاصمہ نے لاہور کے کسی ہسپتال سے اپنی جنس تبدیل کروائی۔

انہوں نے مزید بتایا کہ دستاویزات کے ساتھ تصدیقی بیان بھی مطلوب ہوتا ہے جو عاصمہ/علی آکاش کی والدہ نے فراہم کیا اور تصدیق کی کہ وہ اب لڑکا ہیں۔

’نادرا ریکارڈر کے مطابق اس کیس میں کوئی خرابی نہیں ہے، شناختی کارڈ میں نام اور جنس تبدیلی قانون کے مطابق ہوئی ہے۔‘

ڈاکٹروں کے مطابق اگر کسی عورت میں مرد کی خصوصیات ظاہر ہونا شروع ہو جائیں، قدرتی میلان ہو تو اس صورت میں جنس تبدیل کی جا سکتی ہے۔ اس میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔‘

اسلامی نظریاتی کونسل کے رکن قاری حنیف جالندھری نے انڈپینڈنٹ اردو کو او حوالے سے بتایا کہ ’شرعی طور پر اگر کسی مرد میں قدرتی تبدیلی رونما ہو یا عورت میں مردانہ تبدیلی رونما ہو تو اس کی شریعت میں گنجائش ہے لیکن اپنی مرضی سے جنس کی تبدیلی کی شریعت میں کوئی گنجائش نہیں ہے اور نہ میڈیکلی ایسا ممکن ہو گا۔‘

جبکہ دوسری جانب نیہا علی کے والد کے وکیل آصف توفیق اعوان نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ دونوں نے عدالت میں پیش ہو کر کورٹ میرج کی ہے۔

’دونوں لڑکیوں کے نکاح نامے کا اندراج کنٹونمنٹ بورڈ وارڈ 10 میں ہوا۔ اس لیے کارروائی نکاح کروانے والوں اور اندراج کرنے والوں پر بھی بنتی ہے کہ ہم جنس شادی کیسے اور کس قانون کے تحت ہوئی۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے بتایا کہ عدالت میں انہوں نے آکاش علی کے لڑکی ہونے کی تمام دستاویزات فراہم کی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ’عاصمہ بی بی کے مطابق انہوں نے جنس تبدیل کروائی۔ پاکستان میں جنس کی تبدیلی ناممکن ہے اور غیر شرعی بھی۔ اب یہ بھی دیکھنا ہے کہ اگر واقعی میں جنس تبدیل کرائی ہے تو جنس کی تبدیلی کہاں سے کروائی گئی؟‘

انہوں نے کہا کہ اس کیس میں بہت سے شرعی اور تکنیکی سوالات ہیں۔

کیا یہ پاکستان میں پہلی ہم جنس شادی ہے؟

اس سوال کے جواب میں وکیل آصف توفیق اعوان نے بتایا کہ اس طرح کے کیسز سامنے آتے رہتے ہیں۔

’ابھی چھ ماہ قبل بھی راولپنڈی میں دو لڑکیوں کے آپسی تعلقات کا معاملہ سامنے آیا تھا لیکن نکاح تک بات نہیں پہنچی تھی اور عدالت نے مداخلت کر کے لڑکیوں کو ان کے والدین کے حوالے کر دیا تھا۔‘

ان کا کہنا ہے کہ 2018 میں لاہور میں بھی ایک سہیلی نے اپنی سہیلی کو بیوی بنا کر اپنے ساتھ رکھا ہوا تھا بعد ازاں والدین کی بذریعہ عدالت مداخلت پر معاملہ حل کیا گیا۔‘

’اس سے قبل سنہ2007 میں ایک لڑکی نے جنس تبدیلی کے بعد اپنی دوست سے شادی کی اور معاملہ عدالت تک پہنچ گیا۔ عدالت نے جوڑے کو قید کی سزا سُنائی تھی۔ سپریم کورٹ نے رہائی کا حکم دیا تو مذکورہ جوڑے نے ہم جنس پرستوں کے حقوق کے تحت کینیڈا میں پناہ کی درخواست کر دی تھی۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان