اب تک انڈین نوجوانوں نے اس تحریک کو امتحانات کے صاف شفاف ماحول میں منعقد کرانے، روزگار دینے اور تعلیمی اداروں کی کارکردگی تک محدود رکھا ہے لیکن دوسرے طبقوں کے جڑنے سے اقتصادی اور معاشرتی مسائل کو اجاگر کرنے کا مطالبہ بڑھ رہا ہے۔
ہڑتال کے باعث کوئٹہ سمیت صوبہ بھر میں کاروباری سرگرمیاں، قومی اور بین الاقوامی شاہراہوں پر ٹریفک معطل ہے جس سے نظام زندگی مفلوج ہو کر رہ گیا ہے۔