ہڑتال کے باعث کوئٹہ سمیت صوبہ بھر میں کاروباری سرگرمیاں، قومی اور بین الاقوامی شاہراہوں پر ٹریفک معطل ہے جس سے نظام زندگی مفلوج ہو کر رہ گیا ہے۔
انڈین حکمران جماعت کے ایک وفاقی وزیر نے تصدیق کی کہ انڈیا اس بات کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے کہ ’پانی کا ایک قطرہ بھی‘ پاکستان نہ پہنچے۔