ڈاکٹر طارق سہیل بابر کے مطابق اس طریقہ علاج کے ذریعے آر ایم آئی میں اب تک 15 آپریشنز کیے گئے ہیں جبکہ پشاور انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں گذشتہ ایک سال کے دوران بچوں کے 200 سے زائد آپریشن کیے گئے ہیں۔
کراچی کی نسیم امجد کہتی ہیں کہ ’ایک طرف اپنی ننھی بچی کی تکلیف اور دوسری طرف یہ احساس کہ وہ خود اور ان کے شوہر بھی تھیلیسیمیا مائنر ہیں۔‘