تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کارکنان کی خواہش کے مطابق سہیل آفریدی کا تمام تر دھیان وفاق کے خلاف سیاسی محاذ آرائی اور عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی طرف احتجاجی مارچوں پر رہا۔
اس کونسل میں مختلف شعبوں کے ماہرین (ٹیکنوکریٹس) اور سیاسی شخصیات شامل ہیں، جنہیں اہم محکموں کی ذمہ داریاں دی گئی ہیں۔