وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اتوار کو کہا ہے کہ وفاقی حکومت نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں خیبر پختونخوا حکومت کو ساتھ ملانے کی کوشش کی، لیکن صوبائی حکومت کی جانب سے کوئی جواب نہ ملنے کے باعث یہ کوششیں ناکام رہیں اور حکومت کو صوبے میں گورنر راج نافذ کرنا پڑا۔
وفاقی وزرا کی پریس کانفرنس صوبے میں گورنر راج نافذ کیے جانے کے کچھ ہی دیر بعد ہوئی۔
صدر مملکت نے وفاقی کابینہ کے فیصلے کی منظوری دی تھی۔ وفاقی حکومت نے یہ اقدام خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں کوششوں کی کمی کو جواز بناتے ہوئے کیا۔
وفاقی حکومت اور خیبر پختونخوا میں برسراقتدار پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے درمیان مختلف معاملات، بالخصوص دہشت گردی کے خلاف حکمت عملی پر اختلافات رہے ہیں۔ یہ اختلافات تین اکتوبر کو حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات ناکام ہونے کی اہم وجوہات میں شامل تھے۔
انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جائن کریں
پریس کانفرنس کے آغاز میں محسن نقوی نے کہا کہ اتوار کا دن حکومت کے لیے آسان نہیں تھا اور وہ ایک ماہ سے زائد عرصے سے مسلسل خیبر پختونخوا حکومت کو ساتھ ملانے کی کوشش کر رہے تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ پس پردہ ذاتی طور پر صوبائی حکومت سے رابطے میں تھے اور ان کا واحد مقصد اسے ساتھ ملانا تھا تاکہ دہشت گردی کے خلاف مل کر لڑا جا سکے۔
وزیر داخلہ نے بتایا کہ وہ گذشتہ رات 11 بج کر 45 منٹ تک پی ٹی آئی رہنماؤں سے رابطے میں تھے اور دن بھر مجوزہ معاہدے کے مسودے کی شق چار پر ان سے بات چیت کرتے رہے، لیکن انہیں کوئی جواب نہیں ملا۔
انہوں نے کہا، ’’میں نے انہیں بتایا کہ ہم اب بھی اس صورت حال سے بچ سکتے ہیں۔ معاملات بہت آگے بڑھ چکے ہیں، لیکن ہم اب بھی کچھ کر سکتے ہیں تاکہ کل صبح پیش آنے والی صورت حال کو مؤخر کیا جا سکے۔‘‘
محسن نقوی کا اشارہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج نافذ کرنے کے وفاقی حکومت کے زیر غور فیصلے کی جانب تھا۔
انہوں نے کشیدگی کم کرنے کے لیے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کی کوششوں کا بھی ذکر کیا، تاہم ان کے بقول کوئی حل نہیں نکل سکا۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ وفاقی حکومت نے پی ٹی آئی کو بار بار بتایا کہ اسے پارٹی کے لانگ مارچ پر کوئی اعتراض نہیں۔ ان کے مطابق حکومت کا مسئلہ مکمل طور پر دہشت گردی سے متعلق تھا اور وہ اس معاملے پر پی ٹی آئی کو اعتماد میں لینا چاہتی تھی۔
’12 اضلاع میں سکیورٹی صورت حال انتہائی خراب‘
خیبر پختونخوا میں سکیورٹی صورت حال پر بات کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ صوبے کے 12 اضلاع میں حالات ’’واقعی خراب‘‘ ہیں اور بعض اضلاع میں شام کے وقت گھر سے باہر نکلنا بھی ممکن نہیں۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کے ساتھ متعدد ملاقاتیں ہوئیں، جن میں صرف دہشت گردی پر بات کی گئی اور کوئی سیاسی گفتگو نہیں ہوئی۔
محسن نقوی کے مطابق ابتدائی طور پر پانچ اضلاع میں خیبر پختونخوا پولیس کو مضبوط بنانے اور چھ ماہ کے اندر ان اضلاع کی سکیورٹی کی ذمہ داری پولیس کے حوالے کرنے کی تجویز دی گئی تھی۔ اس کے بعد یہی عمل مزید پانچ اضلاع میں دہرانے کا منصوبہ تھا۔
انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے فنڈز کی کمی کا مسئلہ اٹھایا تھا، لیکن وفاقی حکومت نے ریکارڈ پر کہا تھا کہ جتنے اضافی فنڈز درکار ہوں گے، وہ فراہم کیے جائیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس بارے میں بات چیت کو چار ماہ گزر چکے ہیں، لیکن اس پر اب تک کوئی کام نہیں ہوا۔
وزیر داخلہ نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی کی ٹیم 12 اضلاع میں گورنر راج نافذ کرنے پر متفق ہو گئی تھی، لیکن وہ وفاقی حکومت کے ساتھ ملاقات کرتے ہوئے دکھائی دینے سے خوف زدہ تھی۔
انہوں نے کہا کہ ایک بات واضح تھی کہ وفاقی حکومت اس معاملے میں سیاست کو شامل نہیں کرنا چاہتی تھی۔
محسن نقوی نے الزام عائد کیا کہ پی ٹی آئی کے طالبان سے روابط کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں، تاہم انہوں نے اس حوالے سے مزید کچھ کہنے سے گریز کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ بعض اضلاع میں سکیورٹی صورت حال انتہائی خراب ہے، لیکن اس کے باوجود پی ٹی آئی وہاں جلسے کرنے میں کامیاب رہی اور ان جلسوں میں ایک شخص کو بھی نقصان نہیں پہنچا۔
انہوں نے کہا، ’’ہمارے پاس صرف دو راستے تھے: یا تو ہم روزانہ لوگوں کی شہادتیں دیکھتے رہتے یا انہیں روکنے کے لیے قدم اٹھاتے۔ اس لیے ہم نے جو مشکل فیصلہ کیا ہے، اس کا ایک پس منظر ہے۔‘‘
محسن نقوی کے مطابق وفاقی حکومت نے گورنر راج کے نفاذ سے بچنے کی پوری کوشش کی۔
مذاکرات اور لانگ مارچ کا معاملہ
پریس کانفرنس کے دوران محسن نقوی نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی نے جو مطالبات پیش کیے، ان پر گذشتہ ماہ ہی غور کیا جا رہا تھا، اس سے پہلے کہ اپوزیشن جماعت نے اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کیا۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے اپنے بعض رہنما بھی یہ سمجھنے سے قاصر تھے کہ لانگ مارچ کیوں کیا جا رہا ہے۔
وزیر داخلہ نے بتایا کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے گذشتہ ماہ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کے ساتھ مذاکرات کی خواہش ظاہر کی تھی اور ایک کمیٹی بنانے کی تجویز بھی دی تھی، لیکن حکومت کو اس بارے میں کوئی تصدیق موصول نہیں ہوئی۔
ان کے مطابق وزیر اعظم کی روانگی سے قبل ملاقات کرانے کی پوری کوشش کی جا رہی تھی تاکہ کشیدگی کم کی جا سکے۔ تاہم، تین اکتوبر کے مذاکرات کے لیے کمیٹی بعد میں تشکیل دی گئی۔
محسن نقوی نے بتایا کہ مشاورت دو دن تک جاری رہی۔ انہوں نے پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی اسد قیصر کو اس بات کا واضح مؤقف اختیار کرنے کا سہرا دیا کہ دہشت گردی کے معاملے پر ایک قدم بھی پیچھے ہٹنا ممکن نہیں۔
وزیر داخلہ کے مطابق اسد قیصر نے کہا تھا، ’ہم یہ آپ کے لیے نہیں کریں گے، ہم یہ پاکستان کے لیے کریں گے اور دہشت گردی کے خلاف متحد ہو کر لڑیں گے۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
محسن نقوی نے بتایا کہ انہوں نے سابق سپیکر قومی اسمبلی سے خیبر پختونخوا حکومت کو بھی اعتماد میں لینے کی درخواست کی تھی۔
معاہدے کے مسودے پر اختلافات
وزیر داخلہ نے کہا کہ مذاکرات کے دوران معاہدے کے مسودے میں چار مرتبہ ترمیم کی گئی، لیکن اس کے بعد حکومتی مذاکراتی کمیٹی کو معلوم ہوا کہ اپوزیشن کی ٹیم نے ایک نیا مسودہ پیش کر دیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس سے ایک روز قبل وزیر اعلیٰ نے اپنی ٹیم کو ان کی طرف سے معاہدے پر اتفاق کرنے کا اختیار دیا تھا، لیکن اگلے روز صورت حال بدل گئی۔
آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت ایمرجنسی نافذ: اعظم نذیر تارڑ
وفاقی وزیر انصاف اعظم نذیر تارڑ نے خیبر پختونخوا میں بڑھتے ہوئے دہشت گردی کے واقعات اور سکیورٹی خطرات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت صوبے میں ایمرجنسی نافذ کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔
اعظم نذیر تارڑ نے بتایا کہ خیبر پختونخوا کے گورنر نے ایک خط کے ذریعے صوبے کی تشویش ناک صورت حال سے آگاہ کیا تھا۔
ان کے مطابق گذشتہ اڑھائی سال کے دوران دہشت گردی کے واقعات میں 196 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ ان واقعات میں شہادتوں، زخمیوں اور تنصیبات و گاڑیوں کی تباہی کی تفصیلات الگ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ افواج پاکستان، خیبر پختونخوا پولیس، دینی رہنما اور عام شہری دہشت گردوں کا نشانہ بنے ہیں۔ ایسی صورت حال میں آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے فیصلہ کیا گیا۔
وزیر قانون نے کہا کہ بیرونی حملے کے خطرے یا اندرونی مسائل کی صورت میں آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت اختیار استعمال کیا جا سکتا ہے اور خیبر پختونخوا میں دونوں طرح کے خطرات بڑھ چکے تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایمرجنسی کے نفاذ کے حوالے سے آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت اعلان کیا گیا ہے اور اس سلسلے میں آئینی تقاضے پورے کیے گئے ہیں۔
اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ سڈنی نے ایک رپورٹ جاری کی ہے جس کے مطابق پاکستان دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ایک 11 رکنی کونسل کی تجویز بھی دی گئی ہے تاکہ وہ بہتر انداز میں کام کر سکے، جبکہ مزید 12 اضلاع کے لیے ایک سیکرٹریٹ قائم کیا گیا ہے جو براہ راست وفاق کو جواب دہ ہوگا۔
وزیر قانون کے مطابق آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت صوبائی حکومت کو افواج پاکستان تعینات کرنے کا اختیار دیا گیا ہے، جبکہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کے لیے افواج پاکستان پہلے ہی وہاں تعینات ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آئین کے آرٹیکلز 232 اور 234 کے تحت ایمرجنسی کے معاملے کی منظوری قومی اسمبلی اور سینیٹ سے لی جائے گی، جس کے بعد پارلیمان کا مشترکہ اجلاس بھی بلایا جائے گا۔
پی ٹی آئی حکومت پر دہشت گردوں سے اتحاد کا الزام
وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے پریس کانفرنس کے دوران پاکستان تحریک انصاف کی خیبر پختونخوا حکومت پر دہشت گردوں کے ساتھ اتحاد کا الزام عائد کیا۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کا دہشت گردوں کے ساتھ مبینہ اتحاد تھا، جس کی وجہ سے انہیں سکیورٹی تک رسائی حاصل تھی۔
عطاء اللہ تارڑ نے سوال اٹھایا کہ طالبان کو تھانوں تک رسائی دینے کی کیا وجہ تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی سے متاثرہ لوگ بھی صوبائی حکومت سے تنگ تھے، کیونکہ ان کے بقول پی ٹی آئی نے دہشت گردوں کو شراکت دار بنا لیا تھا۔
وزیر اطلاعات نے الزام لگایا کہ جن لوگوں نے بھتہ دینے سے انکار کیا، انہیں قتل کیا گیا، جبکہ صوبائی حکومت نے اضلاع دہشت گردوں کے حوالے کر دیے تھے۔
انہوں نے مزید الزام عائد کیا کہ پی ٹی آئی حکومت دہشت گردوں کو پولیس فورس میں بھی شامل کرانا چاہتی تھی اور اس حوالے سے ان کے بقول ناقابل تردید ثبوت موجود تھے۔