بلاول اور زرداری میں استعفوں پر اختلاف کی خبریں بے بنیاد:سعید غنی

انڈپینڈنٹ اردو کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں پیپلز پارٹی رہنما سعید غنی نے کہا کہ 'سینیٹ الیکشن فروری میں کرانے کی جلدبازی کرنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی کو یقین ہے کہ مارچ میں ان کی حکومت نہیں رہے گی اور یہی پی ڈی ایم کی کامیابی ہے۔'

پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما سعید غنی کے مطابق ملک میں جمہوریت کی بحالی کے لیے ہر قسم کی قربانی دی  جاسکتی ہے (سکرین گریب)

پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کی اہم اتحادی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کےسینیئر رہنما سعید غنی نے پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو اور شریک چیئرمین آصف علی زرداری کے درمیان اراکین اسمبلی کے استعفوں پر اختلاف کی خبروں کے حوالے سے انڈپینڈنٹ اردو کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں کہا ہے کہ 'یہ افواہیں حکومت کے لوگ پھیلا رہے ہیں، جن میں کوئی صداقت نہیں۔'

صوبائی وزیر تعلیم سعید غنی نے مزید کہا کہ حکومت مخالف اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد کی کامیاب تحریک کے بعد پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی قیادت کو یقین ہوگیا ہے کہ ان کی حکومت جانے والی ہے۔ 

پی ڈی ایم کی تحریک کے حوالے سے پیپلز پارٹی رہنما سعید غنی نے کہا: 'پی ڈی ایم کی تحریک کی کامیابی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ پی ٹی آئی حکومت سخت پریشان ہے اور حکومت کی جانب سے سینیٹ الیکشن فروری میں کرانے کی جلدبازی کرنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ انہیں یقین ہے کہ مارچ میں ان کی حکومت نہیں رہے گی، یہی پی ڈی ایم کی کامیابی ہے۔'

مسلم لیگ ن، پاکستان پیپلز پارٹی اور جمیعت علمائے اسلام ف سمیت 10 اپوزیشن جماعتوں پر مشتمل پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ نے وزیراعظم عمران خان کی حکومت کے خلاف اکتوبر میں گوجرانوالا سے ملک گیر احتجاجی تحریک کا آغاز کیا تھا۔ گوجرانوالہ، کراچی، کوئٹہ اور لاہور کے جلسوں کے بعد پی ڈی ایم قیادت نے اپنی اتحادی جماعتوں کے اراکین قومی و صوبائی اسمبلی کو 31 دسمبر تک پارٹی قائدین کے پاس استعفے جمع کروانے کی ہدایت کرنے کے ساتھ تحریک انصاف کی حکومت کو مستعفی ہونے کے لیے 31 جنوری تک کی ڈیڈلائن دیتے ہوئے کہا ہے کہ دوسری صورت میں یکم فروری کو لانگ مارچ کی تاریخ کا اعلان کردیا جائے گا۔

پیپلز پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور شریک چیئرمین آصف علی زرداری کے درمیان استعفوں پر اختلاف کی خبریں بھی گردش کر رہی ہیں۔ تاہم سعید غنی نے تردید کرتے ہوئے کہا کہ ایسی خبروں میں کوئی صداقت نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا: 'یہ افواہیں حکومت کے لوگ پھیلا رہے ہیں، جن میں کوئی صداقت نہیں۔ پہلے کہا گیا کہ آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) نہیں ہوگی، جو ہوگئی، پھر کہا گیا کہ پی ڈی ایم کے اتحادی کسی بات پر اتفاق نہیں کریں گے، مگر اتحادی متفقہ طور پر قرداد پیش کرکے احتجاج پر متفق ہوئے۔ حکومت کی جانب سے کی گئی ایسی باتوں میں کوئی صداقت نہیں ہے۔'

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سندھ اسمبلی کو سینیٹ الیکشن سے قبل تحلیل کرنے سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ 'ملک میں جمہوریت کی بحالی کے لیے ہر قسم کی قربانی دی جاسکتی ہے۔'

انہوں نے مزید کہا: 'بلاول بھٹو نے لاہور جلسے میں واضح کردیا تھا کہ پی ڈی ایم جس مقصد کے لیے جدوجہد کررہی ہے، وہ کسی صوبائی اسمبلی سے زیادہ اہم ہے۔ اگر اس ملک میں الیکشن میں مداخلت نہ ہو، سیاسی جماعتیں ووٹ کی بنیاد پر پارلیمنٹ میں اپنا حصہ لے سکیں، تو اس کے سامنے صوبائی حکومت کی قربانی دی جاسکتی ہے'۔

سعید غنی نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی حکومت کو یقین ہے ان کے ارکان اسمبلی انہیں ووٹ نہیں دیں گے اس لیے وہ سینیٹ انتخابات خفیہ رائے شماری کی بجائے شو آف ہینڈ کے ذریعے کروانا چاہتی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست