حکومت، جی ایچ کیو اور پی ڈی ایم کے لیے آگے کا راستہ

اس بڑھتی ہوئی سیاسی تلخی میں فوراً کمی لانے کی ضرورت ہے کیونکہ تینوں فریقوں کی طرف سے بے لچک رویہ ملک کی سالمیت کے لیے خطرناک ہوسکتا ہے۔

ایک راستہ اپوزیشن کا مطالبہ مانتے ہوئے  حکمت عملی کے تحت صرف قومی اسمبلی کو تحلیل  کر کے نئے انتخابات کا ہو سکتا ہے (اے ایف پی)

یہ تحریر آپ یہاں سن بھی سکتے ہیں

 

پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے پہلے جلسے اور اس کے بعد وزیراعظم کے جوابی تابڑ توڑ حملے نے ملک کو ایک خطرناک دوراہے پر لا کھڑا کیا ہے۔

پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ کسی چیف آف آرمی سٹاف کا نام لے کر ہزاروں پاکستانیوں کے ایک عوامی اجتماع میں سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ نواز شریف نے موجودہ سیاسی اور معاشی بدحالی کی تمام ذمہ داری جی ایچ کیو کے دروازے پر ڈال دی ہے۔

وزیر اعظم نے جواب آں غزل میں یہ تاثر دیا جیسے پاکستان میں بادشاہت قائم ہے اور وہ بادشاہ کی حیثیت سے نیب، عدالتوں اور تحقیقاتی اداروں کو حکم دے رہے ہیں کہ وہ حکومت کے مخالفین اور پی ڈی ایم کے رہنماوں سے سختی سے نمٹیں اور انہیں جلد از جلد سزائیں دیں۔ انہوں نے سپیکر قومی اسمبلی کے اختیارات بھی سنبھالتے ہوئے گرفتار ارکانِ اسمبلی کے پروڈکشن آرڈر پر پابندی کا اعلان کیا۔

جوش خطابت میں وزیر اعظم نے خواجہ آصف کی انتخابی جیت کو فوج کی مدد سے منسوب کر کے 2018 کے انتخابات کو نہ صرف مزید متنازع بنا دیا بلکہ اس میں فوج کی مبینہ مداخلت کی بھی تصدیق کر دی۔ جی ایچ کیو کے خود ساختہ سیاسی ترجمان شیخ رشید اپوزیشن کو مسلسل ملک دشمن قرار دے رہے ہیں اور مزید سیاسی حدت بڑھاتے ہوئے انہوں نے مسلم لیگ ن پر پابندی لگانے کا عندیہ بھی دے دیا ہے۔

اس بڑھتی ہوئی سیاسی تلخی میں فوری کمی لانے کی ضرورت ہے کیونکہ تینوں فریقوں کی طرف سے بےلچک نقطہ نظر ملک کی سالمیت کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ تینوں فریق بشمول حکومت، جی ایچ کیو اور حزبِ اختلاف ایک ایک قدم پیچھے ہٹیں اور اپنے اقدامات پر نظرثانی کریں۔

اس بات پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ انہیں ذاتی اور ادارہ جاتی مفادات عزیز ہیں یا ان کے لیے پاکستان کی سیاسی و دفاعی سالمیت بالاتر ہے۔ اس خطرناک صورت حال میں تبدیلی اور اسے ختم کرنے کے لیے ان تینوں فریقوں کے پاس کچھ ممکنہ مگر مشکل راستے موجود ہیں جن کا مندرجہ ذیل سطروں میں جائزہ لیا گیا ہے۔

حکومت

ہر سابق حکومت کی طرح موجودہ حکمرانوں کے پاس بھی پہلا آسان راستہ اس تحریک سے سختی سے نمٹنے کا ہے۔ تمام اہم سیاسی قیادت کو بدعنوانی یا مارکیٹ میں موجود نئے دہشت گردی اور بغاوت جیسے الزامات لگا کر جیل کی یاترا کرا کے عارضی طور پر اس تحریک کی رفتار میں کمی تو لائی جا سکتی ہے مگر موجودہ مخدوش معاشی حالات اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کی وجہ سے خدشہ ہے کہ یہ تحریک ذمہ دار رہنماؤں کی غیرموجودگی میں ناراض اور بپھرے عوام کے ہاتھوں میں چلی جائے جو پہلے ہی بڑھتی ہوئی مہنگائی، بجلی اور گیس کے بلوں سے عاجز آ چکے ہیں۔

سرکاری ملازمین نے بھی حال ہی میں ڈی چوک میں مظاہرے کیے ہیں اور کچھ تو کئی دنوں سے وہیں موجود ہیں۔ سرکاری ملازمین کے دھرنوں اور پی ڈی ایم کے احتجاج میں اور 2014 کے دھرنے میں بہت فرق ہے۔ اس وقت اس قدر مہنگائی نہیں تھی اور غریبوں کا جینا اتنا دو بھر نہیں ہوا تھا۔ دونوں کا موازنہ کرنا اور اس احتجاج کا اسی طرح قدرتی موت مر جانے کی امید کرنا خطرناک غلطی ہو گی۔ اس لیے اس تحریک سے تشدد سے نمٹنے کے راستے سے کچھ فائدہ نہیں ہو گا بلکہ حکومت مزید کمزور اور غیرمقبول ہوتی جائے گی۔ تشدد میں اضافہ اور حکومتی سختی اس کے لیے بین الاقوامی مشکلات میں بھی اضافہ کر سکتی ہے۔

انتخابات؟

دوسرا راستہ اپوزیشن کا مطالبہ مانتے ہوئے ایک حکمت عملی کے تحت صرف قومی اسمبلی کو ختم کر کے نئے انتخابات کا ہو سکتا ہے۔ 2018 کے عام انتخابات مختلف وجوہات اور آر ٹی ایس نظام کو ایک مبینہ سازش کے تحت بند کیے جانے کی بنا پر متنازع ہو چکے ہیں۔ اس قدم سے حزب اختلاف کی جماعتوں کی توجہ فوراً بٹ سکتی ہے اور وہ احتجاج سے ہٹ کر انتخابی عمل میں شامل ہونے پر مجبور ہو جائے گی۔

یہ راستہ اپوزیشن کو تقسیم کر دے گا کیونکہ وہ علیحدہ حیثیت سے انتخابات میں شرکت کے لیے تیاری شروع کر دیں گے بلکہ اس کے باعث حکومت پر پنجاب کی حد تک دباؤ میں بھی کافی کمی لے آئے گا۔ اس سیاسی میلے میں کچھ دیر کے لیے عوام شاید مہنگائی کے معاملے کو اس امید پر پس پشت ڈال دیں کہ نئی وفاقی حکومت اس کا شاید کوئی حل نکال لے گی۔

وفاقی حکومت میں ایک قابلِ اعتبار اور منصفانہ انتخابی تبدیلی شاید موجودہ سیاسی تپش کو کم کر دے مگر اس تبدیلی کے باوجود پنجاب میں حکومت پی ٹی آئی کے پاس ہی رہے گی۔ پی پی پی بھی اس صورت حال سے مطمئن رہے گی کہ سندھ اس کے پاس ہے۔ اگر ن یہ انتخاب جیت جاتی ہے تو اس پر جو نیب کا موجودہ دباؤ ہے اس میں بھی کمی آ جائے گی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

وفاقی حکومت اگر پی ٹی آئی مخالف جماعتوں پر مشتمل ہوتی بھی ہے تو یہ کمزور حکومت ہو گی جس کے پاس پنجاب جیسا بڑا صوبہ نہیں ہو گا۔ یہ بندوبست شاید جی ایچ کیو کو بھی موجودہ مشکلات سے بچ نکلنے کا ایک موقع فراہم کر سکتا ہے۔

جی ایچ کیو

جی ایچ کیو کو پنجاب میں منفی عوامی جذبات پر گہرے غوروفکر کی ضرورت ہے۔ سیاست میں اس کی دلچسپی اور مداخلت پر کبھی بھی پنجاب میں اس کے خلاف آواز نہیں اٹھی تھی۔ اب حالیہ احتجاج میں کھلے عام پنجاب کے دل میں فوجی قیادت پر سخت تنقید اور نعرہ بازی سننے میں آئی ہے۔ یہ رجحان پاکستان کی سلامتی کے لیے کسی طرح بھی موزوں نہیں اور اب ادارے کے طور پر جی ایچ کیو میں اس کے بارے میں سنجیدگی سے غور و خوض ہونا چاہیے۔

جی ایچ کیو کو ایک قدم پیچھے ہٹتے ہوئے سیاسی معاملات سے مکمل علیحدگی اختیار کرنے کی پالیسی پر عمل کرنا چاہیے اور سیاسی رہنماؤں سے ملاقاتیں یا رابطے کرنے سے مکمل اجتناب کرنا چاہیے۔ اس ادارے کو کسی صورت میں سیاسی جوڑ توڑ کا حصہ نہیں ہونا چاہیے اور نہ ہی مبینہ طور پر اسے اپنی ایجنسیوں کو ماضی کی طرح ان مقاصد کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔ حکومت اور حزبِ اختلاف کو اپنے معاملات طے کرنے اور حکمرانی کرنے میں آئین کے تحت کھلی آزادی ہونی چاہیے۔

موجودہ سیاسی حالات سے نمٹنے کے لیے پرانا راستہ مارشل لا کا بھی اختیار کیا جا سکتا ہے لیکن یہ اس لیے بند ہے کہ حکومت اور جی ایچ کیو کے مطابق دونوں ایک ہی صفحے پر ہیں۔ ایک صفحے پر ہوتے ہوئے مارشل لا کے لیے جواز ڈھونڈنا کافی مشکل ہو گا کیونکہ اس صفحے کے مطابق موجودہ حکومت نہ تو بدعنوان ہے اور نہ ہی نااہل، بلکہ سیدھے راستے پر گامزن ہے۔

موجودہ گرما گرم سیاسی صورت حال میں یہ اقدام شدید عوامی غصے اور شاید عدالتی مزاحمت کا بھی سامنا کر سکتا ہے۔ اس قدم سے موجودہ معاشی صورت حال میں مزید ابتری آئے گی اور سیاسی بےچینی میں اضافہ ہو گا۔ اس سے ہماری بین الاقوامی تنہائی کی بھی ابتدا ہو سکتی ہے۔ اس لیے یہ راستہ فی الحال ایک بند گلی کی طرح ہے اور اسے نہ ہی منتخب کرنے میں ملک کی بھلائی ہے۔

حزبِ اختلاف

حزب اختلاف کی جماعتوں کو سوچ سمجھ کے ساتھ حدت بڑھانے کی ضرورت ہے۔ ایسا نہ ہو کہ جمہوریت کو بچاتے ہوئے اس سے ہاتھ دھونا پڑ جائے اور ملک ایک شدید سیاسی اور سلامتی کے بحران کا شکار ہو جائے۔ اگر انہیں فوج کے سیاسی کردار پر اعتراض ہے تو انہیں عوامی طور پر اپنی پرانی غلطیوں کا اعتراف کر کے آگے بڑھنا ہو گا۔ انہیں یہ عہد کرنے کی ضرورت ہے کہ سیاسی معاملات میں نہ تو افواج کو مداخلت کرنے دیں گے اور نہ ہی انہیں سیاسی معاملات میں مدد کے لیے بلائیں گے۔ نواز شریف جہاں اپنی ماضی کی بہت ساری غلطیوں کا اعتراف کر رہے ہیں تو انہیں سابق منتخب وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے خلاف سپریم کورٹ جانے پر بھی معذرت کرنی چاہیے۔

موجودہ حالات میں حزب اختلاف کو اپنی ساری توجہ پہلے وفاقی سطح پر نئے شفاف اور بلامداخلت انتخابات کرانے پر ہونی چاہیے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس سلسلے میں اپنی ٹھوس تجاویز منظر عام پر لائیں جس سے شفاف اور منصفانہ انتخابات ممکن ہو سکیں۔ اس سے زیادہ کی خواہش کرنا اس وقت انتہائی خطرناک ہو سکتا ہے۔


یہ تحریر مصنف کے ذاتی خیالات پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ 

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ