وزارت کے مطابق یہ دعویٰ ’بے بنیاد اور من گھڑت‘ ہے اور اس کا مقصد افغان طالبان کی جانب سے شدت پسند گروہوں، خصوصاً فتنہ الخوارج، کی مبینہ حمایت کو چھپانا ہے۔
این سی سی آئی اے نے عدالت کو بتایا کہ ملزم نے ٹویٹ کو اپنا تسلیم کیا ہے تاہم موبائل فون کا پاس ورڈ فراہم نہیں کیا، جس کے باعث مزید تفتیش ضروری ہے اور جسمانی ریمانڈ دیا جائے۔