صدر مملکت آصف علی زرداری پانچ روزہ سرکاری دورے پر چین روانہ ہوئے ہیں جہاں وہ اقتصادی و تجارتی تعاون اور چین-پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سمیت دو طرفہ تعلقات پر بات چیت کریں گے۔
صدر زرداری یہ دورہ چین کی حکومت کی دعوت پر کر رہے ہیں۔ وہ 25 اپریل کو لاہور سے روانہ ہوئے، جہاں لاہور ایئرپورٹ پر گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان نے صدر پاکستان کو الوداع کیا۔ ان کے دورے کا اختتام یکم مئی 2026 کو ہو گا۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
وزارت خارجہ سے جاری بیان کے مطابق صدر 25 سے 27 اپریل تک صوبہ ہُنان کے شہر چانگشا اور 28 اپریل سے یکم مئی تک صوبہ ہینان کے شہر سانیا کا دورہ کریں گے۔
بیان میں بتایا گیا کہ ’اس دوران وہ صوبائی قیادت کے ساتھ ملاقاتیں کریں گے جن میں پاکستان اور چین کے دوطرفہ تعلقات پر بات چیت کی جائے گی، خاص طور پر اقتصادی و تجارتی تعاون اور چین-پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) پر توجہ مرکوز ہوگی۔‘
وزارت خارجہ کے مطابق: ’یہ دورہ پاکستان اور چین کے درمیان اعلیٰ سطح کے تبادلوں کی دیرینہ روایت کا حصہ ہے اور دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کی 75ویں سالگرہ کے تناظر میں خصوصی اہمیت کا حامل ہے، جو اس سال منائی جا رہی ہے۔ ‘
مزید کہا گیا کہ ’یہ دونوں ممالک کے اس عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ ہر موسم میں قائم رہنے والی سٹریٹجک تعاون پر مبنی شراکت داری کو مزید مضبوط بنایا جائے۔ ‘