’غیر جانبداری کا تقاضا ہے کہ جسٹس عیسیٰ وزیراعظم کا کیس نہ سنیں‘

سپریم کورٹ نے وزیراعظم عمران خان کے خلاف اراکین اسمبلی کو ترقیاتی فنڈز دینے کے کیس کا تحریری فیصلہ جاری کر دیا ہے، جس کے مطابق وفاقی حکومت اور صوبائی حکومتوں کے جواب کے بعد یہ مقدمہ نمٹایا جاتا ہے۔

سپریم کورٹ کی عمارت کا ایک منظر (فائل تصویر: اے ایف پی)

سپریم کورٹ نے وزیراعظم عمران خان کے خلاف اراکین اسمبلی کو ترقیاتی فنڈز دینے کے معاملے پر کیس کا تحریری فیصلہ جاری کر دیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو وزیراعظم سے متعلق مقدمات نہیں سننے چاہییں، کیونکہ انہوں نے وزیراعظم عمران خان کے خلاف ایک مقدمہ دائر کر رکھا ہے۔

چیف جسٹس گلزار احمد کی جانب سے جمعرات کو جاری کیے گئے تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ ’جسٹس قاضی فائز عیسیٰ انصاف کے تقاضوں اور غیرجانبداری کے پیش نظر وزیراعظم عمران خان سے متعلق مقدمات نہ سنیں۔‘

تحریری فیصلے میں مزید کہا گیا کہ ’اس کیس میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کےجوابات کے بعد مزید کارروائی کی گنجائش نہیں ہے۔‘

دوران سماعت جسٹس فائز عیسیٰ کی جانب سے وٹس ایپ پر نامعلوم ذرائع سے بعض دستاویزات ملنے کے ریمارکس کے معاملے پر فیصلے میں کہا گیا کہ ’جسٹس فائز عیسیٰ کو دستاویزات کے درست ہونےکا خود بھی علم نہیں تھا۔‘

مزید کہا گیا کہ وفاقی حکومت اور صوبائی حکومتوں کے جواب کے بعد مقدمہ نمٹایا جاتا ہے۔

چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی لارجر بینچ نے جمعرات کو مذکورہ درخواست پر سماعت کی تھی، جس کے دوران سیکرٹری خزانہ کی جانب سے جمع کروائے گئے جواب پر وزیراعظم کے دستخط بھی موجود تھے، جس میں وزیراعظم نے اراکین اسمبلی کو ترقیاتی فنڈز دینے کی خبر کی تردید کی تھی۔

سپریم کورٹ نے وزیراعظم پاکستان کا داخل کردہ جواب تسلی بخش قرار دیتے ہوئے مقدمہ نمٹا دیا تھا۔ اس موقع پر جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے: ’وزیر اعظم کا جواب کافی مدلل ہے اور عدالت اس سے مطمئن ہے۔‘

وزیراعظم کے دستخط دیکھنے کے بعد جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا تھا کہ ’کیا وزیر اعظم ذاتی حیثیت میں جوابدہ تھے؟ وزیر اعظم کو آئینی تحفظ حاصل ہے۔‘ انہوں نے مزید ریمارکس دیے: ’وزیر اعظم اس وقت جوابدہ ہیں جب معاملہ ان سے متعلقہ ہو، حکومت جوابدہ ہو تو وزیراعظم سے نہیں پوچھا جا سکتا۔‘

اس موقع پر جسٹس عمر عطا بندیال نے اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’اٹارنی جنرل صاحب کوئی غیر قانونی حکم جاری نہ کرنے دیا کریں۔‘

لارجر بینچ میں شامل جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے: ’میرا نہیں خیال کہ آرٹیکل 248 سیاست کے حوالے سے وزیراعظم کو تحفظ دیتا ہے۔ ‘

جس پر جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ’عدالتی حکم میں جواب وزیراعظم کے سیکرٹری سے مانگا گیا تھا، حکومت سیکریٹریز کے ذریعے چلائی جاتی ہے۔‘

اٹارنی جنرل پاکستان نے بھی وزیراعظم سے جواب مانگنے پر اعتراض کر دیا تو جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا کہ ’جو اعتراض آج کر رہے ہیں، وہ کل کیوں نہیں کیا۔‘

جس پر اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ ’آئینی سوال کسی بھی سطح پر اٹھایا جا سکتا ہے۔ ‘

واضح رہے کہ گذشتہ روز اس کیس کی سماعت کے دوران جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی تجویز پر عدالت نے ہدایت دی تھی کہ وزیراعظم کے سیکرٹری کا جواب نہیں چاہیے بلکہ سیکرٹری خزانہ اس معاملے پر تحریری جواب جمع کروائیں اور جواب میں وزیراعظم کے دستخط موجود ہونے چاہییں۔

اس مکالمے کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’جج صاحب (جسٹس قاضی فائز عیسیٰ) اور وزیراعظم ایک مقدمے میں فریق بھی ہیں۔‘

جسٹس فائز عیسیٰ نے دوران سماعت انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ ’کل مجھے واٹس ایپ پر کسی نے کچھ دستاویزات بھیجی ہیں، جس میں بتایا گیا کہ حلقہ این اے 65 میں حکومتی اتحادی کو بھاری بھرکم فنڈز جاری کیے گئے ہیں۔ حلقہ این اے 65 کا رکن حکومت کی اتحادی پارٹی کا ہے۔ ‘

ساتھ ہی جسٹس عیسیٰ نے استفسار کیا کہ ’کیا سڑک کی تعمیر کے لیے مخصوص حلقوں کو فنڈز دیئے جا سکتے ہیں؟ کیا حلقے میں سڑک کے لیے فنڈز دینا قانون کے مطابق ہے؟ ہم دشمن نہیں، عوام کے پیسے اور آئین کے محافظ ہیں۔ امید ہے آپ بھی چاہیں گے کہ کرپشن پر مبنی اقدامات نہ ہوں۔‘

وٹس ایپ کے حوالے پر اٹارنی جنرل خالد جاوید نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو جواب دیا کہ ’وٹس ایپ والی دستاویزات آپ کی شکایت ہے، جائزہ لیں گے۔‘

جواباً جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ’مجھے شکایت کنندہ نہ کہیں، میں صرف نشاندہی کر رہا ہوں۔ آپ نےشاید میری بات ہی نہیں سنی۔‘

اٹارنی جنرل نے جواب دیتے ہوئے کہا: ’آپ کافی دیر سے آبزرویشن دے رہے ہیں، بات تو میری نہیں سنی گئی۔ آپ کے وٹس ایپ پر میسج آیا آپ شکایت کنندہ ہیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جس پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ’ہم دشمن نہیں، چاہتے ہیں کہ آئین پر عمل ہو اور کرپٹ پریکٹس ختم ہو، گذشتہ روز ٹویٹس کی فوج میرے خلاف رہی، اس کا ذکر نہیں چاہتا۔ الیکشن کمیشن کا فرض ہے کہ وہ کرپٹ پریکٹس روکے۔‘

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے مزید ریمارکس دیے کہ ’کیا وزیراعظم کا کام لفافے تقسیم کرنا ہے؟ وزیراعظم نے کہا کہ پانچ سال کی مدت کم ہوتی ہے۔ وزیراعظم کو چاہیے کہ ووٹ میں توسیع کے لیے اسمبلی سے رجوع کریں۔‘

اس موقع پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے: ’ہم وزیراعظم آفس کو کنٹرول نہیں کر رہے۔‘

گذشتہ روز اس مقدمے کی پہلی سماعت میں بلوچستان، خیبر پختونخوا اور پنجاب نے اپنا جواب جمع کروا دیا تھا اور فنڈز کی ترسیل کے حوالے سے عدالت کو آگاہ کیا تھا۔ جب کہ سندھ حکومت نے اپنا جواب عدالت کو آج جمع کروایا جس میں بتایا گیا کہ سندھ حکومت نے کسی رکن اسمبلی کو ترقیاتی فنڈ جاری نہیں کیا۔ ارکان اسمبلی کو ترقیاتی فنڈز آئین اور سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق دیے جائیں گے۔ ترقیاتی فنڈز دینے کے لیے اسمبلی میں ڈرافٹ پیش کرنا ہوتا ہے۔

واضح رہے کہ تین فروری کو سپریم کورٹ میں ایک کیس کے دوران جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وزیراعظم کی جانب سے ارکان اسمبلی کو ترقیاتی فنڈز دینے کے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے سوال اٹھائے تھے کہ ’کیا وزیراعظم کا ترقیاتی فنڈز دینا آئین، قانون اور عدالتی فیصلوں کے مطابق ہے؟ اگر یہ ترقیاتی فنڈز آئین قانون کے مطابق ہوئے تو یہ کیس ختم کردیں گے لیکن اگر ترقیاتی فنڈز کا معاملہ آئین کے مطابق نہ ہوا تو پھرکارروائی ہو گی۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان