جوائے لینڈ: ’یہ ایوارڈ پورے ملک کی کامیابی ہے‘

اس فلم کو ایوارڈ ملنے کے بعد انڈپینڈنٹ اردو نے فلم کے پروڈیوسر سرمد کھوسٹ جو کین سے پاکستان پہنچے ہیں، سے ملاقات کرکے اس فلم کے بارے میں بات کی۔

(سکرین گریب)

فرانس کے شہر کین میں ہونے والے عالمی فلمی میلے میں پاکستانی فلم ’جوائے لینڈ‘ کو اس کیٹیگری میں بہترین فلم کا جیوری ایوارڈ دیا گیا ہے۔ یہ کین کے فلمی میلے میں پاکستان کا پہلا ایوارڈ ہے۔

جوائے لینڈ کے ہدایت کار صائم صادق ہیں اور اسے سرمد کھوسٹ نے پروڈیوس کیا ہے۔

اس فلم کی کہانی لاہور کے ایک ایسے گھرانے کی ہے جہاں گھر کا چھوٹا بیٹا، جس سے توقع تھی کہ وہ بیٹا پیدا کرکے نسل آگے بڑھائے گا، ایک ڈانس تھیٹر میں شامل ہوجاتا ہے اور وہاں ایک ٹرانس جینڈر لڑکی کے عشق میں مبتلا ہوجاتا ہے۔

اس فلم کو ایوارڈ ملنے کے بعد انڈپینڈنٹ اردو نے فلم کے پروڈیوسر سرمد کھوسٹ سے ملاقات کرکے اس فلم کے بارے میں بات کی۔

اپنے پہلے اور خصوصی انٹرویو میں سرمد کھوسٹ نے کہا کہ دوست احباب کے ساتھ ساتھ وہ تمام لوگ جو اس فلم سے منسلک نہیں ہیں وہ بھی اس فلم کے ایوارڈ جیتنے پر فخر محسوس کررہے ہیں۔ ’فلم نہ تو کسی ایک انسان کی کاوش ہوتی ہے، اور نہ اس کی کامیابی کسی ایک کی ہوتی ہے، یہ پورے ملک کی کامیابی ہے، ہم خوش ہیں اور فخر محسوس کررہے ہیں‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’جذبات بہت غیر معمولی ہیں مگر وہ ساتھ ساتھ اپنے قدم زمین پر رکھنا چاہ رہے ہیں۔‘

سرمد کھوسٹ نے بتایا کہ فلم ’جوائے لینڈ‘ صائم صادق کی تخلیق ہے، جن سے ان کا پرانا تعلق ہے، اور انہوں نے سرمد کو مور محل کے دوران اسسٹ کیا تھا، تو اس وقت سے ہی ان کے اندر کہانی سنانے کا جذبہ تھا پھر انہوں نے کولمبیا سے تعلیم لی، اس کی فلم ’ڈارلنگ‘ وینس فلم فیسٹیول میں ایوارڈ جیت چکی ہے، زندگی تماشا میں صائم صادق نے سرمد کی مدد کی تھی۔

سرمد کھوسٹ نے بتایا کہ ’صائم صادق نے ایک دن مجھ سے کہا کہ انہیں پاکستان میں ’جوائے لینڈ‘ کے لیے پروڈیوسر چاہیے، تو پروڈیوسر ڈھونڈنے کے عمل میں انہوں نے مجھ کہا کہ آپ کرلیں تو میں نے سوچا کہ پروڈیوس کیے ہوئے بہت عرصہ ہوگیا ہے تو چلو اسے کرتے ہیں، کیونکہ اس کا سکرپٹ بہت خوبصورت اور دل سے لکھا ہوا تھا‘، تو وہ اس میں شامل ہوگئے۔

سرمد نے بتایا کہ اس فلم میں کھوسٹ فلمز کے علاوہ اپوروا گروچرن بھی پروڈیوسر ہیں جو انڈین امریکن ہیں، اس کے بعد صائم صادق نے بطور ہدایت کار اسے تخلیق کیا۔

جوائے لینڈ اہور میں فلمائی گئی ہے، اس بارے میں سرمد کا کہنا تھا کہ کچھ جگہوں پر آؤٹ ڈور شوٹنگ میں کچھ معاملات ہوتے ہیں لیکن کوئی بڑا مسئلہ اس فلم کو بناتے ہوئے نہیں پیش آیا۔

سرمد کھوسٹ نے بتایا کہ ’کین چونکہ سب سے بڑا فلم فیسٹیول ہے تو اس میں شرکت کا سادہ سا طریقہ ہے کہ فلم بھیجی جاتی ہے، جس کے بعد وہ فیصلہ کرتے ہیں کہ آپ کی فلم منتخب ہوئی یا نہیں۔‘

 سرمد نے بتایا کہ ’انہوں نے زندگی تماشا بھی بھیجی تھی مگر وہ منتخب نہیں ہوسکی تھی۔‘

’کین فلم فیسٹیول جس سطح کا فیسٹیول ہے، وہاں فلم کے علاوہ کوئی اور سلسلہ چل نہیں سکتا۔‘

سرمد کھوسٹ نے بتایا کہ فرانس کے شہر کین میں جب ان کی فلم دکھائی گئی تو وہ ہال مکمل طور پر بھرا ہوا تھا، فلم کے بعد وہ لوگ جو ہماری زبان بھی نہیں جانتے تھے، ان لوگوں نے کوئی دس منٹ سے زیادہ وقت تالیاں بجائیں، اور وہ سب اس وقت بہت جذباتی ہورہے تھے۔

 سرمد کھوسٹ کا کہنا تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کا بہت شکر ادا کرتے ہیں کہ ان کی محنت رنگ لے آئی۔

سرمد نے کہا کہ فلم کا موضوع ایسا ہے کہ اسے بنانے کے لیے حساس ہونا چاہیے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سرمد نے کہا کہ ’جوائے لینڈ کا ایک کردار ایک ٹرانس جینڈر لڑکی کا ہے، اب پاکستان تو دنیا کے ان چند ممالک میں سے ہے جہاں ٹرانس جینڈر کو تسلیم کرکے ان کے شناختی کارڈ بنائے گئے ہیں، جب کہ دنیا کہ کئی ممالک میں ابھی اس جانب پیش رفت نہیں ہوسکی ہے۔ اس موضوع کے لیے دل گردہ نہیں بلکہ دل اور حساسیت چاہیے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’اگر کسی چیز کو دور رکھا جائے یا اس سے دوری اختیار کی جائے تو اسے متنازع کہہ دینا آسان ہوتا ہے، یہی ان کے ساتھ فلم زندگی تماشا میں بھی ہوا تھا۔ ٹریلر دیکھ کر لگتا ہے کہ ناجانے کیا کہہ دیا گیا ہے مگر ایسا ہوتا نہیں ہے۔‘

جوائے لیںڈ کی پاکستان میں نمائش کے بارے میں سرمد کھوسٹ کا کہنا تھا کہ ’پاکستانی فلم ہے، پاکستان میں بنی ہے، پاکستانی اداکاروں کے ساتھ بنی ہے، پاکستانی زبان میں بنی ہے، اس لیے اس کی پاکستان میں نمائش ضرور ہوگی، ابھی تو اس کا ایک طرح سے ورلڈ پریمیئر ہوا ہے۔‘

سرمد نے کہا کہ ’پاکستانی فلمی صنعت کو اس ایوارڈ سے کافی فائدہ ہوگا کیونکہ ہم پاکستان میں موجود چند سکرینز تک ہی محدود ہیں، ہم اب اسے عالمی سطح پر لے جاسکتے ہیں، نئے فلم ساز آئیں گے، فلم کا سکیل بڑھ جائے گا اور یہ ایک نیا راستہ کھلا ہے۔‘

سرمد کھوسٹ کی بطور ہدایت کار ایک فلم ’کملی‘ تین جون کو ریلیز ہو رہی ہے۔ اس کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ان کی رائے میں پاکستانی فلمی دنیا میں جو اتنے قابل لوگ ہیں انہیں ان کے انداز مین کہانی سنانے کا موقع دینے کی ضررت ہے۔

’اس وقت پاکستان میں ایک فارمولے کے تحت کام ہورہا ہے، جس سے لوگ اب اکتا چکے ہیں۔ کملی بہت دل سے بہت احتیاط سے بنائی ہوئی فلم ہے، اس میں میوزک اور لوکیشن سمیت ایک فلم کے تمام لوازمات ہیں، مگر فارمولے استعمال نہیں کیے گئے اور اپنے انداز میں کہانی سنانے کی کوشش کی گئی ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی فلم