ہنسی کرونیے کی موت: قتل یا حادثہ؟

جنوبی افریقہ کی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان آج سے ٹھیک 20 سال پہلے طیارہ حادثے کا شکار ہوئے تھے، مگر ان کی موت آج تک معمہ ہی ہے۔

ہنسی کرونیے 23 جون 2000 کو کنگز کمیشن کے سامنے اپنے جرم کا اعتراف کرتے ہوئے (فائل فوٹو: اے ایف پی)

یکم جون 2002 کا دن کرکٹ کی تاریخ میں کھیل کے حوالے سے تو کوئی خاص اہمیت نہیں رکھتا لیکن اس دن ایک ایسے کھلاڑی کی موت کی خبر سامنے آئی جس نے میچ فکسنگ کے جرم کا اعتراف کر کے خود کو سزا کے لیے پیش کیا تھا۔

اس کھلاڑی کے اعتراف نے فکسنگ کا جال بھی بےنقاب کیا اور آئی سی سی کو موقع فراہم کیا کہ وہ اس کے خلاف سخت اقدامات کر سکے۔

یہ کھلاڑی جنوبی افریقی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان ہنسی کرونیے تھے، جو آج سے ٹھیک 20 سال قبل طیارے کے حادثے میں ہلاک ہو گئے، لیکن ساتھ ہی بہت سے سوال چھوڑ گئے۔ آج تک لوگ ان کی موت کے بارے میں قیاس آرائیاں کرتے ہیں اور اسے حادثہ نہیں بلکہ قتل سمجھتے ہیں۔

دلیر کھلاڑی

کرکٹ کی تاریخ میں میچ فکسنگ کے بہت سے واقعات نظر آتے ہیں، تاہم بہت کم ایسے ہیں جن میں فکسنگ میں ملوث کھلاڑیوں نےاعتراف کیا ہو کہ وہ میچ فکسنگ کرتے رہے ہیں۔

کرکٹ فکسنگ میں ملوث اظہر الدین اور سلیم ملک سے لے کر سلمان بٹ اور محمد آصف تک کسی نے اپنے جرم کا اعتراف نہیں کیا اور نہ ہی فکسنگ کے جال کو بےنقاب کیا۔

یہ ہنسی کرونیے تھے جنہوں نے عین اپنے عروج کے دور میں میچ فکسنگ میں ملوث ہونے کا کھلم کھلا اعتراف کیا۔

کرونیے کو جون 2000 میں ایک عدالتی کمیشن میں تحقیقات کے بعد تاحیات پابندی کی سزا سنائی گئی تھی، لیکن محض دو سال بعد وہ ایک جہاز کریش میں ہلاک ہو گئے۔

کرکٹ سے معطلی کے بعد کرونیے جوہانسبرگ میں ایک کنسٹرکشن کمپنی میں بحیثیت اکاؤنٹنٹ کام کر رہے تھے جبکہ ان کی رہائش پر تعیش علاقے فین کورٹ میں تھی۔ وہ ہر ویک اینڈ پر اپنے گھر چلے جاتے تھے اور پیر کی صبح دوبارہ کام پر پہنچ جاتے۔

 31 مئی 2002 کی شام وہ اپنے شہر جارج جانے کے لیے تیار تھے تاہم ٹریفک میں پھنس جانے کے باعث وقت پر ایئرپورٹ نہ پہنچ سکے اور ان کی فلائٹ چھوٹ گئی۔

کرونیے نے اس صورت حال سے نمٹنے کے لیے ایک چھوٹی ایئر کارگو کمپنی سے بات کر رکھی تھی کہ وقت پڑنے پر ان کے کارگو جہازمیں سفر کر سکیں۔

کرونیے کی کمپنی اگرچہ ان کے چارٹرڈ ہوائی سفر کے اخراجات برداشت کرنے کے لیے تیار تھی لیکن انہوں نے مفت سفر کو ترجیح دی کیوں کہ وہ کمپنی کا پیسہ بچانا چاہتے تھے۔

کارگو جہاز کی مالک کمپنی ان سے پیسے نہیں لیتی تھی اور بدلے میں جہاز کا پائلٹ ویک اینڈ کسی ہوٹل کے بجائے کرونیے کے گھر پر گزارتا تھا۔

یکم جون کی صبح چھ بجے جہاز نے بلوم فاؤنٹین سے اڑان بھری اور صبح سات بجے اسے جارج ٹاؤن میں اتر جانا تھا لیکن بدقسمتی سے یہ جہاز جارج ایئر پورٹ سے ایک ہزار میٹر قبل پہاڑی سلسلے میں گر کر تباہ ہو گیا۔

جہاز کے دونوں پائلٹ اور ہنسی کرونیے بھی اس حادثے میں ہلاک ہو گئے، جن کی لاشیں بعد میں ریسکیو اہلکاروں نے دریافت کیں۔

صرف 32 سال کی عمر میں ایک شاندار کیریئر کا حامل کھلاڑی دنیا سے چلا گیا، جس نے اپنے جرم کا اعتراف کرکے سب کو حیران کردیا تھا۔ ان کی اس اخلاقی جرات کو ہر جگہ سراہا گیا تھا اور جنوبی افریقہ کے سابق صدر نے ان کی موت پر کہا تھا کہ ’ایک بہادر انسان، جس نے ہمت اور دلیری کے ساتھ اپنی زندگی کو دوبارہ بنانا شروع کیا تھا، بہت جلدی چلا گیا۔‘

کرکٹ کی دنیا میں اس موت نے ہلچل مچا دی اور ہر ایک اس غم میں ڈوب گیا۔

کرونیے فکسنگ کے جال میں کیسے پھنسے؟

ہنسے کرونیے کے لیے 1996 کا دورہ بھارت بدقسمت ثابت ہوا تھا، جب ان کی ملاقات ایک بدنام زمانہ سٹہ باز مکیش سے ہوئی۔ مکیش نے انہیں کہا کہ وہ 30 ہزار ڈالر لے کر ٹیسٹ میچ آخری دن ہار جائیں۔ کرونیے نے چپکے سے یہ رقم رکھ لی اور کسی ساتھی کو کچھ نہیں بتایا، البتہ ان کی کوشش کے بغیر ہی جنوبی افریقہ یہ ٹیسٹ ہار گیا اور غیر دانستہ طور پر سٹہ بازوں کا مقصد پورا ہو گیا۔

اس سے قبل 1995 میں پاکستان کے دورے کے دوران ایک میچ سے قبل بھی انہیں فکسنگ کی پیشکش ہوئی تھی، جس کے دوران انہیں ایک سٹے باز نے کہا تھا کہ اگر وہ میچ ہار جائیں تو دس ہزار ڈالر ملیں گے۔ کرونیے نے یہ پیشکش ٹھکرا دی، تاہم کرپشن کا بیج بو دیا گیا تھا، جو آگے چل کر تناور درخت بن گیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

1996 میں بھارت میں پھر آخری ایک روزہ میچ میں انہیں پیشکش ہوئی کہ وہ اگر میچ ہار جائیں تو انہیں ڈھائی لاکھ ڈالر بدلے میں ملیں گے۔ کرونیے اس وقت تک سٹہ بازوں کی گرفت میں آ چکے تھے اور دولت کی لالچ انہیں شکنجے میں جکڑ رہی تھی۔

 لیکن پھر بھی انہوں نے ٹیم میٹنگ بلائی اور اس بارے میں آگاہ کیا۔ پوری ٹیم نے اس پیشکش کو قبول کرنے سے انکار کر دیا، جس پر پیشکش مسترد ہو گئی، لیکن کچھ کھلاڑی اس پر آمادہ تھے اور میچ میں بری کارکردگی کے لیے تیار تھے۔

1996 میں ہی جب بھارت نے جنوبی افریقہ کا جوابی دورہ کیا تو مشہور سٹے باز ساتھ پہنچا اور ٹیم سلیکشن اور پہلے ٹیسٹ میں اننگز ڈیکلیئر کے سکور کی معلومات 50 ہزار ڈالر میں خریدیں۔

اس نے کرونیے کو تیسرا ٹیسٹ ہارنے پر تین لاکھ ڈالر کی پیشکش کی جو کرونیے نے ٹھکرا دی۔ اس کے بعد بھی کرونیے بکیز کے ریڈار پر رہے لیکن وہ ہاتھ نہ آئے۔

بھارتی پولیس کا دعویٰ

سنچورین ٹیسٹ کا بھانڈا جب پھوٹا تو بھارتی پولیس نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے ہنسی کرونیے اور بکیز کے درمیان ایک ٹیلی فون کال ٹیپ کی ہے جس میں لین دین کی گفتگو ہو رہی ہے۔ پولیس نے ہرشل گبز اور ولیمز کو بھی شامل تفتیش کیا تھا، جس کے باعث گبز نےاگلے سالوں میں بھارت کا دورہ کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

خیال کیا جاتا ہے کہ بھارتی سٹے بازوں کے آپس کی رنجشوں کے باعث کسی سٹے باز نے پولیس کو مخبری کر دی تھی۔

سنچورین ٹیسٹ کا نتیجہ

14 جنوری 2000 کو جنوبی افریقہ اور انگلینڈ کے درمیان پانچواں ٹیسٹ سنچورین میں کھیلا گیا۔ سیریز جنوبی افریقہ پہلے ہی جیت چکا تھا اس لیے ٹیسٹ کے نتیجے میں کسی کو دلچسپی نہیں تھی۔ دوسری طرف بارش کے باعث پہلے دن کے بعد تین دن کھیل نہ ہو سکا، جس سے کھلاڑیوں کے ساتھ ساتھ تماشائیوں میں مایوسی پھیلی ہوئی تھی۔

میچ کے چوتھے دن کرونیے کو ایک ٹیلی فون کال آئی، جس میں فون کرنے والا اپنا تعارف مارلن ایرونسٹیم کہہ کر کراتا ہے لیکن یہ نہیں بتاتا کہ وہ کھیلوں پر شرطیں لگانے والی کمپنی این ایل ایس کا نمائندہ ہے اور خود بھی پرانا سٹہ باز ہے۔

اس نے ایک کرکٹ شائق کے طور پر تعارف کراتے ہوئے کہا کہ وہ چاہتا ہے ’میچ کا کوئی نتیجہ نکلے جو آپ کر سکتے ہیں۔‘ کرونیے حیران تھے کہ اس شخص کو ان کا نمبر کیسے ملا۔

کنگز کمیشن کے سامنے کرونیے نے اعتراف کیا کہ ایرونسٹیم نے انہیں راضی کیا کہ وہ اگر انگلینڈ کے کپتان ناصر حسین سے بات کرلیں کہ دونوں ٹیمیں اگر اپنی ایک ایک اننگز ختم کر دیں تو انگلینڈ کو دوسری اننگز میں ایک ہدف مل جائے گا اور یوں میچ کا نتیجہ برآمد ہو سکتا ہے۔

کرونیے نے اس بات پر ناصر حسین اور اپنے بورڈ کے ساتھ ساتھ انگلش بورڈ کو بھی راضی ہو گیا۔ ناصر نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ ’میں اس کے لیے ابتدا میں آمادہ نہیں تھا لیکن پھر میچ کو نتیجہ خیز بنانے کے لیے تیار ہو گیا۔‘

میچ میں ناصر حسین اور کرونیے 249 رنز کے ہدف پر راضی ہو گئے، جو انگلینڈ نے آخری اوور میں پورا کر کے میچ جیت لیا۔

انگلینڈ کے کپتان ناصر حسین نے کرونیے کی بےحد تعریف کی کہ انہوں نے ایک اکتائے ہوئے دن کو بہترین مقابلے میں بدل دیا۔ کسی کے گمان میں بھی نہیں تھا کہ اس کرکٹ سے محبت کے پس منظر میں کرپشن ہو رہی ہے۔

میچ ختم ہونے کے بعد کرونیے شکست خوردگی کی اداکاری کرتے اور شائقین سے داد وصول کرتے رہے۔ بہترین اداکاری کرنے کے بعد رات کو وہ اپنا معاوضہ وصول کرنے پہنچ گئے۔

اس ڈکلیریشن اور میچ کے نتیجے پر بھارت کے سٹےبازوں نے شور مچانا شروع کر دیا کہ فکسنگ ہوئی ہے، کیونکہ یہی فکسنگ وہ کرنا چاہتے تھے لیکن ہنسی کرونیے ہاتھ نہیں آ رہے تھے۔ جب زیادہ شور مچا تو میڈیا تک بھی سن گن پہنچ گئی، جس میں بھارتی میڈیا سب سے آگے تھا۔

اعتراف اور کنگز کمیشن

ہنسے کرونیے اس ٹیسٹ کے بعد ہر روز ایک نئی خبر اور تجزیوں کا سامنا کر رہے تھے۔ روز روز کی خبروں، افواہوں اور مفروضوں سے تنگ آ کر انہوں نے زندگی کا سب سے بڑا فیصلہ کر لیا۔ وہ صورت حال سے تنگ آ چکے تھے اور ان کی بہت زیادہ کردار کشی ہو رہی تھی۔

انہوں نے سنچورین ٹیسٹ کے تین ماہ بعد بہادر لوگوں کی طرح جنوبی افریقی کرکٹ بورڈ کے صدر کے سامنے میچ فکسنگ اور معلومات بیچنے کا اعتراف کر لیا۔

ان کے اعتراف سے بھونچال سا آگیا۔ ان سے فوری استعفیٰ لے لیا گیا اور ایک جج جسٹس ایل کنگ کی سربراہی میں انکوائری کمیشن قائم کیا گیا جس نے ایک ماہ تک مسلسل سماعت کی اور کھلاڑیوں کے بیانات ریکارڈ کیے۔ پیٹ سمکوکس، ہرشل گبز، نکی بوئیے اور ہنری ولیمز نے گواہی دی کہ کرونیے نے انہیں پیشکش کی تھی کہ اگر بری کارکردگی دکھائیں تو بڑی رقم مل سکتی ہے۔

کنگز کمیشن نے ہنسی کرونیے اور ساتھیوں کے بیانات قلمبند کیے۔ سب سے اہم گواہی ایک سٹہ باز مارلون اینسٹورم کی تھی جس نے گواہی دی کہ اس نے پانچ ہزار پاؤنڈ اور ایک قیمتی لیدر جیکٹ معلومات کے بدلے دی تھی۔

جنوبی افریقی کرکٹ بورڈ نے کنگز کمیشن کے فیصلے کی روشنی میں ہنسی کرونیے پر تاحیات پابندی لگا دی اور یوں ایک شاندار کرکٹر ہمیشہ کے لیے کرکٹ سے دور ہو گیا۔ کنگز کمیشن کی سفارشات کی روشنی میں ہرشل گبز پر بھی چار مہینے کی پابندی لگائی گئی۔

جبکہ بکیز اپنی جگہ رہے اور فکسنگ کے لیے دوسرے کھلاڑیوں پر ڈورے ڈالتے رہے۔

زبردست کرکٹر

اگر کرونیے کے کرکٹ کیریئر کو دیکھا جائیے تو وہ بےمثال نظر آتا ہے۔ انہوں نے ایک ناتجربہ کار ٹیم کو فاتحانہ بریگیڈ میں تبدیل کر دیا تھا۔ نسلی امتیاز کے خاتمے کی بعد جنوبی افریقہ کی نئی ٹیم کے وہ 1992 میں مستقل رکن بن گئے۔

اپنے پہلے ٹیسٹ میں ویسٹ انڈیز کے خلاف وہ کچھ زیادہ اچھی کارکردگی کا مظاہرہ نہ کر سکے لیکن ٹیم کے مستقل رکن بن گئے اور مسلسل ٹیسٹ میچ کھیلنے لگے۔

ان کی قائدانہ صلاحیتں دیکھتے ہوئے بورڈ نے انہیں کیپلر ویسلز کی جگہ مستقل کپتان بنا دیا تو ان کی صلاحیتیں مزید نکھر گئیں۔

انہوں نے 53 ٹیسٹ میچوں میں کپتانی کی جن میں سے 27 ٹیسٹ جیتے۔ انہیں ساؤتھ افریقہ کا سب سے کامیاب کپتان ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔

ہنسی کرونیے نے 68 ٹیسٹ میچوں میں 3714 رنز بنائے، جن میں چھ سنچریاں شامل ہیں جبکہ ایک روزہ کرکٹ میں بھی انہوں نے 5514 رنز بنائے۔ وہ ایک اچھے آل راؤنڈر تھے۔ انہوں نے 150 سے زائد انٹرنیشنل وکٹیں بھی لیں۔

وہ سکول کے زمانے ہی سے زبردست کرکٹر تھے، جس کی وجہ سے وہ صرف 20 سال کی عمر میں قومی ٹیم کا حصہ بن گئے۔

کرونیے کی سب بڑی صلاحیت ان کی کپتانی تھی۔ وہ فیلڈ میں ایک زبردست قائد نظر آتے تھے اور بروقت دلیرانہ فیصلے کرنے کی شہرت رکھتے تھے۔ وہ اپنے بولروں کو خوبی سے استعمال کرتے تھے اور مخالف ٹیم کی کمزوریاں بھانپ لیتے تھے۔

قومی ہیرو

جب 2002 میں ان کا جہاز کریش ہوا تو پورے ملک میں غم کی لہر دوڑ گئی کیونکہ اعتراف جرم نے ان کا قد مزید بڑھا دیا تھا اور لوگ بجائے نفرت کے ان سے محبت کرنے لگے تھے۔

ان کی موت کو جنوبی افریقہ کا قومی نقصان قرار دیا گیا، جس نے ہر آنکھ کو نم کر دیا۔ ایک سروے میں جنوبی افریقہ کے متاثر کن افراد میں وہ پہلے دس میں شامل تھے۔ اس سے ان کی مقبولیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ وہ کرکٹ کے میدان سے باہر بھی ایک کرشماتی شخصیت کے مالک تھے اور لوگ ان سے جلد متاثر ہو جایا کرتے تھے۔

قتل یا حادثہ؟

ہنسی کرونیے کا جہاز کریش ہونے کی کوئی بڑی وجہ سامنے نہیں آئی اور اسے پائلٹ کی غلطی قرار دیا گیا، لیکن کسی نے یہ تحقیق کرنے زحمت نہیں کی کہ آخر پائلٹ نے لینڈنگ پروسیجر کیوں تبدیل کیا اور 13 دفعہ الارم بجنے کے باوجود کہ جہاز زمین سے بہت قریب ہو رہا ہے، کی وارننگ کو نظر انداز کرتا رہا۔ یہ ایک غفلت اور لاپروائی کی بدترین مثال تھی۔

جہاز مسلسل نیچے پرواز کرتے ہوئے آخر کار رن وے سے 400 میٹر قبل پہاڑوں میں ٹکرا گیا۔ کیا پائلٹ یہ سب کچھ نہیں دیکھ رہے تھے؟ کیا جہاز کے آلات میں کوئی خرابی کر دی گئی تھی جو پائلٹ کو نظر نہیں آ رہی تھی؟

کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ ہنسی کرونیے مزید راز کھولنے والے تھے، جس سے کچھ بکیز اور سٹے میں ملوث افراد پریشان تھے اور زبان بندی چاہتے تھے۔ سب سے تشویشناک بات یہ ہے کہ اس حادثے کی سنجیدہ تحقیقات نہیں کی گئیں۔  

ایک زبردست کرکٹر اور بے مثال قائد بہت جلد کرکٹ بھی چھوڑ گیا اور دنیا سے بھی چلا گیا۔

ہنسی کرونیے کی حادثاتی موت ہمیشہ ایک راز رہے گی لیکن ان کا بہادری سے اعتراف جرم اور معافی ان کے لیے کرکٹ کے شائقین کے دل میں محبت مزید بڑھاتی رہے گی۔

ہنسی کرونیے آج نہیں ہیں لیکن ان کی دلیرانہ شخصیت کا تاثر آج بھی برقرار ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی کرکٹ