پائپ لائن میں پھنسا انقلاب

جیسے بھگت سنگھ اور حسرت موہانی کی انقلابی سوچ، جیل کی روداد اور قربانیوں پہ کتابیں لکھی گئی ہیں، ایسے ہی پبلک کو انقلاب کی سڑک دکھا کر خود سائیڈ پکڑنے والے منتشر خیال اشخاص پہ بھی کتابیں ہونی چاہییں۔

راولپنڈی میں 25 مئی 2022 کو سیاسی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے حامی ایک احتجاج میں (اے ایف پی)

یہ تحریر کالم نگار کی زبانی سننے کے لیے کلک کیجیے

 

عمران خان کو چار برس دے کہ بھی دیکھ لیا کہ مقبول بیانیے کی حکومت، جنونی انقلاب کا تگڑا نعرہ، لٹیروں کے حساب کتاب کا وعدہ اور ایک پیج کا دعویٰ محض ایک خمار ہی تھا۔

ڈی چوک 2014 نے جس انقلاب کا راستہ دکھایا تھا وہ سراب تھا، خواب تھا۔ یہ میں نہیں پاکستان کے پچھلے چار برس کہہ رہے ہیں۔ اس سے بہتر تھا نئے فائیو جی (ففتھ جنریشن) انقلاب کے مفکر نئے دور کے نئے اقوال زریں کی کوئی کتاب لکھ لیتے، کوئی پرجوش ملی نغمہ ہی آ جاتا یا کوئی ہاؤسنگ سوسائٹی لانچ کر لیتے، یہ قوم کو پائپ لائن میں پھنسے ہوئے انقلاب کے انتظار میں کہاں لگا دیا؟

بھارتی تاریخ دان ایس حبیب عرفان نے اخبار انڈین ایکسپریس میں انقلاب زندہ باد کے پاپولر نعرے کے پیچھے کارفرما آئیڈیلزم پر ایک آرٹیکل لکھا، جس میں سیاسی انقلاب کے دو ہیرو مولانا حسرت موہانی اور بھگت سنگھ کا تذکرہ کیا گیا ہے۔

آزادی ہند کے رہنما اور اردو شاعر مولانا حسرت موہانی پہ ’انقلاب زندہ باد‘ کا نعرہ جچتا تھا۔ مولانا حسرت موہانی کی شخصیت اور طبیعت پہ سید سلیمان ندوی کا ایک مضمون پڑھ لیں، ایک انقلابی سیاسی رہنما کی تصویر سامنے آ جائے گی۔ یہ مضمون حسرت کی کتاب ’قیدِ فرنگ‘ کے دیباچے میں موجود ہے۔

حسرت اپنے اشعار میں اپنا مسلک بغاوت لکھا کرتے تھے، اپنا سماجی و سیاسی نظریہ جمہور کی آزادی اور سیاسی جدوجہد کا راستہ انقلاب بتایا کرتے تھے۔

انگریز سے آزادی کا مطلب کبھی امپورٹڈ کپڑا تک زیب تن نہ کیا۔ اپنے انقلابی نظریے پہ ایسے اڑے رہتے تھے کہ بقول سلیمان ندوی یہ گاندھی اور محمد علی جناح کی موجودگی میں بھی اپنے شدید انقلابی سیاسی نظریے کے ساتھ مقبول بیانیے سے مخالفت کرتے تھے بلکہ اسے ببانگ دہل اپنانے سے باز نہیں آتے تھے۔

مسلم لیگ میں موجود مصلحت پسندوں کو جس واحد شخص کی مخالفت کا سامنا رہتا تھا وہ حسرت موہانی تھے۔

حسرت موہانی ’اردو معلیٰ‘ کے نام سے رسالہ نکالا کرتے تھے، مقصد تو ترویج اردو تھا مگر پھر یہ رسالہ انگریز سرکار پہ تنقیدی مقالوں کے لیے مشہور ہو گیا، یہاں تک کہ یہ برسوں انگریز سرکار کی قید میں رہے۔ جیل کاٹی۔ یہ شعر تو سنا ہو گا:

ہے مشق سخن جاری، چکی کی مشقت بھی
اک طرفہ تماشا ہے حسرت کی طبیعت بھی

اس جیسے کئی اشعار حسرت نے برٹش سرکار کی جیل میں قید تنہائی کاٹتے ہوئے لکھے۔ آزاد ہوئے تو پھر وہی انقلاب زندہ باد۔

اب قارئین کو اگر سماجی انقلاب کے ان خوابوں کا عکس دکھایا جو بھگت سنگھ کی آنکھوں نے دیکھے تھے تو مضمون خاصا لمبا ہو جائے گا۔ بس اتنا سن لیجیے کہ وہ انقلاب زندہ باد کا نعرہ لگا کر پھانسی چڑھ گیا۔

ان دونوں انقلابیوں کا نظریہ صرف انگریز سرکار سے نفرت پہ مبنی نہ تھا، اس میں مذہب کے فرق سے پرے ایک ایسے نظام کا قیام تھا جس میں سب کو برابری ملے، اپنی زمین پہ اپنی حکومت ہو۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

برصغیر کی جدوجہد آزادی میں قائداعظم اور گاندھی کی سیاسی مہارت کے پیچھے حسرت موہانی جیسوں کی انقلابی سوچ کارفرما تھی۔ یہ پبلک کو خون بہانے پہ اکسانے سے پہلے اپنا خون پیش کرنے والے تھے۔

سیاسی انقلاب کے حوالے سے ایک تازہ مثال ایران کے اسلامی انقلاب کی دی جاتی ہے۔ ایران کے سیاسی خدوخال بعد میں جو بھی بنے مگر 1979 کا ایرانی انقلاب کرپٹ حکومت کے خلاف عوامی غصے کا شاخسانہ تھا۔ امیر اور اشرافیہ کے فرق سے لوگ تنگ تھے، اخبارات حکومت کی کرپشن اور نااہلی کا رونا روتے تھے ایسے میں شاہ ایران کو امریکہ کی تھپکی جلتی پہ تیل تھا۔ 78 سے 79 تک ایران بھر میں وقفے وقفے سے مظاہرے ہوئے، روزانہ درجنوں ہلاکتیں ہوتی رہیں یہاں تک کہ شاہ ایران کو فرار ہونا پڑا، اور خمینی کی قیادت کی نئی حکومت نیا نظام بن گیا۔

انقلاب ایران سے ایران کے عوام کو کیا ملا، یہ ایک الگ بحث ہے، مگر یہ رپورٹڈ حقیقت ہے کہ اس انقلاب کا ایندھن صرف عوام ہی نہیں تھے بلکہ جانی و مالی نقصان اٹھانے والوں میں وہ دینی طبقہ بھی شامل تھا جنہیں بعد میں اقتدار ملا۔

پولیٹیکل سائنس میں سیاسی انقلاب بطور مضمون پڑھایا جاتا ہے، سیانے برسوں انقلابات پہ تحقیق کرتے ہیں، اس لیے میرے اس ایک کالم سے انقلاب کے محاسن کا احاطہ اور تنقیدی جائزہ ممکن نہیں۔ لیکن آخر کے چند جملوں میں ایک پیغام ہے جو اگر میرے پڑھنے والوں تک پہنچ جائے۔

جیسے تاریخ میں بہت سے سر پھروں نے اپنی جان کی بازی لگا کر سماجی و سیاسی انقلاب کا نعرہ لگایا ایسے ہی بہت سے نوسربازوں نے معصوم عوام کے سینوں کی آڑ لے کہ جعلی انقلاب کے نعرے بھی لگائے ہیں۔

جیسے بھگت سنگھ اور حسرت موہانی کی انقلابی سوچ، جیل کی روداد اور قربانیوں پہ کتابیں لکھی گئی ہیں، ایسے ہی پبلک کو انقلاب کی سڑک دکھا کر خود سائیڈ پکڑنے والے منتشر خیال اشخاص پہ بھی کتابیں ہونی چاہییں۔

ضروری نہیں کہ جو انقلاب زندہ باد کا نعرہ لگائے وہ واقعی سٹیٹس کو کے خلاف برسر پیکار بھی ہو۔ اس کی بھی کوئی ضمانت نہیں کہ کوئی پسینے میں شرابور ہو کر کنٹینر پہ کھڑا ہو اور نوجوانوں کے جذبہ جنون کو انقلاب کی دعوت دے وہ خود بھی اس کے لیے تیار ہو۔


نوٹ: یہ تحریر مصنف کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، ادارے کا اس سے متفق ہونا لازمی نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ