وفاقی ویزر برائے ترقی و منصوبہ بندی احسن اقبال نے اس تاثر کو مسترد کر دیا ہے کہ جمعرات کو ایک لائیو شو کے دوران کسی نے ’زبردستی‘ انہیں آف ایئر ہونے کو کہا۔ ساتھ ہی انہوں نے درخواست کی کہ اسے ’سیاسی رنگ‘ نہ دیا جائے۔
سوشل میڈیا پر جمعرات کی شب ایک ویڈیو وائرل ہوئی، جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ وفاقی وزیر احسن اقبال اے آر وائے نیوز کے پروگرام ’الیونتھ آور‘ میں میزبان وسیم بادامی سے محوِ گفتگو ہوتے ہیں کہ اچانک پس منظر سے آواز آتی ہے ’بند کرو اسے،‘ جس کے بعد احسن اقبال منظر سے ہٹ جاتے ہیں۔
اس صورت حال پر میزبان وسیم بادامی پریشانی کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’میں امید کرتا ہوں کہ سب ٹھیک ہو۔‘
اس کے ساتھ ہی وہ مائیک پر پروگرام پروڈیوسر سے پوچھتے ہیں کہ ’احسن اقبال صاحب اپنے گھر سے (پروگرام میں لائیو) تھے؟ مجھے نہیں معلوم کہ وہاں پر کیا ہوا۔‘
“بند کرو اسے” ۔
— Rizwan Ghilzai (Remembering Arshad Sharif) (@rizwanghilzai) December 25, 2025
لائیو پروگرام کے دوران وفاقی وزیر احسن اقبال سے کسی نے زبردستی ویڈیو بند کروا دی۔ حیران کن مناظر pic.twitter.com/HwhSVPFiRl
تھوڑی ہی دیر میں یہ کلپ سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا اور ہر طرح کی قیاس آرائیاں شروع ہو گئیں اور اس حوالے سے تبصرے ہونے لگے کہ شاید احسن اقبال سے کسی نے ’زبردستی‘ کیمرہ بند کروایا ہے۔
تاہم اینکر اجمل جامی نے ایکس پر ان قیاس آرائیوں کو غلط قرار دیتے ہوئے لکھا کہ ویڈیو کلپ دیکھنے کے بعد انہوں نے احسن اقبال سے بات کی اور وہ ٹھیک ہیں۔
اجمل جامی کے مطابق احسن اقبال نے بتایا کہ ’اسلام آباد میں ان کی رہائش گاہ پر اہل خانہ کی ایک محفل تھی، اسی دوران بچے اچانک ان کے سٹڈی روم میں آ گئے۔ وہ کچھ ہی دیر بعد دوبارہ پروگرام میں شامل ہو گئے۔‘
After watching the clip, I spoke to @betterpakistan. He said there was a family gathering at his Islamabad residence when children unexpectedly entered his study. He rejoined the show shortly after. @WaseemBadami can confirm.
— Ajmal Jami (@ajmaljami) December 25, 2025
Paayen? @WaseemBadami ! https://t.co/NJwibH9VgB
ساتھ ہی انہوں نے میزبان وسیم بادامی کو ٹیگ کرتے ہوئے لکھا کہ وہ ’اس کی تصدیق کر سکتے ہیں۔‘
وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات عطا تارڑ نے بھی اجمل جامی کی بات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا: ’جی ہاں، میں نے بھی ان (احسن اقبال) سے بات کی۔ بچے اچانک دوڑتے ہوئے سٹڈی روم میں آ گئے تھے۔ سب خیریت ہے اور وہ دوبارہ شو میں شامل ہو گئے ہیں۔‘
Yes I also spoke to him. Kids came into the study running unexpectedly. All is well and he has rejoined the show https://t.co/JE5iuSDeR2
— Attaullah Tarar (@TararAttaullah) December 25, 2025
تاہم سوشل میڈیا صارفین کو یہ بات ’ہضم‘ نہیں ہوئی اور انہوں نے سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ وہ آواز کسی ’بچے‘ کی نہیں بلکہ ’بالغ مرد‘ کی تھی۔ کچھ لوگوں کا یہ بھی کہنا تھا کہ کسی بچے کا احسن اقبال کو ’بند کرو اسے‘ کہنا تمیز کے دائرے میں نہیں آتا۔
بعدازاں رات گئے وفاقی وزیر احسن اقبال نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں وضاحت کرتے ہوئے اس معاملے کو ’سیاسی رنگ‘ نہ دینے کی درخواست کی۔
احسن اقبال نے لکھا: ’آپ کی تشویش بھرے پیغامات کا شکریہ۔ براہِ راست نشریات کے دوران ایک مختصر خلل پیش آیا، جب قریب موجود ایک شخص کسی بحث میں مصروف تھا اور اسے معلوم نہیں تھا کہ میں لائیو آن ایئر ہوں۔‘
Thank you for the messages of concern. A brief disruption occurred during a live broadcast when someone nearby having an argument was unaware that I was live on air.
— Ahsan Iqbal (@betterpakistan) December 25, 2025
I rejoined the interview shortly afterward. I hope we can avoid unnecessary politicisation of this. https://t.co/c4opMKphqS
انہوں نے مزید لکھا: ’میں تھوڑی ہی دیر بعد دوبارہ انٹرویو میں شامل ہو گیا۔ مجھے امید ہے کہ ہم اس معاملے کو غیر ضروری طور پر سیاسی رنگ دینے سے گریز کریں گے۔‘