’بند کرو اسے‘: وفاقی وزیر احسن اقبال لائیو شو کے دوران آف ایئر کیوں ہوئے؟

سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں وفاقی وزیر احسن اقبال  اے آر وائے نیوز کے پروگرام میں میزبان وسیم بادامی سے محوِ گفتگو ہوتے ہیں کہ اچانک پس منظر سے آواز آتی ہے ’بند کرو اسے،‘ جس کے بعد احسن اقبال منظر سے ہٹ جاتے ہیں۔

سوشل میڈیا پر جمعرات کی شب ایک ویڈیو وائرل ہوئی، جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ وفاقی وزیر احسن اقبال  اے آر وائی نیوز کے پروگرام ’الیونتھ آور‘ میں میزبان وسیم بادامی سے محوِ گفتگو ہوتے ہیں کہ اچانک پس منظر سے آواز آتی ہے ’بند کرو اسے،‘ جس کے بعد احسن اقبال منظر سے ہٹ جاتے ہیں (ویڈیو سکرین گریب)

وفاقی ویزر برائے ترقی و منصوبہ بندی احسن اقبال نے اس تاثر کو مسترد کر دیا ہے کہ جمعرات کو ایک لائیو شو کے دوران کسی نے ’زبردستی‘ انہیں آف ایئر ہونے کو کہا۔ ساتھ ہی انہوں نے درخواست کی کہ اسے ’سیاسی رنگ‘ نہ دیا جائے۔

سوشل میڈیا پر جمعرات کی شب ایک ویڈیو وائرل ہوئی، جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ وفاقی وزیر احسن اقبال  اے آر وائے نیوز کے پروگرام ’الیونتھ آور‘ میں میزبان وسیم بادامی سے محوِ گفتگو ہوتے ہیں کہ اچانک پس منظر سے آواز آتی ہے ’بند کرو اسے،‘ جس کے بعد احسن اقبال منظر سے ہٹ جاتے ہیں۔  

اس صورت حال پر میزبان وسیم بادامی پریشانی کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’میں امید کرتا ہوں کہ سب ٹھیک ہو۔‘

اس کے ساتھ ہی وہ مائیک پر پروگرام پروڈیوسر سے پوچھتے ہیں کہ ’احسن اقبال صاحب اپنے گھر سے (پروگرام میں لائیو) تھے؟ مجھے نہیں معلوم کہ وہاں پر کیا ہوا۔‘

تھوڑی ہی دیر میں یہ کلپ سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا اور ہر طرح کی قیاس آرائیاں شروع ہو گئیں اور اس حوالے سے تبصرے ہونے لگے کہ شاید احسن اقبال سے کسی نے ’زبردستی‘ کیمرہ بند کروایا ہے۔

تاہم اینکر اجمل جامی نے ایکس پر ان قیاس آرائیوں کو غلط قرار دیتے ہوئے لکھا کہ ویڈیو کلپ دیکھنے کے بعد انہوں نے احسن اقبال سے بات کی اور وہ ٹھیک ہیں۔

اجمل جامی کے مطابق احسن اقبال نے  بتایا کہ ’اسلام آباد میں ان کی رہائش گاہ پر اہل خانہ کی ایک محفل تھی، اسی دوران بچے اچانک ان کے سٹڈی روم میں آ گئے۔ وہ کچھ ہی دیر بعد دوبارہ پروگرام میں شامل ہو گئے۔‘

ساتھ ہی انہوں نے میزبان وسیم بادامی کو ٹیگ کرتے ہوئے لکھا کہ وہ ’اس کی تصدیق کر سکتے ہیں۔‘

وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات عطا تارڑ نے بھی اجمل جامی کی بات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا: ’جی ہاں، میں نے بھی ان (احسن اقبال) سے بات کی۔ بچے اچانک دوڑتے ہوئے سٹڈی روم میں آ گئے تھے۔ سب خیریت ہے اور وہ دوبارہ شو میں شامل ہو گئے ہیں۔‘

تاہم سوشل میڈیا صارفین کو یہ بات ’ہضم‘ نہیں ہوئی اور انہوں نے سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ وہ آواز کسی ’بچے‘ کی نہیں بلکہ ’بالغ مرد‘ کی تھی۔ کچھ لوگوں کا یہ بھی کہنا تھا کہ کسی بچے کا احسن اقبال کو ’بند کرو اسے‘ کہنا تمیز کے دائرے میں نہیں آتا۔

بعدازاں رات گئے وفاقی وزیر احسن اقبال نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں وضاحت کرتے ہوئے اس معاملے کو ’سیاسی رنگ‘ نہ دینے کی درخواست کی۔

احسن اقبال نے لکھا: ’آپ کی تشویش بھرے پیغامات کا شکریہ۔ براہِ راست نشریات کے دوران ایک مختصر خلل پیش آیا، جب قریب موجود ایک شخص کسی بحث میں مصروف تھا اور اسے معلوم نہیں تھا کہ میں لائیو آن ایئر ہوں۔‘

انہوں نے مزید لکھا: ’میں تھوڑی ہی دیر بعد دوبارہ انٹرویو میں شامل ہو گیا۔ مجھے امید ہے کہ ہم اس معاملے کو غیر ضروری طور پر سیاسی رنگ دینے سے گریز کریں گے۔‘

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی سوشل