ماؤنٹ بیٹن پلان، جس نے مسلم لیگ کو بند گلی میں دھکیل دیا

آج سے ٹھیک 75 سال پہلے جلدبازی میں پیش کیے جانے والا انڈین انڈپینڈنس ایکٹ مجریہ 1947، جس کے اثرات آج بھی برصغیر میں محسوس کیے جا رہے ہیں۔

لیڈی اور لارڈ ماؤنٹ بیٹن 1947 میں قائد اعظم کے ساتھ (پبلک ڈومین)

تین جون 1947، تقسیم ہندوستان کے لیے لارڈ ماؤنٹ بیٹن کا پیش کردہ تقسیمِ ہند کا منصوبہ، جس نے آل انڈیا مسلم لیگ کو ایک ایسی بند گلی میں لا کھڑا کیا جس کی وجہ سے آج تک مسلم لیگ کی قیادت اور قائد اعظم پر تنقید ہوتی ہے اور انہیں بنگال اور پنجاب کے قوم پرستوں کی طرف سے تقسیم، فسادات اور جبری نقل مکانی کا مجرم ٹھہرایا جاتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ اس میں جناح کی رضامندی سے زیادہ اس وقت کے وائسرائے لارڈ ماؤنٹ بیٹن کی ہٹ دھرمی اور نہرو اور پٹیل کی طرف سے مسلم اکثریتی صوبوں میں آئے روز ہونے والی فرقہ وارانہ بدامنی سے چھٹکارا پا لینے کی خواہش کا زیادہ عمل دخل ہے۔

جبکہ تقسیم کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات کی زیادہ ذمہ داری ایک جذباتی لگاؤ کی بنا پر سوچے سمجھے بغیر دو ماہ بعد 15 اگست 1947 کی تاریخ مقرر کر دینے پر لارڈ ماؤنٹ بیٹن پر عائد ہوتی ہے جنہوں نے اس وقت مسلم لیگ اور کانگریس کی مشترکہ عبوری حکومت سے رائے لینا بھی مناسب نہیں سمجھا۔ اس کے بعد پنجاب سمیت برصغیر کے بہت سے علاقوں میں امن و امان کے معاملات ہاتھ سے نکلتے چلے گئے۔

عام خیال کے برعکس تین جون 1947 کے منصوبے میں تقسیم ہند یا قیام پاکستان کا حتمی منصوبہ نہیں تھا، البتہ اس میں پاکستان کے قیام کے امکان کو مسلم اکثریتی صوبوں کی حد تک اصولی طور پر قبول کر لینے کا عندیہ دیا گیا اور اس سلسلے میں فیصلے کا اختیار یا تو مسلم اکثریتی صوبوں کی صوبائی اسمبلیوں کو دیا گیا تھا یا پھر کچھ صوبوں میں بذریعہ استصواب رائے عوام سے یہ فیصلہ کیا جانا تھا کہ وہ پاکستان میں شامل ہونا پسند کرتے ہیں یا نہیں۔

یہ پلان صرف ایک تجویز کی حیثیت رکھتا تھا اور اپنے نفاذ کے لیے مکمل طور پر کانگریس اور مسلم لیگ کی توثیق سے مشروط تھا۔ تمام جماعتوں اور برادریوں سے رضامندی ملنے کے بعد اسے برطانوی پارلیمنٹ سے توثیق حاصل کرنے کے لیے بھیجا جانا تھا۔

منصوبے کے چیدہ چیدہ نکات

  1. برصغیر میں دو الگ الگ مملکتیں قائم کر دی جائیں جو شروع میں نوآبادیاتی حیثیت (dominions)کی حامل ہوں گی۔
  2. پنجاب اور بنگال کو مذہبی بنیادوں پر دو حصوں میں تقسیم کر دیا جائے گا لیکن اس کی منظوری پہلے ان صوبوں کی صوبائی اسمبلیوں سے لینا ہو گی جس کے بعد حدبندی کمیشن مقرر کیے جائیں گے۔
  3. سندھ اور آسام کے پاکستان یا بھارت میں شمولیت کا فیصلہ ان صوبوں کی اسمبلیاں کریں گی۔
  4. صوبہ سرحد اور سلہٹ کے ضلع میں استصواب رائے کرایا جائے گا جس کے بعد یہ فیصلہ ہو گا کہ وہاں کے باشندے کس ملک میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔
  5. آزاد ریاستوں کو یہ اختیار دے دیا جائے گا کہ وہ ہر دو مملکتوں میں سے کسی ایک کے ساتھ الحاق کر لیں۔
  6. برصغیر کی مسلح افواج اور مشترکہ اثاثوں کی تقسیم کر دی جائے گی۔

مسلم لیگ نے تین جون 1947 کے منصوبے کو کیوں قبول کیا؟

یہ سوال اکثر اٹھایا جاتا ہے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ مسلم لیگ تقسیم ہندوستان کے اپنے مطالبے کے بنیادی جزو یعنی تمام مسلم اکثریتی صوبوں کو پاکستان میں شامل کرنے کے بنیادی مطالبے سے دستبردار ہو گئی اور مسلمانوں کے آبادی اور رقبے کے لحاظ سے دو اہم ترین صوبوں کا جغرافیائی بٹوارہ کرنے پر راضی ہو گئی؟

اس سوال پر تمام بڑے تاریخ نگاروں کا تقریباً اتفاق نظر آتا ہے کہ مذہبی بنیادوں پر تقسیم ہندوستان کے مطالبے پر انتہائی پوزیشن لینے بعد مسلم لیگ ایک ایسی بند گلی میں داخل ہو گئی تھی جہاں اس کے پاس تقسیم زدہ صوبوں پر مشتمل ایک ملک کو قبول کرنے یا صوبائی خودمختاری کی حامل متحدہ ہندوستانی فیڈریشن کو قبول کرنے کے سوا اور کوئی چارہ نہ تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

 لیری کالنز اور ڈومینیک لیپئیر اپنی کتاب ’ماؤنٹ بیٹن اور تقسیم ہندوستان‘Larry Collins and Dominique Lapierre, Mountbatten and the Partition of India, Volume 1 میں لارڈ ماؤنٹ بیٹن سے ہوئی اپنی سلسلہ وار گفتگو کو نقل کرتے ہیں۔ اس گفتگو میں لارڈ ماؤنٹ بیٹن جگہ جگہ جناح کے بارے میں یہ اعتراف کرتے نظر آتے ہیں کہ متحدہ ہندوستان کی راہ میں حائل واحد رکاوٹ صرف اور صرف محمد علی جناح تھے۔ جناح کی تقسیم ہندوستان کے اگلے ہی برس وفات کے تناظر میں ماؤنٹ بیٹن یہاں تک کہتے ہیں کہ اگر جناح دو برس پہلے وفات پا جاتے تو برصغیر کو متحد رکھنا عین ممکن تھا۔

ماؤنٹ بیٹن جہاں جناح کی ناقابل تسخیر شخصیت اور استدلال کی زبردست طاقت کا اعتراف کرتے ہیں وہاں جناح کے پاکستان میں غیر منقسم پنجاب اور غیر منقسم بنگال کی شمولیت کے مطالبے کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں، ’کٹے پھٹے (mouth eaten) پاکستان کی پیشکش اصلاً جناح کو تقسیم ہندوستان سے روکنے کے لیے آخری حربے کے طور پر کی گئی تھی۔‘

ماؤنٹ بیٹن کے بقول انہوں نے جناح کے سامنے یہ دلیل رکھی تھی کہ جب آپ کسی طور بھی مسلم اقلیت پر ہندو اکثریت کی حکمرانی کے امکان کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں تو پھر بنگال اور پنجاب بھی ہندوستان کے ملک کی مانند ایسے ہی وسیع خطے ہیں جہاں ایک قابل لحاظ ہندو اور سکھ اقلیت موجود ہے جو اس صوبے کی کل آبادی کے 45 فیصد تک ہیں۔ اس صورت حال میں ان صوبوں کی مذہبی بنیادوں پر مزید تقسیم بھی آپ کو قبول کرنا ہو گی کیونکہ یہی بات آپ کے اپنے موقف کی تائید میں ہے۔ دوسری صورت میں کانگریس کے مطالبے کے مطابق تمام صوبائی اکائیوں کو برقرار رکھتے ہوئے ایک متحدہ ریاست ہی عمل میں لائی جا سکتی ہے جس میں مسلم اکثریتی صوبوں کے مفادات کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ایک ڈھیلی ڈھالی فیڈریشن کا قیام ممکن ہے۔

 15 اگست 1947، یوم آزادی کا تعین

تین اگست 1947 کے منصوبے میں تقسیم ہندوستان کے بنیادی خدوخال تو طے کیے گئے تھے مگر اس منصوبے کی تکمیل کے لیے کسی خاص دن کا تعین نہیں تھا۔ اگرچہ اس سے پہلے برطانوی وزیراعظم ایٹلی جون 1948 تک ہندوستان کو آزادی دینے کا اعلان کر چکے تھے لیکن اس منصوبے میں کسی بھی حتمی تاریخ کا ذکر موجود نہیں تھا۔

دراصل 15 اگست 1947 کی تاریخ لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے اس منصوبے کے رسمی اعلان کے بعد ایک پریس کانفرنس میں ایک ہندوستانی صحافی کی طرف سے منصوبے پر عمل درآمد کی حتمی تاریخ کے سوال پر دی تھی اور یہ کہا جاتا ہے کہ انہوں فوری طور اسی وقت اپنے ذہن میں امڈ آنے والی ایک تاریخ کا ہندوستان کی آزادی کی تاریخ کے طور پر اعلان کر دیا تھا اور اس سلسلے میں نہ تو ہندوستان کی سیاسی قیادت کو پہلے اعتماد میں کیا گیا تھا اور نہ ہی اس کے لیے برطانوی حکومت سے کوئی پیشگی منظوری لی گئی تھی۔

15 اگست 1947 کو لارڈ ماؤنٹ بیٹن کی طرف سے بطور یوم آزادی چننے کی وجہ بہت دلچسپ ہے۔ اس تاریخ کے ساتھ دراصل لارڈ ماؤنٹ بیٹن کا ایک جذباتی لگاؤ تھا۔ لارڈ ماؤنٹ بیٹن اس سے پہلے برما کے محاذ پر بطور سپریم کمانڈر خدمات سرانجام دے چکے تھے اور یہی وہ تاریخ تھی جب دو سال قبل یعنی 1945 میں جاپانی افواج نے برما کے محاذ پر اپنی شکست کا اعلان کیا تھا۔

 آل انڈیا ریڈیو پر ماؤنٹ بیٹن، پنڈت نہرو، قائداعظم اور بلدیو سنگھ نے خطاب کیا اور اس منصوبے پر اپنی غیر رسمی رضامندی ظاہر کر دی۔

ہندوستان کے تمام مذہبی اور سیاسی گروہوں سے منظوری ملنے کے بعد لارڈ ماؤنٹ بیٹن کے منصوبے کو برطانوی پارلیمان نے قانون آزادی ہند مجریہ انیس سو سینتالیس کے عنوان سے قانون کی صورت میں منظور کر لیا اور یوں 14 اگست 1947 کی رات 12 بجے ہندوستان لارڈ ماؤنٹ بیٹن کی سوچی ہوئی تاریخ پر دو آزاد ریاستوں میں تقسیم ہو گیا۔

زیادہ پڑھی جانے والی تاریخ