مہنگائی سے نمٹنے کے سات طریقے

کچھ ایسی تجاویز جو آپ کو مہنگائی کی تلاطم خیز موجوں سے بحفاظت اور باآسانی گزار کر کنارے لگا سکتی ہیں۔

10 جون 2020 کی اس تصویر میں راولپنڈی میں ایک مزدور دو سڑکوں کے درمیان بیٹھا ہوا ہے۔ مہنگائی میں اضافے نے مزدور طبقے کو خاص طور پر متاثر کیا ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی) 

پاکستان میں رواں ہفتے پیٹرول کی قیمتوں میں 60 روپے کے اضافے نے غریب اور متوسط طبقے کے ساتھ ساتھ متمول طبقے میں بھی تشویش کو جنم دیا ہے کیونکہ پیٹرول اور ڈالر کی قیمتیں بڑھنے سے دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

اس صورت حال کے حوالے سے سوشل میڈیا پر آج کل یہ بحث مباحثے بھی ہورہے ہیں کہ ایک ایسا وقت آنے والا ہے جب ’سروائیول آف دی فٹسٹ‘ ہوگا، یعنی بقا اس کی ہی ہوگی جو حالات کے لیے سب سے زیادہ موزوں ہوگا۔

تاہم اس کا یہ ہرگز مطلب نہیں کہ ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر حالات کا تماشہ دیکھا جائے، سرپیٹا جائے یا پھر حکومت کی کسی نئی حکمت عملی کا انتظار کیا جائے۔ ہم سب کو فوراً سے پیشتر خود ایک ایسا لائحہ عمل ترتیب دینے کی ضرورت ہے جو مہنگائی سے نمٹنے میں معاون ثابت ہو۔

اس سلسلے میں ذیل میں کچھ ایسی تجاویز پیش کی جارہی ہیں، جو آپ کو مہنگائی کی تلاطم خیز موجوں سے بحفاظت اور باآسانی گزار کر کنارے لگا سکتی ہیں۔

1- منصوبہ بندی کیجیے

مہنگائی دراصل طلب اور رسد میں عدم توازن کا نتیجہ ہوتی ہے، جسے قابو کرنے کا ایک انتہائی اہم حل منصوبہ بندی کرنا ہے کیونکہ اس کی عدم موجودگی ہی غیرضروری خریداری اور وقت اور پیسے کے ضیاع کو جنم دیتی ہے۔

مہنگائی میں اضافے کے بعد ضروری ہوگیا ہےکہ زندگی کو ایک ترتیب کے ساتھ سوچ سمجھ کر گزارا جائے، ورنہ عین ممکن ہے کہ گھریلو بجٹ بے قابو ہوجائے۔

لہذا اب جو بھی کام کرنے کا ارادہ ہو، چاہے کسی جگہ سفر کرنا ہو، خریداری کرنی ہو، اسے ایک ڈائری میں نوٹ کیاجائے۔ اس منصوبہ بندی کی بدولت گاڑی بار بار گھر سے نکالنے کی ضرورت نہیں پڑے گی اور ایک ہی مرتبہ میں زیادہ سے زیادہ کام ہوسکیں گے۔

اسی طرح بازار جانے سے قبل اشیا کی فہرست بنانے سے جہاں غیر ضروری خریداری سے بچاجاسکتا ہے، وہیں ڈائری کے نوٹس آنے والے دنوں میں کسی سفر کی تاریخ یاد دلانے میں مدد دیں گے اور آپ غیر ضروری سبزی اور پھل خریدنے سے بچ جائیں گے۔

2-  اخراجات کا جائزہ لیں

کہتے ہیں کہ مہنگائی آپ کو کتنا متاثر کرتی ہے، اس کا دارومدار آپ کے پیسے خرچ کرنے کی عادات پر ہے، لہذا ضروری ہے کہ پہلے اپنے اخراجات کا جائزہ لیا جائے کہ آپ کی عادات کیا ہیں اور آپ کہاں کہاں پیسے خرچ کرتے ہیں؟

اپنے آپ سے یہ سوال کریں کہ آیا جن چیزوں پر آپ پیسے خرچ کرتے ہیں، ان کی آپ کو واقعی ضرورت ہے یا آپ عادتاً ذخیرہ اندوزی کرتے رہتے ہیں۔

اخراجات میں کمی لانے کے لیے چند اقدامات یہ ہیں:

-آن لائن غیر ضروری سبسکرپشنز کو ختم کردیں۔

- فون بل پری پیڈ کریں۔

- اگر گھر میں کوئی اخبار نہیں پڑھتا تو اسے رکوا دیں اور آن لائن خبریں پڑھا کریں۔

-اگر جم نہیں جاتے تو اس کی ممبرشپ ختم کردیں اور اس کی جگہ گھر پر ورزش یا پارک میں چہل قدمی کریں۔

3- پیٹرول کی بچت کریں

پیٹرول کی بچت کرنے کے لیے زیادہ سے زیادہ پبلک ٹرانسپورٹ یا ٹرانسپورٹ شیئرنگ سے فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے، جیسے کہ میٹرو، بی آر ٹی وغیرہ۔ علاوہ ازیں، اوبر اور کریم جیسی سروسز میں بھی اکثر ’کار پولنگ‘ کا آپشن موجود ہوتا ہے، جس میں ایک ساتھ دو یا دو سے زیادہ لوگ اکھٹے سفر کر سکتے ہیں۔

گھر کے نزدیک مارکیٹ، بینک یا پارک وغیرہ جانے کے لیے پیدل چلنے یا سائیکل کا استعمال کرنے سے جہاں صحت مندانہ عادات پیدا ہوں گی، وہیں پیٹرول کی بھی بچت ہوگی۔

گاڑی خریدتے وقت ہائبرڈ گاڑی کو مدنظر رکھاجائے، کیونکہ یہ گاڑیاں فیول کے لحاظ سے بہت کم خرچ واقع ہوئی ہیں۔ پیٹرول کی بچت کرنے میں جو دیگر عوامل معاون ثابت ہوتے ہیں، ان میں ایکسیلیریٹر کو ہلکا دبانا، کم سپیڈ پر چلنا اور گاڑی کو ہموار چلانا شامل ہیں۔ اس کے علاوہ گاڑی کے ٹائر اگر پوری طرح سے ہوا سے بھرے ہوئے نہ ہوں تو یہ بھی پیٹرول زیادہ خرچ کرنے کا سبب بنتا ہے۔

ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایک درمیانے سائز کی گاڑی کے پیٹرول کا خرچہ ہر 25 کلوگرام کے وزن پر 1 فیصد بڑھ جاتا ہے، لہذا وہ تجویز دیتے ہیں کہ گاڑی میں غیر ضروری سامان رکھنے سے گریز کیا جائے۔ مزیدبرآں، غیر ضروری طور پر ایئرکنڈیشنگ بھی گاڑی کے پیٹرول کا خرچہ 20 فیصد زیادہ کردیتی ہے۔

اس تناظر میں ایک تجویز یہ بھی ہے کہ کسی جگہ جانے سے پہلے ان تمام شاہراہوں کے بارے میں ٹریفک ایپلی کیشن یا ان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر معلوم کیا جائے کہ کہیں وہ کسی وجہ سے بند تو نہیں ہیں۔

ان تمام باتوں کا خیال رکھنے سے گاڑی کی ٹینکی ایک دفعہ بھروا کر زیادہ عرصے تک چل سکے گی۔

4- امپورٹڈ سامان خریدنے سے گریز کریں

ملک میں درآمد شدہ سامان جہاں ملکی معیشت کے لیے نقصان دہ ہے، وہیں ایک عام صارف کی جیب پر بھی بوجھ ڈالتا ہے، حالانکہ ایسی مصنوعات کے مہنگا ہونے کی عمومی وجہ درآمدات پرزیادہ ٹیکس اور معروف برانڈز ہونا ہوتا ہے۔

لہذا کسی بھی جنرل یا سپر سٹور سے سامان خریدتے وقت یہ ضرور دیکھ لیں کہ یہ غیر ملکی تو نہیں ہے۔

5- کھانے پینے کی اشیا میں بچت کریں

بازار سے تازہ سبزیاں اور پھل اتنے ہی خریدے جائیں، جتنے دن آپ گھر پر موجود ہوں اور جتنی آپ کی ضرورت ہو۔ زیادہ تر ان کھانوں کی تراکیب مدنظر رکھیں جن میں ایک ہی قسم کے مصالحہ جات استعمال ہوں۔

زیادہ تیل اور مصالحہ جات والے کھانوں کا استعمال ترک کرکے سادہ خوراک کا معمول اپنانا نہ صرف کئی بیماریوں سے بچانے میں مددگار ثابت ہوگا بلکہ بچت بھی ہوگی۔

جن دنوں کسی سبزی، پھل وغیرہ کی قیمتیں گر جائیں ان دنوں خریداری کرکے ایسے پھلوں اور سبزیوں کو زیادہ مدت کے لیے محفوظ کیا جاسکتا ہے۔ آن لائن ایسے کئی طریقے موجود ہیں، جن سے استفادہ حاصل کیا جاسکتا ہے۔

عام طور پر خواتین کی عادت ہوتی ہے کہ وہ ہر کھانے میں ٹماٹر اور پیاز ڈالتی ہیں، حالانکہ نہ تو ہر ایک سبزی میں ٹماٹر کی ضرورت ہوتی ہے اور نہ پیاز کی۔ بعض لوگ ہر پکوان میں بےحساب مرچ مصالحے ذائقے کے لیے ڈالتے ہیں، حالانکہ اس کا ذائقے کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ افغانی کھانے اس کی ایک مثال ہیں، جو صرف پیاز اور ٹمائر میں پکائے جاتے ہیں اور پھر بھی انتہائی لذیذ ہوتے ہیں۔

6- عادات بدلیں

گھر میں غیرضروری پنکھے اور بلب مت جلنے دیں۔ پانی غیر ضروری طور پر مت بہنے دیں، کیونکہ ایسا کرنے سے ٹینکی جلد خالی ہوگی اور دوبارہ بھروانے کے لیے بجلی خرچ ہوگی۔

گھروں کی تعمیر سادہ رکھیں۔ غیر ضروری خریداری کی عادت ختم کریں۔ گھر کے لیے کوئی بھی چیز خریدنے سے قبل خود سے سوال کریں کہ آیا اس کی آپ کو واقعی ضرورت ہے؟

7-  ملازمت کے ساتھ دوسرا کوئی کام کریں

مہنگائی سے نمٹنے کے لیے اگر اپنی ملازمت کے ساتھ کوئی ایسا کام کیا جائے، جس سے ادارے کی پالیسی پر کوئی اثر نہ پڑتا ہو اور ملازمت متاثر نہ ہوتی ہو تو آمدن کے ذرائع ضرور بڑھائیں۔

جیسے کہ بے بی سِٹنگ، پالتو جانوروں کی سٹنگ، ٹیوشن پڑھانا، کسی کالج یا یونیورسٹی میں پارٹ ٹائم جاب کرنا، رائیڈ شیئرنگ کمپنیوں کے ساتھ گاڑی چلانا، آن لائن کوئی آؤٹ لیٹ کھولنا وغیرہ۔

زیادہ پڑھی جانے والی میگزین