خیبر پختونخوا: پی ٹی آئی نے نو سالوں میں کتنا قرضہ لیا؟

خیبر پختونخوا کے وزیر خزانہ کی طرف سے سوشل میڈیا پر گذشتہ دو دنوں سے بحث کی جا رہی ہے کہ کچھ میڈیا اداروں اور سیاسی رہنماؤں نے خیبر پختونخوا کے قرضوں کے حوالے سے ’غلط‘ اعداد و شمار شیئر کیے ہیں۔

صوبائی وزیر خزانہ تیمور سلیم جھگڑا نے ایک سلسلہ وار ٹویٹ میں مختلف گرافس کی مدد سے پی ٹی آئی دورِ اقتدار میں لیے جانے والے قرضوں کی تفصیل بتائی ہے (تصویر: تیمور سلیم جھگڑا/ فیس بک)

خیبر پختونخوا کے وزیر خزانہ کی طرف سے سوشل میڈیا پر گذشتہ دو دنوں سے بحث کی جا رہی ہے کہ کچھ میڈیا اداروں اور سیاسی رہنماؤں نے خیبر پختونخوا کے قرضوں کے حوالے سے ’غلط‘ اعداد و شمار شیئر کیے ہیں۔

اس حوالے سے صوبائی وزیر خزانہ تیمور سلیم جھگڑا نے سلسلہ وار ٹویٹس کیں جن میں انہوں نے گراف کی مدد سے اپنی بات سمجھانے کی کوشش بھی کی۔

یہ بحث تب شروع ہوئی جب پشاور کے صحافی عرفان خان نے ایک خبر دی کہ پی ٹی آئی کے دور حکومت میں گذشتہ نو سالوں میں صوبہ خیبر پختونخوا 887 ارب روپے کا مقروض ہوا ہے تاہم تیمور سلیم جھگڑا نے دعویٰ کیا کہ یہ اعداد و شمار غلط ہیں۔

انہی اعداد و شمار کو انڈپینڈنٹ اردو نے سرکاری دستاویزات کے ساتھ رکھ کر دیکھا تاکہ یہ اندازہ لگایا جا سکے کہ اصل میں صوبے نے کتنا قرض لیا اور یہ قرض کیوں لیا گیا۔

صوبائی محکمہ خزانہ کی جانب سے دسمبر 2021 میں ایک باقاعدہ دستاویز ویب سائٹ پر شائع کی گئی جس میں صوبائی حکومت کی جانب سے لیے گئے قرضوں کی تمام تر تفصیلات درج ہے۔

ان دستاویزات (جس کی کاپی انڈپینڈنٹ اردو کے پاس موجود ہے) کے مطابق 31 دسمبر 2021 تک قرضے کا مجموعی حجم 887 ارب روپے ہے۔ تاہم ان میں سے اب تک 331 ارب روپے سے زائد حکومت کو ادا کیے گئے یعنی صوبے کو قرض کی مد میں اب تک 331 ارب روپے ملے ہیں۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی شخص یا ادارے نے آپ کو ایک لاکھ روپے قرض دینے کا وعدہ کیا ہے، لیکن ان میں سے ابھی تک آپ کو صرف 50 ہزار ملے ہیں اور باقی آپ کو ملنے ہیں۔ تو آپ اس وقت تک صرف 50 ہزار روپے کے مقروض ہیں  لیکن مجموعی طور آپ سے ایک لاکھ روپے قرض کا وعدہ کیا گیا ہے۔

صوبائی وزیر تیمور سلیم جھگڑا نے بھی ٹوئٹر پر اپنے تھریڈ میں یہی بتایا ہے کہ صوبے کا واجب الادا قرضہ 331 ارب روپے ہے۔

اپنے ٹوئٹر تھریڈ میں انھوں نے یہ بھی لکھا کہ شفافیت کو مدنظر رکھتے ہوئے صوبائی محکمہ خزانہ ہر چھ ماہ بعد قرضہ جات کی تفصیلی دستاویز اپنی ویب سائٹ پر جاری کرتا ہے اور ساتھ میں، اس دستاویز کو اراکین صوبائی اسمبلی کو بھی پیش کرتا ہے۔

تیمور جھگڑا کے مطابق ’صوبائی حکومت قرضوں کی منیجمنٹ بہت بہتر انداز میں کر رہی ہے اور خیبر پختونخوا واحد صوبہ ہے جس نے حال ہی میں قرضوں کی منیجمنٹ کے حوالے سے قانون اسمبلی سے پاس کیا ہے۔ صوبے کے تمام تر قرضے بیرون اداروں سے فنڈڈ ہیں اور مقامی سطح پر ایک روپیہ قرض بھی نہیں لیا گیا ہے۔‘

انہوں نے لکھا کہ ’قرض لینا مسئلہ نہیں ہے لیکن قرضے کو منیج کرنا اصل کام ہے اور صوبائی حکومت یہ کر رہی ہے۔ ابھی حالیہ بجٹ میں قرضوں کی مد میں صوبائی حکومت بجٹ کا صرف دو فیصد حصہ دے رہا ہے کیونکہ ہم نے قرضہ دینے کے نظام کو بہتر طریقے سے منیج کیا ہے۔‘

’887 ارب روپے قرضے کی جو بات ہو رہی ہے، اس میں بعض میڈیا اداروں نے وہ بھی شامل کیا جو ابھی تک ’ان ڈسبرسڈ ہے۔‘( یعنی حکومت کو ابھی نہیں ملے ہے)۔

تیمور سلیم جھگڑا سے جب انڈپینڈنٹ اردو نے پوچھا کہ 887 ارب روپے میں سے 551 ارب روپے تاحال نہیں ملے ہیں لیکن حکومت نے یہ معاہدے تو کیے ہیں، تو اس کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ’یہ بالکل درست ہے کہ باقی ماندہ قرضوں کی کمٹمنٹ اداروں کے ساتھ ہوچکی ہے، تاہم یہ قرضے ابھی ملے نہیں ہیں اور یہی وجہ ہے کہ اس کو قرضوں کے کل حجم میں شمار کرنا درست نہیں ہے۔‘

صوبائی قرضوں کی تفصیل کیا ہے ؟

محکمہ خزانہ کے دستاویزات کے مطابق پی ٹی آئی حکومت کو (31دسمبر 2021 تک) مجموعی طور ملنے والا قرض 331 ارب روپے ہے اور یہ صوبے کو واجب الادا ہے۔ یہ قرضے دستایزات کے مطابق ڈالر، یورو، پاکستانی روپے اور جاپانی کرنسی میں لیے گئے ہیں تاہم قرضے میں سب سے زیادہ (82 فیصد) شرح ڈالر کرنسی میں لیے گئے قرضوں کی ہے۔

اگر ان قرضہ جات پر سود دینے کی بات کی جائے، تو دستاویزات کے مطابق ان میں 70 فیصد قرضے فکسڈ انٹرسٹ ریٹ جبکہ باقی 30 فیصد فلوٹنگ انٹرسٹ ریٹ پر دیے گئے ہیں۔

فکسڈ ریٹ کا مطلب یہ ہے کہ اس پر ایک فکسڈ سود کا ریٹ مقرر کیا گیا ہے اور کرنسی میں اضافے یا کمی سے سود میں اضافہ یا کمی نہیں ہوگی جبکہ فلوٹنگ ریٹ اس کے برعکس ہے۔

کس سیکٹر کے لیے کتنا قرضہ لیا گیا؟

دستاویزات کے مطابق صوبائی حکومت نے سب سے زیادہ قرضہ ٹرانسپورٹ محکمے کے لیے لیا جس کا  کل حجم 132 ارب روپے سے زائد ہے اور یہ مجموعی قرضے کا 40 فیصد ہے۔

اسی طرح دوسرے نمبر پر سب سے زیادہ قرضہ معاشی ترقی کے منصوبوں کے لیے لیا گیا ہے جس کا کل حجم 59 ارب روپے سے زائد ہے اور یہ مجموعی قرضے کا 18 فیصد بنتا ہے۔

دیگر سیکٹرز میں انرجی اینڈ پاور کے لیے 36 ارب روپے سے زائد، فنانس کے لیے 27 ارب روپے، علاقائی ترقی کے لیے 20 ارب روپے، آبپاشی کے لیے 19 ارب، تعلیم کے لیے 11 ارب، زراعت کے لیے سات ارب، سوشل ویلفیئر کے لیے چار ارب سے زائد، سیاحت کے لیے بھی چار ارب سے زائد، ماحولیات اور صحت  کے لیے تین، تین ارب روپے، واٹر اینڈ سینیٹیشن کے لیے تقریباً ایک ارب جبکہ انڈسٹریز کے لیے 27 کروڑ روپے قرضہ لیا گیا ہے۔

واجب الادا قرضہ جات میں دستاویزات کے مطابق سب سے زیادہ قرضہ پشاور کی بس ریپیڈ ٹرانزٹ (بی آر ٹی)  کا ہے جو تقریباً 70 ارب روپے بنتے ہیں جبکہ دوسرے نمبر پر سب سے زیادہ قرضہ ’خیبر پختونخوا ایمرجنسی روڈ ریحیبلیٹیشن پراجیکٹ‘ کے لیے لیا گیا ہے جو تقریباً 22 ارب روپے ہے۔

پی ٹی آئی حکومت آنے کے بعد قرضہ کیوں بڑھ گیا؟

خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی 2013 میں اقتدار میں آئی اور اس وقت صوبے کے قرضوں کا کل حجم تقریباً 97 ارب روپے تھا تاہم اب واجب الادا قرضے 331 ارب روپے تک پہنچ گئے ہیں۔

تاہم صوبائی وزیر خزانہ تیمور سلیم جھگڑا سمجھتے ہیں کہ قرضہ لینا کسی بھی صوبے کی ترقی کے لیے اچھا اقدام ہے۔

انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ بڑے منصوبوں کے لیے بڑے قرضے لینے پڑتے ہیں اور صوبائی حکومت اگر یہ منصوبے اپنے پیسوں سے کریں تو ان منصوبوں کو اپنے پیسوں سے برقرار رکھنا بھی مشکل ہوتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ حکومتیں ایسے منصوبوں کے لیے قرضے لیتی ہیں۔

’جتنے بھی قرضے ہم نے لیے یہ سافٹ قرضے ہیں اور 20، 30 سال کے دورانیے کے لیے ہیں جس پر حکومت کو دو فیصد سے بھی کم سود ادا کرنا پڑے گا۔‘

ان سے جب پوچھا گیا کہ کیا آنے والی حکومتوں کے لیے یہ قرضے واپس کرنا ایک چیلنج نہیں ہوگا؟ اس پر ان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے قرضہ جات کی ادائیگی کے لیے پورا ایک نظام بنایا ہے اور اب بجٹ کا صرف دو فیصد قرضوں کی مد میں جاتا ہے تو  ایک ہزار ارب تک کے بجٹ میں 20 ارب روپے سالانہ دینا کوئی بڑا چینلج نہیں ہے۔‘

انہوں نے مزید بتایا کہ 2013 اور آج کے حالات کا تقابلی جائزہ بھی درست نہیں ہے کیونکہ صوبے ہر سال ترقی کرتے ہیں اور ان کا بجٹ بھی ہر سال بڑھتا ہے، تو 2013 میں اگر 97 ارب روپے کا قرضہ تھا تو اس وقت بجٹ کا بھی کل حجم 279 ارب روپے کے لگ بھگ تھا۔ یہ قرضہ اس وقت بجٹ کے حجم کا تقریباً 34 فیصد بنتا ہے جبکہ ابھی جو بجٹ پیش ہوا ہے، تو اس میں قرضوں کا حساب نکالا جائے تو یہ مجموعی بجٹ کا تقریباً 25 فیصد بنتا ہے جو اس وقت سے اب قرضوں کا مجموعی بجٹ کے ساتھ تناسب کم ہو گیا ہے۔

ماہرین کیا کہتے ہیں؟

شاہ رخ وانی آکسفورڈ یونیورسٹی میں ماہر اقتصادیات ہیں اور پاکستان کے معاشی معاملات پر گہری نظر رکھتے ہیں۔

انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ تمام حکومتیں اس قابل ہونی چاہییں کہ وہ قرضے لیں لیکن اس میں ضروری بات یہ ہے، کہ یہ قرضے کس مد میں اور کن شرائط پر لیے جاتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ’دنیا میں تمام حکومتیں کیپیٹیل ایکسپینڈیچر کے قرضے لیتی ہیں حتیٰ کہ امریکہ اور چین بھی قرضے لیتے ہیں [تو یہ کوئی بری بات نہیں ہے]۔‘

شاہ رخ سے جب پوچھا گیا کہ پشاور بی آر ٹی جیسے ترقیاتی منصوبوں کے لیے کیا بڑے پیمانے پر قرضے لینا اچھا اقدام ہے، اس کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ایسے منصوبے حکومتوں کو ٹیکس کی مد میں فائدہ دیتے ہیں اور عام طور پر ایسے منصوبوں کے لیے قرضہ لینا بری بات نہیں ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان