بنیے نے تو تولنا تھا ہی نہیں آپ نعرے لگاتے رہے

پاکستانی شائقین کو گلہ ہے کہ انڈیا انگلینڈ سے جان بوجھ کر میچ ہار گیا  (اے ایف پی)

انگلینڈ نے اپنے نویں میچ میں نیوزی لینڈ کو 119 رنز سے ہرا کر اپنی نیّا پار لگائی اور اب وہ آسٹریلیا اور انڈیا کے ساتھ سیمی فائنل میں پہنچا ہی پہونچا۔ اگر چوتھے کے بارے میں پوچھیں کہ وہ کون تو پاکستان اس وقت خاصی وزنی چکی کے پاٹ تلے ہے۔

وہ ایسے کہ جمعے کو بنگلہ دیش کے خلاف لارڈز میں اپنے آخری راؤنڈ روبن میچ میں ٹاس جیتنا، پہلے بیٹنگ کرنا اور پھر پہاڑ کی مانند 450 جیسا کمر توڑ اسکور کرکے بنگلہ دیش کو جلد از جلد سمیٹ دینا لازمی ہے ورنہ ’وہ‘ بھی گیا اور رسّی بھی گئی اور اگر ٹاس جیت کر پہلے بولنگ کی ٹھانی تو مطلب یہ ہے کہ پاکستان اب رمصان میں نائٹ کرکٹ کو فروغ دے گا۔

 میوزیکل چیئر کے تین میں سے دو کے باجے بجا دینے والا پاکستان اب خواہ مخواہ پوائنٹس، رن ریٹ سمیت متعدد اگر مگر اور چونکہ چنانچہ وغیرہ کے سینڈوچ میں پھنس گیا ہے لیکن میں بھی تہیّہ کیے بیٹھا ہوں کہ پاکستان کا حمایت دل مجھے کم از کم جمعے تک نہیں ہارنا اور اس کی حمایت میں ڈھٹائی کے ساتھ اتنا کہنا کافی ہے کہ لڑکی ابھی باپ کے گھر ہے اور پاکستان نے اپنی روایتی سخاوت کے تحت طے نہیں کیا ہے کہ وہ دلہن کے ساتھ جہیز لے گا، نہیں لے گا یا کیش قبول کرے گا بشرطیکہ ڈالر میں ہو

 یہاں دیگر دو میچوں کا احوال بھی ہو جائے تو اچّھا ہے۔

 انگلینڈ کے خلاف انڈیا کے میچ میں پاکستانی شائقین کرکٹ نے انڈیا کے حق میں نعرے لگا کر گلے بٹھا لیے، بعض شرطیہ پاکستانی (میں انہیں ذاتی طور پر جانتا ہوں) متوالیاں انڈیا کا ترنگہ پہنے امریکہ والی چیر گرلز کی طرح ٹھمک ٹھمک ادھر سے اُدھر تھرکتی پھریں، لوگوں کو انڈیا کے حق میں نعرے لگانے پر اکساتی رہیں اور انگلینڈ کے سابق کپتان ناصر حسین کے ایشیائی نژاد کرکٹ سپورٹروں کو بکھیر دینے اور انگلینڈ کے حق میں ہانک لانے کے حربے بھی کام نہ آئے مگر نتیجہ سیانوں کی پیش گوئی کے عین مطابق ڈھاک کے تین پات نکلا، انڈیا کو نا جیتنا تھا اور نہ ہی وہ جیتا، بکیز نے پیسوں کی اور بقیہ نے پاکستانی سپورٹرز کے نیست و نا بود کر دینے والے ایٹی جملوں کی مار کھائی، اپنی مبینہ فیک کار کردگی پر انڈیا کی بھد اُڑتی ہے تو اُڑا کرے۔

یہاں پاکستان کے ٹرینٹ برج میں افغانستان کے خلاف آخری اوور تک جانے اور ہاتھ پاؤں پھلا ڈالنے والے میچ کا ذکر بھی لازمی ہے۔ گو کہ نتیجہ پاکستان کے حق میں رہا لیکن اس کے بعد جو روایتی ہلڑ بازی ہوئی، کرسیاں چلیں بوتلیں پھینکی گئیں، لاتیں اور جوتے مار، رسوا کن مناظر ٹی وی اور سوشل میڈیا پر لائیو دکھائے گئے اور دنیا بھر کے چینلوں کی اہم خبروں کا حصّہ بنے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

 اس سے جو جگ ہنسائی ہوئی، ساتھ ہی کرکٹ کی شوقین پڑوسن نے جو لتّے لیے انہوں نے کہیں کا نہ چھوڑا، ویسے اب یہ بات الگ ہے کہ میں اُس ے نظریں چُرائے تیزی سے ڈگ بھرتا ہوں۔

 اسی طرح سے اسی میچ کے متعلق سوشل میڈیا پر ’افغان نمک حرام‘ ’افغان جلیبی‘ یا ’افغان ناشکرے مہمان‘ جیسے جو بیہودہ ہیش ٹیگز چلے اور مبینہ پرو فیشنل ہلّڑ بازوں کا جو کچّا چٹّھا جمع ہوا اور پولس کو جوجو اطلاعات ملتی رہیں ان کی بنیاد پر ورلڈ کپ کی ذمہ دار آئی سی سی اور میزبان انگلینڈ کی انتظامیہ تخریبی عناصر کے خلاف حرکت میں آچکی ہے۔

یہاں کی پولس معقول بنیاد پر پرچہ کٹنے اور ’رپٹ‘ لکھے جانے کے بعد معاملے کی جڑ اور ذمّہ داروں کے گھر تک پہنچنے میں دیر نہیں لگاتی۔ یہ تحریر مکمل کرتے وقت تک 30 سے زیادہ پکڑے جا چکے تھے اس سے کہیں زیادہ تعداد کی تلاش میں چھا پے پڑ رہے تھے اور یورپی ممالک سے آئے 15 کو برطانوی بریگزٹ سے پہلے ہی انگلینڈ نے ’ایگزٹ‘ نوٹس اشو کرنے اور پولس کے ہاتھوں ڈنڈا ڈولی کر واکر ڈیپورٹ‘ کرتے واضح طور پر کہہ دیا گیا کہ جائیں جہاں سے آئے تھے، آئندہ تشریف نہ لائیے گا اور آپ پر مقدمہ آپ کو شہریت یا مستقل سکونت دینے والا ملک چلائے گا۔

زیادہ پڑھی جانے والی کرکٹ