400 کلومیٹر فی گھنٹے کی رفتار پر چلنے والی تھری ڈی پرنٹڈ گاڑی

امریکی کمپنی زنگر وہیکلز کے مطابق اس کی سپر کار زنگر 21 سی ’مستقبل کی ایک جھلک‘ ہے جسے مصنوعی ذہانت اور تھری ڈی پرنٹنگ کی مدد سے بنایا گیا ہے۔

’کیا دنیا کو ایک اور ہائپر کار کی ضرورت ہے؟ بالکل نہیں!‘

یہ کہنا تھا زنگر وہیکلز کے بانی اور سی ای او کیون زنگر کا اپنی ایک تقریر میں۔ کسی گاڑی کی فروخت کے لیے کی جانے والی یہ ایک غیر معمولی تقریر ہے، لیکن یہ گاڑی بھی تو غیر معمولی ہے۔

زنگر 21 سی ایک ایسا تکنیکی نمونہ ہے جو ’مینوفیکچرنگ کے مستقبل کی ایک جھلک ہے جس میں مصنوعی ذہانت کی ڈیزائننگ اور پروٹو ٹائپنگ سے گاڑی کا زیادہ تر حصہ تیار ہوگا۔‘

کیون کے بیٹے اور زنگر وہیکلز کے شریک بانی لوکاس زنگر نے روئٹرز کو بتایا: ’جس طرح قدرت مادے اور انرجی کو نکھارتی ہے اور آپ تخلیق  ہونے والے اس نامیاتی ڈھانچے کو دیکھتے ہیں، وہی کام ہم نے یہاں کیا ہے لیکن دھاتی ڈھانچے اور اس کی بہترین کارکردگی کو تلاش کرنے میں لاکھوں سال لگانے کی بجائے ہمیں چند منٹ لگے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس کا نتیجہ 400 کلومیٹر فی گھنٹہ (250 میل فی گھنٹہ) سے زیادہ کی ٹاپ سپیڈ پر چلنے والی ہائبرڈ سپر کار ہے کار ہے جس کی رفتار 1.9 سیکنڈ میں سفر سے 60 میل فی گھنٹہ تک پہنچ جاتی ہے اور اس کے زیادہ تر تھری ڈی پرنٹڈ ڈھانچہ نامیاتی شکل کا ہے۔

لوکاس زنگر نے کہا: ’ہم ان کو نامیاتی، ہڈیوں کی طرح، حیاتیاتی نظر آنے کے لیے ڈیزائن نہیں کر رہے۔ دراصل یہ صرف حیاتیاتی لگتے ہیں اور یہ ڈھانچے بالکل موثر ہیں۔‘

زنگر سینئر کا کہنا ہے کہ سرکٹ آف دا امریکاز اور لاگونا سیکا میں ٹریک ریکارڈ توڑنے کے باوجود، 21 سی ایک مکمل کار ہے جسے عام طور پر بھی چلایا جا سکتا ہے۔ 

انہوں نے کہا: ’کیونکہ یہ ہائبرڈ ہے آپ ای وی پر اپنی مچھلی اور چپس لینے یا اپنا پیزا لینے بھی جا سکتے ہیں۔ اور پھر ٹریک پر ڈرائیو کرتے آئیں اور ایک ریکارڈ توڑ دیں۔‘

زنگر کا کہنا ہے کہ کمپنی کی توجہ اچھی کارکردگی والی گاڑیوں پر مرکوز ہے لیکن ان کا کہنا ہے کہ وہ اگست میں پیبل بیچ پر  چار سیٹوں والی والیم پروڈکشن کار کی رونمائی کریں گے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ٹیکنالوجی