اڑنے والی ’گاڑی‘ پر گھر سے دفتر کا پہلا سفر

لیتھیئم آئن بیٹری سے چلنے والے ایلومینیئم طیارے کی ٹاپ سپیڈ 102 کلومیٹر فی گھنٹہ (63 میل فی گھنٹہ) ہے اور یہ 100 کلوگرام تک وزنی کسی بھی انسان کو لے جا سکتا ہے۔

ایک اڑنے والی کار سٹارٹ اپ کے بانی کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے الیکٹرک ورٹیکل ٹیک آف اور لینڈنگ (ایوی ٹول) طیارے کا استعمال کرتے ہوئے پہلی بار سفر کیا ہے۔

توماز پتن، جو جیٹسن کے چیف ٹیکنالوجی آفیسر بھی ہیں، نے کمپنی کی 83,600 ڈالر مالیت کی گاڑی ون کو ٹسکنی میں اپنے گھر سے دفتر تک اڑایا اور عام کار کی نسبت وقت بھی تقریباً 90 فیصد کم لگا۔

اطالوی دیہی علاقوں میں مسٹر پتن کو ایک مسافر والا کرافٹ اڑاتے دیکھا گیا جو زمین سے چند میٹرز کی بلندی پر تھا۔ یہ کرافٹ کمرشل کواڈ کاپٹر ڈرون کے بڑے ورژن سے مشابہت رکھتا ہے۔

مئی میں کی گئی پرواز کی ویڈیو کمپنی کے آفیشل فیس بک پیج پر شیئر کی گئی تھی جس کی ٹیگ لائن تھی ’ہر کوئی پائلٹ ہے‘۔

جیٹسن کمپنی کا دعویٰ ہے کہ ایوی ٹول کرافٹ کو چلانے کے لیے پائلٹوں والے لائسنس کی ضرورت نہیں ہوگی، اگرچہ زیادہ تر ممالک میں ضوابط اور قوانین کی وجہ سے اس کے استعمال پر پابندی لگ سکتی ہے۔

کمپنی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ہمیں یہ بتانے پر ناقابل یقین حد تک فخر ہے کہ کئی مہینوں کی سخت آزمائش اور جانچ کے بعد ہم نے دنیا کا پہلا ایوی ٹو ایل سفر مکمل کیا۔‘

’تیزی سے ترقی کرتے ہوئے ایوی ٹول سیکٹر کے لیے ایک اہم موقع ہے۔ ہم اس تبدیلی کے دوران شعبہ ہوا بازی کو آگے بڑھانے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔‘

لیتھیئم آئن بیٹری سے چلنے والے ایلومینیئم طیارے کی ٹاپ سپیڈ 102 کلومیٹر فی گھنٹہ (63 میل فی گھنٹہ) ہے اور یہ 100 کلوگرام تک وزنی کسی بھی انسان کو لے جا سکتا ہے۔

اس میں بیلسٹک پیراشوٹ بھی ہوتا ہے جو ہنگامی صورتحال میں تیزی سے کھلتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’ہمارا طویل مدتی مقصد اس کو عوام کے لیے ممکن بنانا ہے۔ ہمیں پختہ یقین ہے کہ ای وی ٹول وسیع پیمانے پر نقل و حمل کا مستقبل ہے۔‘

’جیٹسن کو اڑنے کے لیے فارمولا ون کار کی طرح بنایا گیا ہے اور اڑانے میں ناقابل یقین حد تک مزہ آتا ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ فلائٹ سٹیبلائزیشن سسٹم پرواز کو انتہائی آسان بنا دیتا ہے۔‘

جیٹسن متعدد ’فلائنگ کار‘ سٹارٹ اپ میں سے ایک ہے جو حالیہ برسوں میں بیٹری اور ہوابازی کے شعبے کی پیش رفت کا استعمال کر رہے ہیں تاکہ مستقبل میں لوگوں کے سفر کے انداز کو تبدیل کیا جائے۔

گلوبل ڈیٹا کی جانب سے شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق اربن ایئر موبلیٹی (یو اے ایم) کے حل میں سرمایہ کاری 2015 میں 76 ملین ڈالر سے بڑھ کر 2021 میں ایک ارب ڈالر تک پہنچ گئی جس سے اس نے ’نیا نقل و حرکت انقلاب‘ کا اعلان کیا۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی ٹیکنالوجی