فلپائن: مارکوس خاندان کی واپسی کو کیسے خوف سے دیکھا جا رہا ہے

’بونگ بونگ‘ مارکوس ایک آمر کا بیٹا ہے جس نے فلپائن پر برسوں تک بےدردی سے حکومت کی اور پھر اربوں لوٹ کر فرار ہو گئے۔ اس ہفتے وہ ملک کے صدر بن گئے۔ کئی لوگ اب بھی یقین نہیں کرتے کہ یہ خاندان دوبارہ اقتدار میں آ گیا ہے: روری سلیوان کی رپورٹ

فرڈینینڈ مارکوس جونیئر اپنی افتتاحی تقریب میں (بائیں جانب) اور مارکوس سینیئر 1985 میں اپنی صدارت کے دوران

(دی انڈپینڈنٹ)

25 فروری 1986 کو فلپائن کے آمر فرڈینینڈ مارکوس، رشتہ داروں، چمچوں اور دولت سے بھرے ہوئے ایک امریکی فضائیہ کے طیارے میں اپنے ملک سے فرار ہو گئے۔

شکست خوردہ یہ حکمران اپنے خاندان اور اس کے مددگاروں کے عجلت میں باندھے سامان کے ساتھ ہوائی میں اترا۔ سامان میں درجنوں ٹھوس سونے کی سلاخیں اور لاکھوں ڈالر نقد تھے۔ یہ صرف 10 ارب ڈالر (8.2ارب پاونڈز ) کی دولت کی ایک چھوٹی سی جھلک تھی جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس خاندان نے ریاست کے خرچ پر جمع کیا تھا۔

پیچھے نئے آزاد کرائے جانے والے ملک میں بونی ایلگان، جنہیں مارکوس مخالف مزاحمتی تحریک میں اپنے کردار کی وجہ سے قید اور اذیت دی گئی تھی، اپنے لوگوں کی آزادی کا جشن منا رہے تھے۔

اب 70 سالہ بوڑھے نے عوامی طاقت کے انقلاب کے کامیاب ہونے کے لمحے کی عکاسی کرتے ہوئے کہا: ’یہ پرجوش ماحول تھا۔ ہم مارکوس کے خلاف کئی سالوں سے لڑ رہے تھے اور جدوجہد مشکل تھی، جس میں اتار سے زیادہ چڑھاؤ تھا۔ اور پھر یہ ہوگیا۔‘

بلاآخر فوج کی مایوسی اور سڑکوں پر لاکھوں لوگوں کی موجودگی نے مارکوس کی دو دہائیوں سے زیادہ کی، جس میں سے زیادہ تر مارشل لا کے تحت حکمرانی کا خاتمہ کر دیا۔

بونی ایلگن کے لیے، جن کی بہن مارکوس کی حکومت نے قتل کی تھی، ماضی تکلیف دہ تھا لیکن مستقبل روشن دکھائی دے رہا تھا۔ ’میں بظاہر پرجوش تھا۔ بہت زیادہ جمہوری خلا تھا۔ نیا صدر ہماری صفوں سے آیا۔ اس کے شوہر کو قتل کر دیا گیا تھا، اس لیے ہم سب کے ایک جیسے جذبات تھے۔‘

آنے والے سالوں میں حقیقت نے بوٹی ایلگن کی امیدوں کو مات دے دی۔

پھر کئی مہینے پہلے ماضی حال سے پرتشدد طور پر ٹکرا گیا: طویل عرصے سے پہلے مر جانےوالے آمر کے اکلوتے بیٹے، فرڈینینڈ ’بونگ بونگ‘ مارکوس نے 2022 کے صدارتی انتخابات میں کامیابی حاصل کی، ایک غلط معلومات کی بنیاد پر تیار کی گئی ایک مہم کے ذریعے جس نے ان کے والد کی استبداد کو سنہری رنگ میں لپیٹ دیا جب کہ اپنے مخالفین کو کمیونسٹ بنا دیا۔

مارکوس جونیئر نے اپنے حریف لینی روبریڈو کے 14 ملین کے مقابلے میں 30 ملین سے زیادہ ووٹ حاصل کیے، اس لیے یہ انتخاب فیصلہ کن تھا، لیکن ووٹ خریدنے اور سیاسی طور پر تشدد کی حوصلہ افزائی کے الزامات کی وجہ سے اس کی ساکھ کو نقصان پہنچا۔

مارکوس کی بحالی، جو مارکوس جونیئر کے صدارتی افتتاح کے ساتھ مکمل ہوئی تھی، پر کچھ عرصے سے کام ہو رہا تھا۔

سبکدوش ہونے والے رہنما روڈریگو ڈوٹیرٹے نے، جن کی بیٹی سارہ بونگ بونگ کی سیکنڈ ان کمانڈ ہیں، اس عمل کو آسان بنایا، جس نے متنازعہ طور پر مارکوس سینیئر کو، جو 1989 میں انتقال کر گئے تھے، 2016 میں ملک کے ہیروز قبرستان میں دفن کرنے کی اجازت دی۔ اس سال مارکوس جونیئر نائب صدر کے انتخاب میں ناکام رہے تھے جو اس خاندان کی فلپائنی سیاست میں ایک بار پھر اہم کردار ادا کرنے کی خواہش کی علامت کے طور پر دیکھا گیا۔

اگرچہ مارکوس جونیئر کا صدر کے عہدے تک پہنچنا مکمل طور پر غیر متوقع نہیں تھا، لیکن یہ اب بھی ان لوگوں کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے جو ان کے والد کی آمریت کی بربریت سے بچ گئے اور انھیں بے دخل کرنے کی جدوجہد میں اپنے پیاروں کو کھو بیٹھے۔ کئی لوگوں نے دی انڈپینڈنٹ کو بونگ بونگ کی صدارت کے بارے میں اپنے خدشات کے بارے میں بتایا، لیکن ساتھ ہی اس امید کا اظہار بھی کیا کہ انسانی حقوق کے کارکنوں کی نوجوان نسل نے مزاحمت کا بیڑا اٹھا لیا ہے۔

ایلگن نے کہا کہ ’مارکوس جونیئر کا صدر بننا ایک ڈراؤنا خواب ہے۔ یہ ناقابل تصور ہے، یہ غیر حقیقی ہے۔‘

’ناقابل تصور ہو چکا ہے۔ ایک دن جلد ہی مجھے واقعی حقیقت کا سامنا کرنا ہے۔ لیکن میری حقیقت یہ ہے کہ میں اب جوان نہیں ہوں اور میں اب وہ کام نہیں کر سکتا جو میں کر سکتا تھا، اس لیے میں ایک خاص حد تک مایوسی، ناامیدی بھی محسوس کرتا ہوں۔ لیکن میں سمجھتا ہوں کہ بہت سے نوجوان اس پیش رفت سے بیدار ہوئے ہیں۔‘

1969 میں ان کے اور دوسروں کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا، جب مارکوس سینیئر نے تشدد اور بدعنوانی کے الزامات سے بطرے انتخابات میں دوسری بار کامیابی حاصل کی۔

بونی ایلگن نے مزید کہا: ’لوگ غربت کی زندگی گزار رہے تھے جبکہ مارکوس اور اس کے ساتھی دولت سے اٹے ہوئے تھے۔ یہ وہ وقت بھی تھا جب فلپائن کے نوجوانوں میں - طلبا، یونین لیڈر، کسان رہنما، شہری غریب ایک حقیقی بیداری موجود تھی۔‘

سٹوڈنٹ کیمپس کی سیاست میں ایک مختصر کام کے بعد انہیں فوج کی بلیک لسٹ میں ڈال دیا گیا اور 1971 میں انہوں نے روپوش ہونے کا فیصلہ کیا۔ تین سال بعد فوج نے انہیں اور دو دوستوں کو گرفتار کر لیا جو مزاحمت کی میڈیا کارروائیوں میں بھی شامل تھے۔

بونی ایلگن کو پولیس کے قومی ہیڈکوارٹر کیمپ کریم لے جایا گیا جہاں اس پر تشدد کیا گیا۔ ’نظر بندی کا پہلا ہفتہ بدترین تھا۔ یہ وہ وقت تھا جب وہ واقعی تشدد کے پرتشدد طریقے استعمال کرتے تھے۔ انہوں نے میری انگلیوں کے درمیان گولیاں ڈالیں اور میرا ہاتھ مضبوطی سے جکڑ لیا۔ میں نے سوچا کہ میری انگلیوں کی ہڈیاں ٹوٹ جائیں گی۔‘

اس کے اغوا کاروں نے اس وقت کے 23 سالہ نوجوان کو لاتیں اور گھونسے مارے جن سے خون بہنے لگا۔ تاہم، کچھ مزید طریقے اس سے بھی زیادہ ناگوار تھے۔

’ایک موقع پر انہوں نے مجھ سے کہا کہ میں اپنی پتلون اور اپنے انڈرویئر کو اتاروں۔ پھر انہوں نے میرے عضو تناسل کے ذریعے ایک چھڑی داخل کی۔ انہوں نے میرے پاؤں کے تلووں پر بھی گرم لوہا لگایا۔‘

اس ستر سالہ شخص نے وہ وقت بھی یاد کیا جب اسے کیمپ سے باہر لے جایا گیا تھا اور بھاگنے کا حکم دیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا: ’میں جانتا تھا، اگر میں نے ایسا کیا تو وہ مجھے گولی مار دیتے۔‘ اس کے بجائے وہ گاڑی سے چپکے رہے اور ہنگامہ آرائی کی جس نے مقامی لوگوں کو آگاہ کر دیا، جس سے گارڈز پریشان ہو گئے۔

1974 کے موسم گرما میں انہیں غیر متوقع طور پر رہا کر دیا گیا، جو اس کی والدہ کی طرف سے کچھ رابطوں کا نتیجہ تھا۔ لیکن آزادی کی خوشی جلد ہی ایک گہرے نقصان سے ختم ہوگئی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اپنے بہتر فیصلے کے برخلاف، بونی اپنی چھوٹی بہن سے ملنے کو تیار ہوگئے، جو مزاحمت کا حصہ بھی تھیں۔ بہن نے اسے ایک خط بھیجا جس میں اسے اپنے اور اس کے دوستوں کے لیے ایک نیا محفوظ مکان تلاش کرنے کے لیے کہا گیا، تو انھوں نے دوسری بار ایک دوسرے سے ملنے کا بندوبست کیا۔

انہوں نے بتایا کہ ’اس مقررہ دن پر، میں نے انتظار کیا اور وہ کبھی نہیں آئیں کیونکہ انہیں پہلے ہی فوج نے اغوا کر لیا تھا۔‘ سب سے بڑے واحد اغوا کے واقعے میں رزالینا ایلگن اور نو دیگر کو جو جنوبی ٹیگالوگ 10 کے نام سے مشہور ہوئے پکڑ کر غائب کر دیا گیا۔

ایلگن نے بتایا کہ ’تھانوں، فوجی کیمپوں اور ہسپتالوں میں اہل خانہ کی تلاش بے سود تھی۔ ’کچھ مہینوں کے بعد دو ایک کھائی میں مردہ پائے گئے۔ ایک اور کو دوسرے صوبے میں مشترکہ قبر سے نکالا گیا۔ 10 میں سے تین مردہ منظر عام پر آئے۔ باقی سات آج تک نہیں ملے ہیں۔‘ ان کے والدین نے ان سے التجا کی کہ وہ اپنی سرگرمی جاری نہ رکھے، لیکن سمجھ گئے کہ وہ باز نہیں آئے گا۔

جوڈی ٹیگیوالو کو، ایک سماجی کارکن اور ایکٹوسٹ جنہوں نے حکومت میں خدمات انجام دی ہیں، بھی حراست میں لیا گیا تھا اور مارکوس کے دور حکومت میں اپنے قریبی لوگوں کو کھویا۔

بہتر سالہ بوڑھی خاتون کو 1973 میں حراست میں لیا گیا تھا، اگلے سال جیل سے باہر نکلیں اور دوبارہ 1984 میں حکام نے انہیں گرفتار کر لیا۔

جوڈی اور اس کے ساتھی سیاسی قیدیوں نے عوامی طاقت کے انقلاب کی فتح کو کڑوا پایا۔ ’ہم روئے اور اپنے ساتھیوں، اپنے دوستوں، اپنے ہم جماعت، اپنے ساتھیوں کو یاد کیا جو آمریت کے خلاف لڑتے ہوئے مر گئے تھے۔ میرے بہت سے دوست جیل میں مر گئے یا مارشل لا کے دوران غائب ہو گئے۔

’یہ خوشی کا ایک حصہ تھا کیونکہ آخر کار آمر نکال دیا گیا تھا لیکن ان لوگوں کو یاد کرنے پر بھی دکھ تھا جنہوں نے اپنی جانیں قربان کر دی تھیں۔‘

جب مارکوس جونیئر کو 36 سال بعد صدر منتخب کیا گیا تو جوڈی کو غصہ آیا۔ انہوں نے کہا کہ مارکوس کی بحالی ایسی چیز نہیں تھی جس کی انہوں نے جن حالات سے ملک 21 سال تک مارکوس کے دور حکومت میں گزرا توقع کی تھی۔

’یہ ایک ڈراؤنا خواب تھا کہ ایسا ہو سکتا ہے۔ لیکن یہ بھی ایک احساس ہے کہ 1986 میں مارکوس کے معزول ہونے کے بعد سے زیادہ تبدیلی نہیں آئی ہے۔

انتخابات کے بعد کئی نوجوانوں نے انہیں خط لکھا کہ وہ ایک اور مارکوس کے عروج کو روکنے کے قابل نہ ہونے پر معافی مانگی کہ اس کے تمام خاندان نے اس کے اور دوسروں کے ساتھ کیا تھا۔ جوڈی نے کہا کہ وہ ان کے نرم الفاظ سے متاثر ہوئیں اور ان کی ایکٹوزم سے ان کی حوصلہ افزائی ہوئی۔

جوڈی کا خیال ہے کہ فلپائن میں جمہوری آزادیوں کو اب زیادہ خطرہ لاحق ہے، آزاد میڈیا سائٹس کی حالیہ بندش اور پولیس چیف کے انتباہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہ مارکوس جونیئر کے صدر کے عہدے پر فائز ہونے کے دن احتجاج کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔

تجربہ کار مہم چلانے والے افتتاح کے لیے جگہ کے انتخاب کو اہم سمجھتے ہیں اور نوٹ کرتے ہیں کہ انہوں اور دیگر طلبا نے اسی جگہ پر جنوری 1970 میں مارکوس سینیئر کے خلاف تشدد سے منتشر کروانے سے قبل احتجاج کیا تھا۔

وہ کہتی ہیں کہ ’یہ مارکوس جونیئر کی طرف سے جان بوجھ کر ہے: وہ سائٹ پر دوبارہ دعوی کر رہا ہے۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں طلبا سب سے پہلے اس کے والد کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔‘

لیگ آف فلپائنی سٹوڈنٹس (ایل ایف ایس) کے سربراہ ایوان سوک گانگ کا بھی خیال ہے کہ مارکوس جونیئر کے دور میں سیاسی ماحول مزید خراب ہو جائے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ جمع ہونے کی آزادی پر حالیہ کریک ڈاؤن کے آثار پہلے ہی موجود ہیں۔

پولیٹیکل سائنس کے 23 سالہ طالب علم نے بتایا کہ مارکوس کی بحالی کے خلاف مظاہرے کے دوران 25 مئی کو ’فریڈم پارک‘ میں پولیس نے اسے نشانہ بنایا۔

’وہاں اظہار رائے کی آزادی سب سے زیادہ محفوظ ہونی چاہیے لیکن ہمیں فسادی پولیس کی بٹالین کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے ہم پر پانی کی توپوں سے بارش کی اور مجھ سمیت 14 مظاہرین زخمی ہو گئے۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ وہ اپنے دائیں پاؤں کو پولیس کی ڈھال سے ٹکرانے کے بعد اب بھی ہلانے سے قاصر ہیں۔

اگرچہ وہ پریشان ہے کہ پولیس اور فوج ’مظاہرین کے خلاف مزید پرتشدد کارروائیوں کی حوصلہ افزائی ہوگی‘ لیکن وہ پر امید ہیں کیونکہ ’بحران ہمیشہ فلپائنی عوام کی طرف سے مزاحمت پیدا کرتا ہے۔‘

فلپائنی الائنس آف ہیومن رائٹس ایڈوکیٹس کے کمیونیکیشن آفیسر کرسچن گلٹیا کو بھی ایسے ہی خدشات ہیں، جو پولیس اور فوج کو اضافی فنڈنگ ​​دینے کے اعلان سے مزید بڑھ گئے ہیں۔

’میرا سب سے بڑا خوف یقیناً کارکنوں کے خلاف حملوں کا تسلسل ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ انتظامیہ بے رحم ہونے جا رہی ہے۔‘ انہوں نے دعویٰ کیا کہ نئی حکومت پچھلی حکومت کے مقابلے ’انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے بچنے کے لیے زیادہ جدید ترین ذرائع‘ استعمال کرے گی۔

بونی اور جوڈی کے لیے، یہ لمحہ فکریہ ہے لیکن اداسی کے باوجود وہ رجائیت کی بنیاد تلاش کرتے ہیں۔

ایلگن نے کہا: ’امید ہے کیونکہ یہاں نوجوان لڑائی جاری رکھے ہوئے ہیں۔‘

’جب میں نے 1960 کی دہائی کے آخر میں تحریک شروع کی تو تحریک واقعی کمزور تھی۔ تنظیمیں چھوٹی تھیں، ہم کم تھے۔ لیکن جیسے جیسے سال گزرتے گئے ہم مضبوط ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ مجھے لگتا ہے کہ ہم وہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے جو ہم اپنے ملک کے لیے خواب دیکھ رہے تھے۔ یہ شاید میری زندگی میں نہ ہو۔‘

جوڈی اس رائے کی حمایت کرتی ہیں: ’ظلم ہمیشہ کے لیے نہیں ہوتا۔‘

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی تاریخ