فلپائن: سمندر کی سات ہزار میٹر گہرائی سے بحری جہاز دریافت

جہاز کو دو حصوں حصے میں تقسیم پایا گیا جو سمندر کی تہہ میں پائی جانے والی ایک ڈھلوان پر موجود تھا۔

امریکی بحریہ کا دوسری عالمی جنگ کے دوران ڈوبنے والا جنگی بحری جہاز فلپائن کے قریب سمندر میں تقریباً سات ہزار میٹر کی گہرائی میں دریافت کر لیا گیا ہے۔ یہ تباہی کا شکار ہونے والا وہ بحری جہاز ہے جو سب سے زیادہ گہرائی میں دریافت کیا گیا ہے۔

امریکی ریاست ٹیکسس میں قائم زیر سمندر ٹیکنالوجی کمپنی کیلاڈن اوشیانک اور ای وائی او ایس ایکسپیڈیشن کی سمندر میں تلاش کا کام کرنے والی ایک ٹیم کو اس ماہ آٹھ دنوں کے دوران غوطہ خوری کے ایک سلسلے کے دوران جہاز کا ملبہ ملا۔ ٹیم ان دو بحری جہازوں کی تلاش میں تھی جو دوسری عالمی جنگ کے دوران ڈوب گئے تھے۔

غوطہ خوروں کو 22 جون کو فلپائن کے سمندر میں تقریباً 6 ہزار 895 میٹر کی گہرائی میں یو ایس ایس ڈسٹرائر ایسکارٹ سیموئل بی رابرٹس (ڈی ای۔413)  جہاز کا ملبہ ملا جسے سیمی بی بھی کہا جاتا ہے۔

جہاز کو دو حصوں حصے میں تقسیم پایا گیا جو سمندر کی تہہ میں پائی جانے والی ایک ڈھلوان پر موجود تھا۔ امریکی ٹیم کی طرف سے لی گئی تصاویر میں جہاز کا پائلٹ ہاؤس اور تین ٹیوب والا تارپیڈو لانچر دکھایا گیا ہے۔

سیمی بی 25 اکتوبر 1944 کو وسطی جزیرے سمر کے قریب ایک لڑائی کے دوران ڈوب گیا تھا۔ اس لڑائی میں امریکی بحریہ نے فلپائن پر قبضہ ختم کروانے کے لیے جاپانی بحری بیڑے کو شکست دی تھی۔ فلپائن اس وقت امریکی نوآبادی تھا۔

جہاز کا ملبہ تلاش کرنے میں کامیابی حاصل کرنے والے ایکسپلورر وکٹر ویسکوو نے امریکی نشریاتی ادارے سی این این کو بتایا کہ اس جہاز نے’جاپانی جنگی جہازوں اور بھاری کروزرز سے مکمل طور کمزور ہونے باوجود ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ ویسکوو اس سے قبل دنیا کے گہرے ترین مقامات تک رسائی کی مہمات مکمل کر چکے ہیں۔

ویسکوو کے بقول: ’ اس کے کپتان اور عملے کی بہادری بحریہ میں افسانوی حیثیت کی مالک ہے اور اس کی آخری آرام گاہ تلاش کرنا ایک بہت بڑا اعزاز ہے۔

’میرے خیال میں اس سے جہاز کی کہانی کو ختم کرنے میں مدد ملتی ہے ان لوگوں کے خاندانوں کے لیے جو گم ہو گئے اور جو اس پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ میرا خیال ہے کہ جہاز کا گہرائیوں میں اس طرح غائب ہو جانا کہ دوبارہ کبھی نہ دکھائی دے جہاز سے وابستہ افراد کو خالی پن کا احساس دلا سکتا ہے۔‘

قبل ازیں اب تک سمندر میں سب زیادہ گہرانی میں پائے جانے والے جس ملبے کی شناخت ہوئی اور جس کا سروے کیا گیا وہ یو ایس ایس جانسٹن کا تھا۔ یہ بحری جہاز گذشتہ سال 6469 میٹر کی گہرائی میں پایا گیا تھا۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی تاریخ