ایران کی جانب سے برطانوی آئل ٹینکر قبضے میں لینے کی دھمکی

ایران کے پاسداران انقلاب کے سابق کمانڈر نے خبردار کیا ہے کہ جب تک برطانیہ کی رائل میرین ایران کا آئل ٹینکر نہیں چھوڑتی تب تک برطانوی آئل ٹینکر کو بھی قبضے میں لے لینا چاہیے۔

(اے ایف پی)

ایران کے پاسداران انقلاب کے سابق کمانڈر نے خبردار کیا ہے کہ جب تک برطانیہ کی رائل میرین ایران کا آئل ٹینکر نہیں چھوڑتی تب تک برطانوی آئل ٹینکر کو بھی قبضے میں لے لینا چاہیے۔

محسب رضائی نے ٹوئٹر پر کہا کہ برطانوی آئل ٹینکر کو تب تک قبضے میں رکھنا ایران کا ’فرض‘ ہے جب تک ایرانی جہاز کو فوری طور پر چھوڑ نہیں دیا جاتا۔

برطانوی رائل میرین نے جمعرات کو یورپی یونین کی پابندیوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے شام کی جانب تیل لے جانے کے شبہے میں ایک آئل ٹینکر کو جبرالٹر میں قبضے میں لے لیا تھا۔ برطانیہ کی جانب سے اس ڈرامائی اقدام سے مغرب اور ایران کے درمیان مزید تناؤ بڑھنے کا خدشہ ہے۔

جمعرات کو رائل بحریہ کے اہلکار گریس 1 نامی ٹینکر پر ہیلی کاپٹر کے ذریعے اترے تھے۔

اس کے جواب میں تہران پہلے ہی بطور احتجاج برطانوی سفیر کو بلا چکا ہے جہاں اس کا جہاز پکڑنے پر ’شدید احتجاج‘ کیا گیا اور کہا گیا کہ یہ ’غیر قانونی اور ناقابل قبول قبضہ ہے۔‘

ایران نے برطانیہ پر امریکہ کے کہے پر عمل کرنے کا الزام بھی لگایا ہے۔

لیکن جمعے کو اس وقت دونوں ممالک کے درمیان تناؤ میں اضافہ ہوا جب محسن رضائی نے لکھا: ’اگر برطانیہ ایرانی آئل ٹینکر نہیں چھوڑتا، تو یہ ایرانی حکام کی دمہ داری ہے کہ وہ برطانوی آئل ٹینکر کو قبضے میں لے لیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انھوں نے مزید لکھا کہ ’اسلامی ایران نے اپنی 40 سالہ تاریخ میں کبھی کسی بھی جنگ میں جارحیت کو شروع نہیں کیا لیکن کسی دادا گیری پر ردعمل دیتے ہوئے کبھی ہچکچایا بھی نہیں۔‘

جبرالٹر میں حکام کا کہنا ہے کہ ایرانی آئل ٹینکر پر موجود 28 افراد پر مشتمل عملے سے گواہان کے طور پر پوچھ گچھ کی گئی ہے نہ کہ مشتبہ مجرموں کی طرح۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق علاقائی پولیس اور کسٹم افسران تفتیش کی غرض سے ٹینکر پر ہی موجود رہے جبکہ رائل میرین وہاں موجود نہیں ہیں۔

جمعرات کو جبرالٹر حکام نے کہا تھا کہ اس کے پاس اس بات پر یقین کرنے کے کافی باوثوق شواہد موجود ہیں کہ گریس1  نامی یہ ٹینکر شام میں بنیاس ریفائنری کی جانب کروڈ آئل لے جا رہا تھا۔

واضح رہے کہ یورپی یونین نے 2011 میں شام پر بشار الاسد کی جانب سے جمہوریت حامی مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن جس کے بعد خانہ جنگی کا آغاز ہوا پابندیاں لگا دی تھیں۔

برطانوی وزیراعظم تھریسا مے کے ترجمان نے کہا تھا کہ ’ہم یورپی یونین کی شامی حکومت پر پابندیوں کو لاگو کرنے کے لیے اس قسم کے اقدام کا خیرمقدم کرتے ہیں اور جبرالٹر کے حکام کی اس کامیاب آپریشن پر تعریف کرتے ہیں۔‘

’اس سے واضح پیغام جاتا ہے کہ پابندیوں کی خلاف ورزی ناقابل قبول ہے۔‘

دفتر خارجہ نے بھی جبرالٹر حکام کے اس ’واضح ایکشن‘ کا خیرمقدم کیا ہے۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا