جب چوہدری پرویز الٰہی وزیراعظم بنتے بنتے رہ گئے

پرویز الٰہی کی جانب سے عمران خان کا ساتھ دینے کی ایک وجہ ان کا امریکہ مخالف بیانیہ ہے کیوں کہ پرویز الٰہی سمجھتے ہیں کہ ان کے وزیراعظم بننے کی راہ میں امریکہ نے روڑے اٹکائے تھے۔

2004 کی اس تصویر میں مسلم لیگ ق کے رہنما اور موجودہ سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی اور سابق فوجی صدر جنرل (ر) پرویز شرف کو دیکھا جاسکتا ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)

بےنظیر بھٹو 27 دسمبر 2007 کو راولپنڈی میں قتل نہ کی جاتیں تو آج کے پاکستان کا منظر نامہ بہت مختلف ہوتا، وہیں ایک بات یہ بھی کی جاتی ہے کہ اس وقت سیاسی طور پر اگر سب سے مضبوط کوئی جماعت تھی تو وہ مسلم لیگ ق تھی۔

لیکن اس ایک قتل نے صرف آنے والے برسوں کا سیاسی نقشہ ہی نہیں بدلا بلکہ متوقع وزیراعظم کے طور پر سب سے طاقتور سمجھے جانے والے چوہدری پرویز الٰہی کے امکانات کو بھی مسدود کر دیا۔ اس کی وجہ بےنظیر بھٹو کی جانب سے اس وقت کے صدر مشرف کو لکھا جانے والا ایک خط بنا جو انہوں نے پاکستان واپسی سے دو روز قبل 16 اکتوبر 2007 کو لکھا تھا جس میں انہوں نے اپنی زندگی کو درپیش خطرات کے حوالے سے کہا تھا کہ اگر انہیں کچھ ہوا تو ا س کے ذمہ دار سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل (ر) حمید گل، اس وقت کے ڈائریکٹر جنرل آئی بی بریگیڈیئر اعجاز شاہ اور پرویز الٰہی ہوں گے جو 22 نومبر 2007 تک پنجاب کے وزیراعلیٰ تھے۔

چوہدری پرویز الٰہی 2002 سے 2007 تک مسلم لیگ ق کی جانب سے پنجاب کے وزیراعلیٰ رہے تھے۔ مرکز اور چاروں صوبوں میں بھی اسی جماعت کی حکومت تھی جو اس وقت کے فوجی صدر پرویز مشرف کی سب سے بڑی حمایتی جماعت بن کر ابھری تھی۔ ریکارڈ ترقیاتی کاموں کی وجہ سے پنجاب کے چوہدریوں نے سیاست پر اپنی گرفت مضبوط کر لی تھی۔

اس بات کا غالب امکان تھا کہ اگلے عام انتخاب میں نہ صرف مسلم لیگ ق بھاری اکثریت حاصل کر لے گی بلکہ چوہدری پرویز الٰہی پاکستان کے وزیراعظم بھی بن جائیں گے۔ شاید یہی وہ وجہ تھی جو بےنظیر بھٹو کی جانب سے چوہدری پرویز الٰہی پر شک کی وجہ بنی تھی اور انہیں جب کچھ حلقوں کی جانب سے یہ خبریں دی جا رہی تھیں کہ انہیں پاکستان واپسی پر قتل کر دیا جائے گا تو انہوں نے سوچا ہو گا کہ اس کا فائدہ سب سے زیادہ جس شخص کو ملے گا، وہ پرویز الہٰی ہوں گے اسی لیے انہوں نے پرویز الٰہی کو نامزد کر دیا۔

 اقوام متحدہ کی تحقیقاتی ٹیم جس نے بےنظیر بھٹو کے قتل پر اپنی تحقیقاتی رپورٹ 30 مارچ 2010 کو اقوام  متحدہ کے سیکریٹری جنرل کو پیش کی تھی، اس کے صفحہ 10 پر لکھا گیا ہے کہ انتخابات سے پہلے ایک عمومی رائے بنی ہوئی تھی کہ مشرف بدستور صدر رہیں گے اور بےنظیر بھٹو وزیراعظم بنیں گی، لیکن کمیشن کو دیے گئے متعدد انٹرویوز میں معلوم ہوا تھا کہ ابھی کچھ طے نہیں ہوا تھا اور اس کا انحصار انتخابی نتائج پر تھا۔

چوہدری شجاعت اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ ’الیکشن والے دن ابھی گنتی شروع نہیں ہوئی تھی کہ مجھے جنرل مشرف کا فون آیا اور کہنے لگے، ’چوہدری صاحب، آپ کو پینتیس چالیس نشستیں ملیں تو آپ نتائج تسلیم کر لیجیے گا، کوئی اعتراض نہ کیجیے گا۔‘

جنرل مشرف کی جانب سے ق لیگ کے رہنماؤں کو یقین دہانی کروائی گئی تھی کہ اگر انتخابات میں ان کی پارٹی جیت گئی توپرویز الٰہی پاکستان کے وزیراعظم ہوں گے۔ اس صورت میں بےنظیر بھٹو چیئرمین سینیٹ ہوں گی۔ بےنظیر بھٹو اور مشرف کے درمیان پاور شیئرنگ کا منصوبہ کیا تھا، اس حوالے سے کوئی مصدقہ معلومات نہیں تھیں۔

چوہدری شجاعت حسین اپنی کتاب ’سچ تو یہ ہے‘ میں لکھتے ہیں کہ بےنظیر بھٹو اور جنرل پرویز مشرف کے درمیان رابطوں کی خبریں ہمیں 2006 میں ہی ملنا شروع ہو گئی تھیں۔ ہمیں حیرت تھی کہ جنرل مشرف ایسا کیوں کر رہے ہیں جبکہ چاروں صوبوں اور وفاق میں مسلم لیگ کی حکومتیں ٹھیک ٹھاک چل رہی تھیں۔ 2007 کے انتخابات میں ہمیں پیپلز پارٹی سے کوئی خطرہ بھی نہیں تھا۔ یہ خبریں عالمی میڈیا میں گشت کر رہی تھیں کہ واشنگٹن انتظامیہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے حوالے سے جنرل پرویز مشرف سے مطمئن نہیں ہے۔

’یہ سننے میں آ رہا تھا کہ واشنگٹن انتظامیہ کو آخر کار بےنظیر بھٹو اور ان کے لیے لابنگ کرنے والوں نے قائل کر لیا ہے کہ افغانستان کی نئی صورت حال کے بعد پاکستان کے اندر سارا انحصار جنرل مشرف اور فوج پر کرنا مناسب نہیں ہو گا، کیونکہ ماضی میں افغان طالبان کے ساتھ فوج کے بڑے قریبی مراسم رہے ہیں۔ چیک اینڈ بیلنس قائم رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ صدر بےشک مشرف ہی رہیں مگر ان کے ساتھ وزیراعظم بےنظیر بھٹو کو لگا دیا جائے۔ میرا اندازہ ہے کہ جنرل مشرف سمجھنے لگے تھے کہ ان کی آئندہ سیاسی بقا کی ایک ہی صورت ہے کہ وہ امریکہ اور بےنظیر بھٹو کے ساتھ ’کچھ لو اور کچھ دو‘ کی بنیاد پر معاملات طے کر لیں۔ اس طرح ان کی صدارت کی دوسری مدت پکی ہو جائے گی۔‘

چوہدری شجاعت آگے چل کر لکھتے ہیں کہ ’این آر او پر ہماری پارٹی میں اضطراب پیدا ہوا کیونکہ مشرف نے اپنی صدارت کے لیے اسمبلیوں سے ووٹ لیتے وقت یہ کمٹمنٹ کی تھی کہ وہ بےنظیر اور نواز شریف کے ساتھ کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ صدر مشرف نے اس وقت تو ہماری بات نہیں مانی مگر بعد میں انہوں نے تسلیم کیا کہ این آر او ان کی سب سے بڑی غلطی تھی، جس میں تیسری مرتبہ وزیراعظم بننے پر پابندی کا خاتمہ بھی شامل تھا۔‘

بے نظیر بھٹو کے قتل کے بعد 18 فروری 2008 کو ہونے والے عام انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی 124 سیٹوں کے ساتھ اکثریتی پارٹی بن کر سامنے آئی جبکہ ن لیگ 91 نشستوں کے بعد دوسری بڑی پارٹی بن کر ابھری۔ مسلم لیگ ق 54 نشستیں حاصل کر سکی، اس طرح چوہدری پرویز الٰہی کے وزیراعظم بننے کا خواب شرمندہ تعبیر نہ ہو سکا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

چوہدری شجاعت اپنی کتاب میں ان نتائج کو تسلیم نہیں کرتے اور برملا لکھتے ہیں کہ 2008 کا الیکشن فکسڈ تھا۔ اس کی مثال دیتے ہوئے وہ لکھتے ہیں کہ ’2008 کے انتخابات سے دو روز پہلے جو بائیڈن جو آج کل امریکہ کے صدر ہیں، سینیٹر جان کیری جو بعد میں امریکہ کے سیکریٹری خارجہ بنے اور چک ہیگل جو امریکہ کے سیکریٹری دفاع رہ چکے ہیں، کا پیغام ملا کہ وہ مجھ سے اور چوہدری پرویز الٰہی سے ملنا چاہتے ہیں۔ میں اس وقت اسلام آباد میں تھا چنانچہ لاہور میں یہ تینوں امریکی سینیٹرز ہماری رہائش گاہ پہنچے تو چوہدری پرویز الٰہی نے ان سے ملاقات کی۔ تینوں سینیٹروں نے بلا کسی تمہید کے کہا کہ ہمیں کوئی شک نہیں کہ آپ کے دور میں پنجاب میں تعلیم اور صحت کے شعبوں میں مثالی کام ہوئے ہیں۔ شرح پیداوار بہت اوپر آ گئی ہے لیکن ہم آپ کو یہ بتانے آئے ہیں کہ اگر آپ کی پارٹی یہ الیکشن جیت گئی تو ہم نتائج تسلیم نہیں کریں گے۔

’الیکشن سے دو روز پہلے امریکی سینیٹروں کی یہ بات سن کر ہمیں بڑی حیرانی ہوئی۔ پرویز الٰہی نے ان سے پوچھا، آپ تینوں حضرات سینیٹرز ہیں؟ تینوں نے جواب دیا ’ہاں۔‘

اس پر پرویز الٰہی نے کہا، ’اگر آپ کا مخالف سینیٹر الیکشن میں آپ کے خلاف یہی بات کرے تو آپ کیا محسوس کریں گے؟‘

’اس پر تینوں ہنسنے لگے۔ کہنے لگے کہ تاثر ہی کچھ ایسا بن گیا ہے۔ پرویز الٰہی نے جواب دیا کہ نتیجے اور تاثر میں بہت فرق ہوتا ہے۔ امریکی سینیٹروں سے ملاقات کے بعد پرویز الٰہی میرے پاس آئے اور کہنے لگے کہ یہ جو ہم این آر او کی بھرپور طریقے سے مخالفت کر رہے تھے اس کی وجہ سے ہمارے خلاف سازش تیار ہو چکی ہے ہمیں الیکشن میں ہرایا جائے گا۔‘

چوہدری شجاعت مزید لکھتے ہیں کہ ’الیکشن والے دن ابھی گنتی شروع نہیں ہوئی تھی کہ مجھے جنرل مشرف کا فون آیا اور کہنے لگے، ’چوہدری صاحب، آپ کو پینتیس چالیس نشستیں ملیں تو آپ نتائج تسلیم کر لیجیے گا، کوئی اعتراض نہ کیجیے گا۔‘

میں نے کہا، ’آپ کیسی بات کر رہے ہیں؟ ابھی تو گنتی شروع بھی نہیں ہوئی اور آپ نے فیصلہ سنا دیا۔‘

چوہدری پرویز الٰہی 2008 میں وزیراعظم تو بن نہیں سکے، مگر جب عمران خان کے خلاف عدم اعتماد پیش ہوئی تو اتحادی جماعتوں نے انہیں پنجاب کے وزیراعلی ٰ بنانے کی پیشکش کی تھی اور انہوں نے ایک انٹرویو میں عمران خان کو کٹھ پتلی وزیراعظم قرار دیا تھا جس کی ’نیپیاں بدلنے والا‘ کوئی اور تھا۔ مگر نجانے انہیں کیا سوجھی کہ انہوں نے اپنی جماعت کے صدر چوہدری شجاعت حسین کے مشورے کے بغیر ہی بنی گالہ کیمپ میں شمولیت اختیار کر لی۔

اس کی عمومی وجہ ان کے بیٹے مونس الٰہی کو بتایا جاتا ہے۔ مگر شاید اس کی ایک وجہ عمران خان کا امریکہ مخالف بیانیہ بھی ہو، جو دونوں کے درمیان قربت کی وجہ بنا ہو، کیونکہ کم و بیش 14 برس پہلے امریکہ نے الیکشن جیتنے کی صورت میں بھی انہیں وزیراعظم قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

اس لیے شاید عمران خان کا ساتھ دے کر وہ امریکہ سے پرانے بدلے چکانے پر اتر آئے ہوں، کیونکہ بہر حال وہ گجرات کے چوہدری ہیں، جو اپنا حساب یاد رکھتے ہیں۔

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی تاریخ