صدر ٹرمپ کے نفسیاتی مسائل

ہماری دنیا کی بقا اسی میں ہے کہ ہم ایک خطرناک، غصیلے، خود پسند، بدتہذیب، تفسیاتی مسائل کے شکار شخص کے قائم کردہ نظام کو منہدم کر دیں۔

صدر ٹرمپ کالڑاکا رویہ، ان کی ٹویٹس، ان کی تقریریں سفید فام برتری اور تشدد بھڑکانے کے کام آرہی ہیں

برطانوی سفیر سر کم ڈیروک نے اپنی افشا ہونے والی ای میلز میں ٹرمپ انتظامیہ کی عدم قابلیت اور کسی بہتری کی امید نہ ہونے کے یقین کا اظہار کیا ہے۔ ان ای میلز نے دراصل اس بنیاد پر وار کیا ہے جس کی وجہ سے موجودہ صدر ٹرمپ اقتدار میں آئے۔

ان کا شیخی بگھارتا مسکراتاچہرہ ریٹنگ حاصل کرنے کی کوشش ہی کرتا دکھائی دیتا ہے۔ ٹرمپ بہت اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ عوام میں ان کی ناکامیوں کو لے کر پائے جانا والا رویہ بالکل اس والد کی طرح ہے جو یہ کہتا ہے ’میں بہت مایوس ہوا ہوں۔‘

یہ عدم تحفظ کا شکار اس بچے کو مزید غم ناک کر دیتا ہے کیونکہ یہ اس کی متاثر نہ کر سکنے کی صلاحیت کا اعلان ہے، لیکن ٹرمپ تو ہر قیمت پر یہی چاہتے ہیں کو وہ لوگوں کو متاثر کر سکیں۔

جب کوئی اداس ہوتا ہے، جب کوئی ان کی صداقت، ایمانداری اور ذاتی زندگی میں بھی ان کی عزت نہیں کرتا تو وہ اپنی ہی خیالی دنیا میں دوسروں کو ناکام قرار دے کر اپنی ناکامی کو چھپاتے ہیں۔ نرگسیت کے شکار لوگوں کے لیے یہ کلیہ آزمودہ اور مشترکہ ہے۔ اپنی ناپسندیدہ عادات کو ان لوگوں سے منسوب کرنا جو آپ کو ناکام محسوس کرواتے ہیں اور پھر اپنے ساتھ ایسی خصوصیات منسوب کرنا جو بہت باوقار اور مثبت ہوں۔

 کیا سر کم  ڈیروک کے بارے میں ٹرمپ کا ردعمل ایسا ہی نہیں ہے؟ امریکی صدر کہتے ہیں: ’ وہ سنکی سفارت کار جو برطانیہ نے امریکا بھیجا ہے ہم اس سے بالکل خوش نہیں۔ وہ ایک بے وقوف انسان ہیں۔ مجھے بتایا گیا ہے کہ وہ بہت بڑے احمق ہیں۔ انہیں بتا دیں کہ امریکہ اس وقت دنیا کی بہترین معاشی اور فوجی طاقت ہے۔ جناب صدر، آپ کا شکریہ۔‘

آپ نااہلی کو نظرانداز کر دیں، انا کی دوبارہ تشکیل کریں اور میری ظاہری کامیابیوں کو دیکھیں۔ یہی امریکی صدر کا طریقہ کار ہے اور یہ امریکی ثقافت کی علامت بن چکا ہے۔

ہمارے موجودہ صدر کا 1990 کی دہائی کا انٹرویو پڑھتے ہوئے آپ کو اندازہ ہوتا ہے کہ اس وقت نیویارک میں رئیل سٹیٹ کے کاروباری انسان کا یہ انٹرویو نفسیاتی تحقیق کے لیے بہت دلچسپ ہو سکتا ہے۔

وہ باقی اقوام کو ’انا پسندی‘ کے معاملے میں امریکہ سے برتری رکھنے والا سمجھتے ہیں۔ خاص طور پر جاپان، جرمنی، سعودی عرب اور جنوبی کوریا اور وہ یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ ہماری مشترکہ’ قومی انا‘ ان تمام اقوام سے زیادہ ہونی چاہیے۔ وہ اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ کامیابی ان کے لیے کتنی ضروری ہے اور اس کو بلند آواز اور مشہور ہونا چاہیے۔

ڈونلڈ ٹرمپ غیر یقینی اور کامیابی کے درمیان ڈولتے ہوئے اپنے والد فریڈ ٹرمپ کی بات کرتے ہیں۔’ میں جان بوجھ کر بہت سے لوگوں پر بھروسہ نہیں کرتا۔ یہ میرے لیے کوئی منفی نہیں بلکہ مثبت بات ہے۔ یہ میں نے فریڈ سے سیکھا ہے۔ میں ان کا احسان مند ہوں۔ وہ ایک مطمئن انسان بھی ہو سکتے تھے لیکن ایسا نہیں ہو سکا۔‘

قیادت کے بارے میں ٹرمپ کے خیالات ان کے والد سے متاثر ہیں جو کہ غلبے پر مبنی ہے احساس پر نہیں۔ وہ کہتے ہیں:’ میں چاہتا تھا کہ میں اپنے والد اور باقی افراد کو یہ ثابت کروں کہ میں ایک کامیاب انسان ہوں۔ مجھ میں اپنے دم پر کامیاب ہونے کی صلاحیت ہے۔ میرے والد ایک سخت گیر والد تھے جو فضول بات نہیں سنتے تھے لیکن انہوں نے مجھے کبھی مارا نہیں۔ وہ رکھ رکھاو سے چلتے تھے طاقت کے بل بوتے پر نہیں۔‘

کوئی رکھ رکھاو سے کیسے سختی کر سکتا ہے؟ نفسیاتی تشدد بعض اوقات شفقت کے پردے میں ہی کیا جاتا ہے جو جذباتی زخموں کے انمٹ نقوش چھوڑتا ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ ’انہوں نے مجھے کبھی مارا نہیں۔‘ یہ کئی رشتوں میں نفسیاتی اور جذباتی تشدد کا دوسرا نام سمجھا جاتا ہے۔ ان کا مقصد درد کو جھٹلانا تھا کیونکہ درد اس معاملے میں کمزوری کی علامت سمجھا جاتا ہے اور ساتھ اس بات پر زور دیا جاتا ہے کہ ان کے ایسا ہونے میں ان چیزوں نے کردار ادا کیا ہے۔ لیکن اس کی گہرائی میں کیا بات پوشیدہ ہے، جو غیر محسوس انداز میں دکھانے کی کوشش کی جا رہی ہے وہ نامکمل ہے اور جو نظر نہیں آرہا وہ موجود ہی نہیں ہے۔

یہ غیر حقیقی مطالبات اس بات کو حقیقت تسلیم کرنے تک جاری رہتے ہیں۔ کسی انسان کے پاس دولت کی مقدار کو اس کی کامیابیوں کے ساتھ جوڑا جاتا ہے اور اس کے ساتھ ہی ان تمام اثاثوں کو اس کامیابی کا حصہ قرار دے دیا جاتا ہے۔ ٹرمپ کے امریکا میں کامیابی کا مطلب دکھاوا ہے۔

ٹرمپ کی جانب سے معاشرے پر تھوپے جانے والے یہ غیر حقیقی خیال دردناک اور منفرد ہے جو ٹرمپ خود پر بھی طاری کر رہے ہیں۔ ہر طرح سے توجہ حاصل کرنے کی ان کی کوشش ان کے بچپن کی چوٹوں کی یادگار محسوس ہوتی ہے۔

دنیا میں کوئی بھی شخص اور کوئی بھی خیال بغیر کسی تعمیری شکل کے قبولیت اور محبت کے قابل نہیں سمجھا جاتااور اسے  ہر موڑ پر کوئی نہ کوئی خطرہ رہتا ہے۔

بہتر ہے کہ اچھا تعلق قائم کیا جائے جو باہمی احترام پر مبنی ہو۔ ایک کوشش کی جا رہی ہے کہ ہر سماجی نزاکت اور معاشری قدروں کو تہہ و بالا کر دیا جائے کیونکہ آپ کے قدموں کے نیچے سے قالین کھینچے جانے کا امکان ہر وقت موجود رہتا ہے۔

ان کی جانب سے مسلسل عمل کیا جانے والے اصول کہ ہر صورت میں کامیابی ہی ضروری ہے ایک ایسے فرد کی ضد ہے جو متوقع ہار قبول کر کے نہیں رہ سکتا۔ وہ کتنا کمزور انسان ہے جو اس بات پر زور دیتا ہے کہ وہ درد محسوس نہیں کرتا۔ یہ کمزوری ان کی اںا پسندی میں بھی برابر نظر آتی ہے۔ آپ کی انا جتنی زیادہ ہو گی آپ اتنے ہی کمزور انسان ہوتے ہیں۔ چھوٹی سے چھوٹی بات کو بھی بہت ذاتی انداز میں شدت کے ساتھ محسوس کیا جاتا ہے۔ پھر جس انداز میں جس شدت اور جلد بازی کے ساتھ اس کا جواب دیا جاتا ہے اس کا مقصد صرف خود کو طاقتور ثابت کرنا ہے۔

یہ ایک اور وجہ ہے اس اجتماعیت کی جس کی ٹرمپ بار بار بات کرتے رہتے ہیں۔ وہ اپنے انٹرویو میں تیاننمن سکوائر کی بات کرتے ہیں اور حکومتی تشدد کو ’طاقت‘ کہتے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یہ بالکل بھی حیران کن نہیں۔ ان کی نظر میں اپنی ذات کا صرف یہ تصور ہے کہ جو بھی اس کی مخالفت کرے اسے مکمل طور پر مٹا دو۔ آمروں اور جابر حکمرانوں کے لیے ان کی پسندیدگی مکمل کنٹرول کی وجہ سے ہے جو وہ کبھی اندرونی طور پر نہیں کر سکتے۔

ان کا لڑاکا رویہ، ان کی ٹویٹس، ان کی تقریریں سفید فام برتری اور تشدد بھڑکانے کے کام آرہی ہیں۔ یہ ایسے ہتھیار ہیں جو ہماری قوم کی تشکیل کے وقت سے ہی طاقت اور اختیار حاصل کرنے کے لیے غلط طور پر استعمال کیے جا رہے ہیں۔

یہ غفلت پر مبنی زہریلا تصور ہے کہ اگر اختیار دکھائی نہیں دے رہا تو وہ موجود ہی نہیں ہے۔ جو تمام سلطنتوں اور اناؤں میں ایک چھید کر دیتا ہے جو کہ ایک غیر محفوظ صورتحال ہے۔

ٹرمپ ہمارے وقتوں میں اس کی علامت نہیں بلکہ وہ ثقافت اور بادشاہت کے اس صدمے کا جیتا جاگتا نمونہ ہیں۔ وہ سرمایہ دارنہ نظام کا چلتا پھرتا وجود ہیں۔ جہاں لوگوں سے زیادہ منافعے کو اہمیت دی جاتی ہے۔

ہماری ثقافت بھی ڈونلڈ ٹرمپ کی طرح ہماری کامیابی کو مادی پیمانے سے دیکھتی ہے۔ آپ اتنی ہی قدر رکھتے ہیں جتنی آپ بتانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ کچھ حاصل کریں اور دنیا کو دکھائیں۔

ٹرمپ کا امریکہ صنعت اور منافعے کے عشق میں اس حد تک مبتلا ہے کہ وہ موسمیاتی تبدیلی کو بھول چکا ہے۔ یہ ایسا امریکہ ہے جو جب ہمارے بچوں کو گولی ماری جاتی ہے تو صرف لاپروائی سے کندھے اچکاتا ہے۔

جو محفوظ رہنے کے احساس کو سکول میں پڑھنے سے زیادہ اہم مانتا ہے۔ یہ امریکہ جو خود کو دنیا کی عظیم ترین قوم کہتا ہے وہ بنیادی انسانی حقوق فراہم کرنے میں بھی ناکام ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا امریکہ حقیقت کے بغیر صرف تاثر پر مبنی ہے۔ یہ ناقابل قبول ہے۔ ہمیں اس سے بڑھ کے سوچنا ہوگا۔

یہی سوچ اس نظام کے لیے بددعا جیسی ہے۔ یہ سوچ زور دیتی ہے کہ کوئی ہے جو اختیار رکھتے ہوئے بھی بہتر ہے۔ ایک بہتر ملک اور بہتر دنیا کا خواب ہی ٹرمپ کے امریکہ کو منہدم کر سکتا ہے۔ یہ ایک بے رحم اور شفاف باطنی مشاہدے کا متقاضی ہے۔ ہمیں ان سنی اور درد بھری آوازوں کو سننا ہوگا۔ یہ آوازیں ٹرمپ کی بلند اور روایتی باتوں کو ڈبو دیں گی۔ ایسی ہی باتیں کر کے جبر کرنے والوں نے لوگوں کو ڈرا کے فرمان برداری پر مجبور کیا ہے۔

خیالات اس حقیقت کو عملی شکل دینے سے نہیں روک سکتے۔ اپنی ذات میں ہی جھوٹ، دھوکے ، فریب اور جھوٹی تعریفوں پر مبنی نازک تصورات رکھنے والوں کی جانب سے اس کو قائم رکھنے کی ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔

اسی لیے صدر مختصر یا طنزیہ نام استعمال کرتے ہیں۔ جیسے کہ سکول کا کوئی بدمعاش ہو۔ وہ چاہتا ہے کہ کچھ بھی کر کے وہ اپنے مخالف کو اپنی انا کو للکارنے سے باز رکھے۔ وہ اچھی طرح جانتا ہے کہ کیا بات اس کے مخالف کو زخمی کر سکتی ہے اور وہ اس کی ایسی مضحکہ خیز تصویر بنا دیتا ہے جو شاید سچائی کے ساتھ تھوڑا تعلق رکھتی ہو لیکن یہ اس کو اتنا زخمی کرنے کے لیے ہوتی ہے جو اس کی انا کو تسکین پہنچا سکے۔

اگر ہم ٹرمپ کو جابر اور لوگوں کو ان کے متاثر ین سمجھیں تو ہم ان کے بچپن میں اختیار کیا جانے والا رویہ بھی دیکھ سکتے ہیں جو ہمیشہ مقبولیت کے لیے جتن کرتا ہے لیکن ہر بار ناکام رہتا ہے۔ اس کے لیے کچھ بھی کافی نہیں ہے، سوائے مکمل غلامی کے کیونکہ یہ ہمارے لیے نہیں بلکہ ٹرمپ کے لیے ہے۔

ہم طاقت کے بھوکے اور نرگسیت کے شکار جابروں سے کیسے نمٹنے ہیں؟ آپ کوئی راہ نکالیں، کوئی الگ زندگی اور پھر آپ اپنے اردگرد موجود لوگوں کی حمایت سے مکمل صداقت اور وقار کے ساتھ ایسا کر گزریں۔ آپ بالکل شفاف ہوں گے۔ ناکامی کا اعتراف کریں گے، غلطیاں تسلیم کریں گے اور مدد طلب کریں گے۔

ایسے خیالات ہی غیر حقیقی تصورات کو ہلا کے رکھ دیتے ہیں۔ وہ انہیں نا قابل عمل، نا اہل اور بے ڈھنگا ثابت کرتے ہیں جو مکمل ناکامی کی جانب گامزن ہیں۔

یہ آسان نہیں ہے، شاید ناممکن بھی لگتا ہو لیکن یہ بہت ضروری ہے۔ ہماری دنیا کی بقا اب اسی پر منحصر ہے کہ ہم ایک خطرناک، غصیلے، خود پسند، بدتہذیب، تفسیاتی مسائل کے شکار شخص کے قائم کردہ اس نظام کو منہدم کر دیں۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی امریکہ