وزیرستان کے مارشل آرٹ ماہر، جنہوں نے آئی ڈی پیز کی تربیت کی

عرفان محسود نے 2015 سے ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک مارشل آرٹس اکیڈمی بنا رکھی ہے، جہاں وہ ان بچوں کو مارشل آرٹس کی تربیت دیتے ہیں، جو جنوبی وزیرستان سے نقل مکانی کرکے آئے ہیں۔

جنوبی وزیرستان کے رہائشی عرفان محسود پیشے کے اعتبار سے مارشل آرٹ کے ماہر ہیں اور اب تک کئی ریکارڈ اپنے نام کر چکے ہیں۔

تاہم انہیں شکایت ہے کہ عالمی سطح پر ملنے والی اس شہرت کو ان کے اپنے ملک میں سرکاری سطح پر کوئی پذیرائی نہیں ملی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

عرفان کے مطابق انہوں نے 2015 سے ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک مارشل آرٹس اکیڈمی بنا رکھی ہے، جہاں وہ ان بچوں کو مارشل آرٹس کی تربیت دیتے ہیں، جو جنوبی وزیرستان سے نقل مکانی کرکے آئے ہیں۔

ان کے مطابق: ’میں دیکھا کرتا تھا کہ جنوبی وزیرستان سے نقل مکانی کرکے آنے والے بچے کس طرح اپنا وقت ضائع کر رہے تھے۔ اس لیے میرا اکیڈمی بنانے کا مقصد یہی تھا کہ ان بچوں کی تربیت کی جائے اور انہیں کسی مثبت سرگرمی میں شامل کیا جائے۔‘

عرفان نے بتایا کہ شروع میں انہیں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ’لوگ ہماری حوصلہ شکنی کیا کرتے تھے کہ آپ اپنا وقت ضائع کر رہے ہیں۔ یہ چیز آپ کے کام نہیں آنی۔ یہاں تک کہ ہمیں نو مختلف جگہیں تبدیل کرنی پڑیں کہ اپنی ٹریننگ جاری رکھ سکیں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی نئی نسل