جوہری طاقت بن سکتے ہیں تو معاشی کیوں نہیں: وزیراعظم پاکستان

یوم آزادی کی تقریب سے خطاب میں وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ’ہمیں قومی مکالمے کی ضرورت ہے تاکہ ماضی کی غلطیوں کی واضح نشاندہی کی جا سکے۔ ہمیں (پاکستان کے) حالات کی اصلاح کے لیے مخلصانہ جدوجہد شروع کرنا ہو گی۔‘

14 اگست 2022 کی پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کی جاری کردہ اس تصویر میں پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف یوم آزادی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے(پی آئی ڈی)

پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے تمام فریقوں پر زور دیا ہے کہ ملک کے پیچیدہ مسائل حل کرنے کے لیے قومی ڈائیلاگ کی طرف بڑھیں۔

آج 14 اگست کو پاکستان کا 75 واں یوم آزادی منایا جا رہا ہے۔ 14 اگست 1947 کو ہندوستان برطانیہ سے آزادی حاصل کرنے کے بعد پاکستان اور بھارت میں تقسیم ہو گیا تھا۔

عرب نیوز کے مطابق یوم آزادی کے موقعے پر اسلام آباد کے جناح کنونشن سینٹر میں پرچم کشائی کی مرکزی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔

یوم آزادی کی تقریب سے خطاب میں وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ’ہمیں قومی مکالمے کی ضرورت ہے تاکہ ماضی کی غلطیوں کی واضح نشاندہی کی جا سکے۔ ہمیں (پاکستان کے) حالات کی اصلاح کے لیے مخلصانہ جدوجہد شروع کرنا ہو گی۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پاکستان میں سیاسی درجہ حرارت بڑھتا جا رہا ہے۔ سابق وزیر اعظم عمران خان نے موجودہ وزیر اعظم شہباز شریف اور اتحادی حکومت پر اس سال کے شروع میں انہیں اقتدار سے بے دخل کرنے کی امریکی حمایت یافتہ سازش کا حصہ بننے کا الزام لگایا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ قومی مکالمے کا نقطہ آغاز’میثاق معیشت ہو سکتا ہے۔‘

انہوں نے سوال کیا کہ ’اگر ہم ایٹمی طاقت بن سکتے ہیں تو معاشی طاقت کیوں نہیں بن سکتے؟‘

قبل ازیں اپنے تحریری پیغام میں وزیراعظم نے کہا کہ ’پاکستان کا قیام اس کے بانی محمد علی جناح کی یکجہتی، لگن، غیر متزلزل عزم اور مسلسل جدوجہد کا نتیجہ ہے۔‘

انہوں نے کہا: ’کسی قوم کے لیے اندرونی تقسیم سے زیادہ خطرناک کوئی چیز نہیں ہے۔ انتشار اور افراتفری ملک کی یکجہتی اور سالمیت کو نقصان پہنچاتی ہیں اور معاشروں کو ان کے قومی مقصد سے محروم کر دیتی ہیں۔‘

وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم عوام کی طاقت سے تقسیم اور تباہی کی ذمہ دار قوتوں کو پیچھے دھکیل سکتے ہیں اور اپنی آزادی اور تشخص کی حفاظت کر سکتے ہیں۔ مجھے عوام کی صلاحیتوں پر پورا بھروسہ ہے کہ وہ آگے بڑھنے کا راستہ بنائیں گے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان