ایک نظم سے ’عمران خان کو مشہور‘ کرنے والے کرم خان کا شکوہ

سوات کی تحصیل مٹہ سے تعلق رکھنے والے کرم خان ذوالفقار علی بھٹو، نواز شریف، ایوب خان اور عمران خان کے جلسوں کو اپنی شاعری سے چار چاند لگا چکے ہیں لیکن اب انہوں نے جلسوں میں جانا چھوڑ دیا ہے۔

سوات کی تحصیل مٹہ سے تعلق رکھنے والے کرم خان پیشے کے لحاظ سے تو پنساری ہیں لیکن سیاسی جلسوں میں شاعری اور سیاسی رہنماؤں کے قصیدے پڑھا کرتے تھے۔

مگر حالات کی ستم ظریفی دیکھیے کہ یہ سیاسی شاعر اب غیر سیاسی ہوگئے ہیں اور وجہ وسائل کا نہ ہونا، خراب مالی حالات اور سیاسی رہنماؤں کی جانب سے تعاون نہ ہونا ہے۔

تحصیل مٹہ کے علاقے بیدرہ کے رہائشی 63 سالہ کرم خان 1965 سے مختلف سیاسی جماعتوں کے لیے نظمیں اور شاعری کرتے رہے ہیں۔

انہوں نے ذوالفقار علی بھٹو، میاں محمد نواز شریف، ایوب خان اور عمران خان کے لیے نظمیں لکھیں اور ان کے جلسوں کو چار چاند لگائے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ سیاسی جماعتیں اس سیاسی شاعر کو باقاعدہ روزانہ کی بنیادوں پر اجرت پر جلسوں میں لے جاتی تھیں لیکن بعض اوقات جلسوں میں شرکت کے بعد انہیں وہاں بے یار و مددگار چھوڑ دیا جاتا جس کے باعث وہ اب جلسوں کی رونق نہیں بنتے۔

 کرم خان نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا: ’میں نے اب مختلف جلسوں میں جانے سے بائیکاٹ کر دیا ہے کیونکہ جلسوں کے لیے میرے پاس کپڑے، ٹوپی، جھنڈے اور دیگر وسائل نہیں ہوتے۔‘

انہوں نے مزید بتایا: ’سیاسی کارکنان اور مشران میرے ذریعے اپنے جلسوں کو کامیاب بنا کر اس کے بعد میرا حال تک نہیں پوچھتے تھے۔‘

 کرم خان کی دکان تحصیل مٹہ میں وزیراعلیٰ محمود خان کے گاؤں میں ہے، جہاں وہ جڑی بوٹیوں سے ادویات بناتے ہیں اور روزانہ چار، پانچ سو روپے بمشکل کماتے ہیں جس سے ان کے گھر کا خرچہ مشکل ہی سے چلتا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے بتایا: ’میں نے کئی بار مخیر حضرات اور سیاسی پارٹیوں کے مشران سے تعاون کی درخواست کی لیکن میرے لیے کسی نے کچھ نہیں کیا۔‘

 کرم خان کے مطابق انہوں نے جب صدر ایوب خان کی سوات آمد پر ان کے سامنے نظم پڑھی تو انہوں نے تعریف کی اور میرے ساتھ کھانا بھی کھایا تھا۔ ’وہ دن میری زندگی کا سب سے حسین اور یادگار دن تھا۔ عمران خان جب سیاست میں آئے تو انہیں کوئی نہیں جانتا تھا لیکن جب میں نے ان کے لیے نظم لکھی تو وہ راتوں رات مشہور ہو گئے۔‘

انہوں نے عمران خان کے لیے جو نظم لکھی وہ پشتو زبان میں ہے اور اس کے الفاظ کچھ یوں ہیں: ’دلتہ کی چہ زمکہ چہ آسمان نیولی دی، مونگ زانہ مشر عمران خان نیولی دے۔‘

یعنی ’یہاں کسی نے اپنے لیے زمین اور کسی نے آسمان کا انتخاب کیا، لیکن ہم نے اپنے لیے عمران خان کا انتخاب کیا ہے۔‘

کرم خان کے مطابق انہوں نے ہر پارٹی کے لیے نظمیں گائی ہیں جیسے پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن اور دیگر جماعتوں کے لیے بھی ’جن کے رہنماؤں کو دیکھنے کے لیے میری آنکھیں ترس رہی ہیں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی میری کہانی