کابل کے تعلیمی مرکز میں خودکش دھماکہ، 19 افراد ہلاک

کابل پولیس کے ترجمان خالد زدران نے بتایا کہ جمعے کی صبح طلبہ امتحان کی تیاری کر رہے تھے کہ کاج تعلیمی مرکز پر ایک حملہ آور نے خودکش دھماکہ کردیا۔

افغانستان کے دارالحکومت کابل کے علاقے دشت برچی میں 30 ستمبر 2022 کو ایک تعلیمی مرکز میں دھماکے کے بعد ایک خاتون اپنے رشتہ دار کی تلاش کے لیے موٹر سائیکل پر ہسپتال پہنچیں (اے ایف پی)

افغانستان میں پولیس کا کہنا ہے کہ دارالحکومت کابل کے علاقے دشت برچی میں واقع ایک تعلیمی مرکز میں جمعے کی صبح ایک خودکش دھماکے کے نتیجے میں 19 افراد ہلاک جبکہ 27 زخمی ہوگئے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق کابل پولیس کے ترجمان خالد زدران نے بتایا کہ ’طلبہ امتحان کی تیاری کر رہے تھے کہ کاج تعلیمی مرکز پر ایک حملہ آور نے خودکش دھماکہ کیا اور بدقسمتی سے 19 افراد شہید اور 27 دیگر زخمی ہو گئے۔‘

اس سے قبل طالبان حکومت میں وزارت داخلہ کے ترجمان عبدالنافع تکور نے بھی واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے زخمیوں اور ہلاکتوں کا خدشہ ظاہر کیا تھا۔

فوری طور پر کسی نے بھی اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی، تاہم افغانستان میں سرگرم شدت پسند تنظیم داعش نے حالیہ دنوں میں مختلف دھماکوں اور حملوں کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی ویڈیوز اور مقامی میڈیا کی طرف سے شائع کی گئی تصاویر میں دیکھا جاسکتا ہے کہ متاثرین کو شدید زخمی حالت میں جائے وقوعہ سے منتقل کیا جارہا ہے۔

کابل کے تعلیمی مرکز میں یہ دھماکہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے، جب گذشتہ برس اگست میں نیٹو افواج کے انخلا کے بعد افغانستان کا کنٹرول حاصل کرنے والے طالبان پر لڑکیوں کی تعلیم کے پر پابندی اور جامع حکومت بنانے میں ناکامی سمیت دیگر فیصلوں پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔

افغانستان میں تنازعات کے دوبارہ ابھرنے کے خدشات

عالمی امور پر نظر رکھنے والے ماہرین اور سیاسی تجزیہ کار افغانستان میں تنازعات کے دوبارہ ابھرنے کے خدشات کا اظہار کر رہے ہیں۔

افغانستان کے لیے امریکہ کے خصوصی نمائندے تھامس ویسٹ نے بدھ کو پیش گوئی کی تھی کہ جنگ سے متاثرہ ملک میں تنازعات دوبارہ جنم لیں سکتے ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ طالبان گذشتہ سال اقتدار میں آنے کے بعد سے تعلقات استوار کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سینٹر فار سٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل سٹڈیز میں بات کرتے ہوئے تھامس ویسٹ کا کہنا تھا: ’مجھے واقعی ڈر ہے اور میرے خیال میں یہ اتفاق رائے ہے کہ اب ہم جو کچھ دیکھ رہے ہیں وہ 44 سال سے جاری تنازعے میں تعطل ہے اور ہم خانہ جنگی کی طرف واپسی دیکھ سکتے ہیں۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ جون اور جولائی میں طالبان کی زیر قیادت ہزاروں علما اور مذہبی سکالرز کے اجلاس سے ظاہر ہوتا ہے کہ طالبان افغانستان کی ’خوشحالی یا تنوع‘ کی نمائندگی کرنے میں سنجیدہ نہیں ہیں۔

ان کا کہنا تھا: ’سیاسی عمل کو شروع ہوتے ہوئے دیکھنا اب بھی ضروری ہے۔‘

دوسری جانب افغانستان کے پڑوسی ملک پاکستان نے دنیا پر زور دیا ہے کہ وہ طالبان کے ساتھ مل کر کام کرے۔

اپنے دورہ واشنگٹن کے دوران پاکستانی وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے اے ایف پی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں خبردار کیا کہ اگر افغانستان کے حکمرانوں کو دوبارہ الگ تھلگ کیا گیا تو اس کے خطرناک نتائج برآمد ہوں گے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا