کابل: لڑکیوں کے سکول بند لیکن چند طالبات کی تعلیم کا سلسلہ جاری

طالبان نےجب چھٹی کلاس سے بارہويں کلاس کی طالبات کے لیے سکول کے دروازے بند کیے توپرائیویٹ کورسز میں بھی طالبات کی تعداد کم ہوئی۔

افغانستان میں طالبان کے حکومت میں آنے کے بعد لڑکیوں کے زیادہ تر سکول بند ہیں لیکن معاشی بدحالی اور پابندیوں کے باوجود کچھ طالبات تعلیم کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں تاہم ان کورسز میں طالبات کی تعداد میں بڑی کمی آئی ہے۔

افغانستان میں گذشتہ سال کی سیاسی تبدیلی سےپہلےجنگ کےباوجود سکولوں اور پرائیویٹ کورسز میں طالبات کی تعداد زیادہ تھی اور شہروں کےتعلیمی مراکز میں جوش و خروش بہت زیادہ تھا لیکن طالبان کے حکومت سنبھالنے کے بعد افغانستان میں کئی مسائل میں اضافہ ہوا ہے جن میں بےروزگاری اور لڑکیوں کی تعلیم کا مسئلہ قابل ذکر ہے۔

طالبان نےجب چھٹی کلاس سے بارہويں کلاس کی طالبات کے لیے سکول کے دروازے بند کیے توپرائیویٹ کورسز میں بھی طالبات کی تعداد کم ہوئی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پرائیویٹ کورسزمیں پڑھنے والے طلبہ، طالبات اوران کے اساتذہ کے مطابق اس کمی کی کئی وجوہات ہیں جن میں سب سےبڑی وجہ طالبان کی جانب سے لگائی جانے والی پابندیاں اور معاشی بدحالی ہیں۔

 اس حوالے سے کورس ٹیچر ہمت بصیری کا کہنا ہے کہ ’جو لوگ پہلے اپنے بچوں کی تعلیم کا خرچہ اٹھاتے تھے وہ اب نہیں اٹھا پا رہے۔ ایک اور وجہ خواتین اساتذہ کا نہ ہونا ہے جبکہ سیاسی تبدیلی اور پابندیوں کی وجہ سے بھی لڑکیاں تعلیم کا سلسلہ جاری رکھنے سے کتراتی ہیں۔‘

طالبہ سونیا امیری کا کہنا ہے کہ ’تعلیم میں لڑکیوں کی تعداد میں کمی کی سب سے اہم وجہ کمزور معیشت ہے کیونکہ طالبان کی حکومت آنے کے بعد زیادہ تر افراد جو پہلے ملازمت کرتے تھے اب بے روزگار ہو چکے ہیں۔ اسی بے روزگاری کی وجہ سے لڑکیاں تعلیم حاصل نہیں کر پا رہیں۔‘

تعلیمی میدان میں خواتین کی تعداد میں کمی کو محسوس کرتے ہوئے کچھ سماجی کارکنان نے ایسے رضاکارانہ کورسز کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے جن میں لڑکیوں کو بند دروازوں کے پیچھے پڑھایا جا رہا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی خواتین