عرب امارات نے میٹاورس میں وزارت قائم کر لی

یہ وزارت میٹاورس کے اندر ہی کمپنیوں کے ساتھ کاروبار حتیٰ کہ غیر ملکی حکومتوں کے ساتھ دوطرفہ معاہدوں پر دستخط بھی کرے گی۔

دبئی کا میوزیم آف فیوچر جس کے اندر میٹاورس کا اعلان کیا گیا (اے ایف پی)

متحدہ عرب امارات، جس کو دنیا میں اپنی فلک بوس عمارات پر فخر ہے اور جو مریخ مشن کا بھی آغاز کر چکا ہے، وہ اب میٹاورس کی گہرائیوں میں اپنی پیش قدمی کی امید لگائے بیٹھا ہے۔

دبئی کے چمکتے ہوئے میوزیم آف دی فیوچر میں شروع کیے گئے ایک منصوبے میں، اماراتی حکام نے اعلان کیا ہے کہ متحدہ عرب امارات کی معیشت کی وزارت زیر تشکیل عمیق ورچوئل دنیا میں اپنا ایک آفس کھول رہی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ جو لوگ ورچوئل رئیلٹی چشمے استعمال کرتے ہیں یا میٹاورس کے اندر کام کرنے کے لیے دیگر ذرائع استعمال کرتے ہیں، انہیں وہاں وزارت ملے گی جو کمپنیوں کے ساتھ کاروبار حتیٰ کہ غیر ملکی حکومتوں کے ساتھ دوطرفہ معاہدوں پر دستخط بھی کرے گی۔

متحدہ عرب امارات کے وزیر اقتصادیات نے اعتراف کیا کہ میٹاورس، جو اگرچہ ابھی ’آزمائشی‘ مرحلے میں ہے، ایک آن لائن دنیا ہے، اسے لانے والوں کا کہنا ہے کہ اس میں صارفین گیم کھیلنے سمیت کام اور مطالعہ کر سکیں گے۔

عبداللہ بن توق المری شہر کی مرکزی شاہرہ پر بنائے گئے عربی خطاطی سے سجے ہوئے انگوٹھی نما عجائب گھر میں منعقدہ افتتاحی دبئی میٹاورس اسمبلی سے خطاب کر رہے تھے۔

بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے نمائندگان نے میٹاورس، جو حقیقی دنیا کی ڈیجیٹل ورلڈ میں توسیع ہے، کی صلاحیت کےبارے میں جاننے کے لیے کاروباری اداروں اور ڈویلپرز کے ساتھ ملاقاتیں کیں۔

عبداللہ بن توق المری نے اے ایف پی کو بتایا کہ’ ویزا سسٹم تبدیل ہونے کے ساتھ گذشتہ چند برسوں کے دوران ہم نے سرمایہ کاری دیکھی ہے، ہم نے کمپنیوں کو منتقل ہوتے دیکھا ہے، اور ہم دیکھ رہے ہیں کہ ٹیلنٹ بھی آ رہا ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ’ہم نے اپنے ملازمین کو تربیت دی ہے کہ وہ میٹاورس کو سیکھیں، اس کا استعمال کریں اور آنے والی جنریشن زیڈ کے ساتھ رابطہ کریں۔

برج خلیفہ جس کی بلندی 830 میٹر (2،723 فٹ) ہے سمیت دیگر بڑے منصوبوں کی تاریخ رکھنے والے متحدہ عرب امارات کو امید ہے کہ 2030 تک یہ میٹاورس اس کی جی ڈی پی میں سالانہ چار ارب ڈالر اور افرادی قوت میں 40 ہزار ملازمتوں کا اضافہ کر سکتا ہے۔

دبئی دنیا کی سرفہرست 10 معیشتوں میں سے ایک بننے کے لیے، فری لانسرز، کاروباری اداروں اور تخلیق کاروں کے لیے ویزا قوانین میں نرمی کی مدد سے بلاک چین اور متعلقہ ٹیکنالوجیز میں مہارت رکھنے والی ایک ہزار کمپنیوں کو اپنی طرف متوجہ کرنا چاہتا ہے۔

عبداللہ بن توق المری نے مزید کہا کہ کرونا وائرس کی وجہ سے زیادہ سے زیادہ لوگوں آن لائن دنیا میں چلے گئے ہیں اور ’کوویڈ نے واقعی اس رجحان کو تیز کر دیا۔‘

انہوں نے کہا کہ ’ہمارا خیال ہے کہ میٹاورس ایک زیر تشکیل ٹیکنالوجی ہے‘ جسے ابھرنے میں 10 سے 20 سال لگ سکتے ہیں۔ کوویڈ 19 کی وجہ سے ہم تیزی سے اس میں چلے گئے اور اس کا استعمال بڑھ گیا ہے۔‘

متحدہ عرب امارات کے تیل سے مالا مال دارالحکومت ابوظبی کے برعکس خام تیل دبئی کی معیشت کا صرف پانچ فیصد ہے جس کا رحجان کاروبار، سیاحت، رئیل اسٹیٹ اور نئی ٹیکنالوجیز کی طرف ہے۔

متحدہ عرب امارات نے پہلے ہی ورچوئل اثاثوں اور کرپٹو کرنسیوں کے لیے ایک ریگولیٹری باڈی کو کنٹرول کرنے والا قانون متعارف کرایا ہے، جبکہ بڑے کرپٹو ایکسچینج پلیٹ فارمز کو خوش آمدید کیا ہے۔

متحدہ عرب امارات کے ابتدائی نجی شعبے کے میٹاورس منصوبوں میں سے ایک کا نام 2117 ہے، جس کا نام دبئی کے حکمران شیخ محمد بن راشد کے اب سے ایک صدی بعد مریخ کو آباد کرنے کے خواب کے نام پر رکھا گیا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس سرخ سیارے پر آباد کاروں کو لے جانے والی ورچوئل شٹل میں شامل ہونے کے لیے میٹاورس صارفین اب ٹکٹ خرید سکتے ہیں۔

مریخ کے ورچوئل سفر کے پیچھے بیڈو سٹارٹ اپ کے بانی امین الزرونی نے کہا کہ ’ہم میں سے بہت سے لوگ اس مشن کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے کے لیے زندہ نہیں ہوں گے۔ ہم اس تجربے کو میٹاورس میں نقل کرنے کی کوشش کریں گے۔‘

اب تک، میٹاورس کا استعمال انتہائی کم ہے اور یہاں تک کہ اس کو بنانے والے بھی کہتے ہیں کہ اس کے بڑے پیمانے پر استعمال میں برسوں لگ سکتے ہیں۔ یہ بھی معلوم نہیں کہ یہ آگے کس طرح بڑھے گا۔

میٹا جو فیس بک اور دیگر بڑے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کا مالک ہے، کے مطابق تجزیہ گروپ کی تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ اگر یہ موبائل ٹیکنالوجی کی ترقی کے پیٹرن کے مطابق چلتا ہے تو میٹاورس 10 برسوں میں مشرق وسطی، شمالی افریقہ اور ترکی کی جی ڈی پی میں 360 ارب ڈالر کا اضافہ کرسکتا ہے۔

یہ دبئی کے میٹاورس حب بننے کے متعلق پوچھا گیا تو کمپنی نے کہا، ’ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ جب پالیسی جدیدیت کو سپورٹ کرتی ہے تو، اس سے نئی ٹکنالوجیوں کو اپنانے میں تیزی آتی ہے۔

اگر ہم دبئی کے سیاق و سباق کو دیکھیں تو، وہاں میٹاورس کے بلڈنگ بلاکس، اسے اپنانے اور سرمایہ کاری کے لیے پہلے ہی ایک واضح حکمت عملی اور اہداف موجود ہیں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی ٹیکنالوجی