پشاور کی ماریہ جو آن لائن افغان ملبوسات بیچ کر لاکھوں کماتی ہیں

ماریہ سوشل میڈیا کے ذریعے آن لائن افغان ملبوسات بیچ کر منافع کما رہی ہیں۔

ماریہ اب بھی کاروبار چلا رہی ہیں اور افغان ملبوسات پاکستان سے آن لائن فروخت کررہی ہیں (موسیٰ کمال یوسفزئی)

ماریہ بنگش خیبرپختونخوا کے ضلع کرم کی رہائشی ہیں، جو سوشل میڈیا کے ذریعے آن لائن افغان ملبوسات بیچ کر منافع کما رہی ہیں۔

ماریہ نے اپنی تعلیم پشاور میں مکمل کی مگر ان کی والدہ کا تعلق افغانستان کے لوگر علاقے سے ہے اور والد کا تعلق کرم سے ہے۔

ماریہ بنگش اب پشاور سے آن لائن کاروبار چلا رہی ہیں اور مہینے میں تقریباً 35 لاکھ روپے کا سامان بیچ لیتی ہیں جس میں وہ چار سے پانچ لاکھ روپے تک منافع کماتی ہیں۔

سال 2021 کے مہینے میں جب طالبان نے افغانستان پر قبضہ کیا اور وہاں اقتدار پر اپنا کنٹرول سنبھالا تب سے پاکستان سمیت کئی ممالک سے افغانستان سے درآمدات اور آمدورفت میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔

اس کے باوجود ماریہ اب بھی کاروبار چلا رہی ہیں اور افغان ملبوسات پاکستان سے آن لائن فروخت کر رہی ہیں۔

انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے ماریہ بنگش نے بتایا کہ پشاور میں کثیر تعداد میں افغان کاریگروں کے منتقل ہونے سے یہاں کافی چیزیں بن رہی ہیں۔

’اب بھی ایسے کپڑے موجود ہیں جو افغانستان میں خواتین گھروں میں بناتی ہیں ان ہی کپڑوں کو لینے کے لیے وہ افغانستان کے مختلف علاقوں میں لوگوں کے گھروں میں جاتی ہیں اور وہاں سے ان کپڑوں کو خریدتی ہیں مگر اب افغانستان جانا مشکل ہوگیا ہے۔

’اب پیسے دے کر افغان ملبوسات منگواتے ہیں جس پر ٹیکس بھی زیادہ ہوتا ہے اور دیگر اخراجات کے ساتھ ان کپڑوں کی  قیمت بڑھ جاتی ہے۔‘

ماریہ بنگش نے بتایا: ’راستوں کی بندش کی وجہ سے ہم پاکستان میں افغان ملبوسات مہنگے داموں خریدتے ہیں کیونکہ جو چیز افغانستان میں 10 روپے کی ملتی ہے پاکستان پہنچنے تک اس چیز کی قیمت 100 روپے تک پہنچ جاتی ہے، اب ہم سارے کپڑے یہاں پر بناتے ہیں کپڑوں کے لیے اشیا افغانستان سے منگواتے ہیں جو پاکستان میں نہیں ملتیں۔‘

اپنی بات جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہاں پر ایسے افغان مہاجرین موجود ہیں جن کے پاس ویزا ہوتا ہے وہ باآسانی افغانستان آتےجاتے رہتے ہیں وہ ضروری سامان اپنے ساتھ لاتے ہیں مگر اس کی بھی ایک حد ہے زیادہ سامان لانے کی اجازت نہیں ہے۔

’ہم سامان لانے کے لیے الگ پیسے دیتے ہیں جو ٹیکس لگتا اس کے الگ پیسے دینے پڑتے ہیں۔‘

ماریہ نے بتایا کہ افغانستان میں ان کی دکان تھی لیکن جب حالات خراب ہوئے تو مجبوری میں انہوں نے اپنی دکان پاکستان منتقل کردی اور پھر یہاں سے آن لائن کاروبار شروع کیا جس کا ہمیں مثبت نتیجہ ملا ،افغانستان سے دیگر ممالک کو سامان کی ترسیل کا کوئی نظام موجود نہیں تھا نہ وہاں پر ایسی کمپنیاں تھیں جو باہر ممالک کو سامان منتقل کرسکتیں۔ وہاں کے لوگ ہم سے براہ راست خریداری کرتے تھے۔

افغان ملبوسات کے حوالے سے ماریہ نے مزید کہا: ’یہ افغانستان کا ثقافتی لباس ہے یہ افغان لوگ شادی بیاہ کی تقریبات میں پہنتے ہیں۔ انتہائی محنت کے ساتھ ہاتھوں سے تیار کردہ ڈیزائن کے ملبوسات بہت مہنگے ہوتے ہیں اس لیے ان کی قیمت دیگر ملبوسات کی نسبت زیادہ ہوتی ہے۔

ان ملبوسات میں افغانستان کی ثقافتی ملبوسات بھی ہوتے ہیں جو دیگر جگہوں پر نہیں ملتے۔ اس میں بخمل کپڑا بھی شامل  ہے جو زیادہ تر افغان ثقافتی ملبوسات میں استعمال ہوتا ہے، گلی بخمل کپڑا افغانستان میں 700 روپے میں ایک میٹر ملتا ہے مگر پاکستان میں ہمیں یہی گلی بخمل کپڑا  تین ہزار روپے میٹر میں ملتا ہے جوکہ افغانستان سے تین گنا سے زیادہ  مہنگا ہے۔

’اگر یہ کپڑا ہم افغانستان سے لائیں اور اور اس سے کپڑے بنا کر یہاں بیچیں تو ہمیں اور گاہک دونوں کو فائدہ ہوگا کم قیمت میں خریدار کو افغان ثقافتی ملبوسات ملیں گے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس سوال پر کہ یہ کپڑے کون زیادہ تر خریدتا ہے تو ماریہ بنگش نے بتایا کہ یہ کپڑے افغان شہری اپنی شادیوں پر پہنتے ہیں یہ افغانستان کی ثقافت اور تاریخ کا حصہ ہیں۔

’بیرون ممالک میں بھی افغان باشندے شادی وغیر کی تقریبات میں پہننے کے لیے ایسے ملبوسات آرڈرکرتے ہیں، پاکستان میں یہ کپڑے بہت کم استعمال ہوتے ہیں۔ یہاں پر تو لوگ یہ کپڑے ڈراموں میں استعمال کرتے یا کسی موسیقی کی ویڈیو شوٹ کے لیے،  یہاں پر یہ کپڑے افغان شہری ہی خریدتے ہے بہت کم ایسے پاکستانی ہیں جو ایسی ملبوسات خریدتے اور استعمال کرتے ہیں۔‘

ماریہ نے مزید بتایا کہ شروع میں تو خریدار ٹک ٹاک کے ذریعے ان سے رابطہ کیا کرتے تھے بعد میں پشاور ہائی کورٹ نے ٹک ٹاک پر پابندی لگائی او ٹک ٹاک بند ہوگیا تو انہوں نے پھر انسٹاگرام پر اپنے کاروبار کو آن لائن جاری رکھا۔

ماریہ بنگش نے کہا: ’میرے شوہر مجھے اس کام میں ہمیشہ حوصلہ افزائی کرتے ہیں اور ہر جگہ پر سپورٹ کرتے ہیں جس سے میرا حوصلہ اور بھی بڑھ جاتا ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی خواتین