ایران: مظاہرین نے انقلاب کے بانی خمینی کے آبائی گھر کو آگ لگا دی

اے ایف پی کو موصول ہونے والی تصاویر کے مطابق خمین میں واقع مکان کو آگ کے شعلوں کی لپیٹ میں اور وہاں موجود مظاہرین کو خوشی کا اظہار کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

ایران میں دو مہینے سے جاری حکومت مخالف احتجاج کے دوران مظاہرین نے انقلاب کے بانی آیت اللہ خمینی کے آبائی گھر کو آگ لگا دی۔

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی (اے ایف پی) کے مطابق اسے جمعے کو موصول ہونے والی تصاویر میں آیت اللہ خمینی کے گھر کو جلتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

تصاویر میں مغربی مرقزی صوبے کے شہر خمین میں واقع مکان کو جمعرات کی شب آگ کے شعلوں کی لپیٹ میں اور وہاں موجود مظاہرین کو خوشی کا اظہار کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

آیت اللہ خمینی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اس گھر میں پیدا ہوئے تھے۔

وہ امریکی حمایت یافتہ شاہ محمد رضا پہلوی کے شدید ناقد اور عالم بننے کے بعد جلاوطنی اختیار کر گئے تھے۔

1979 میں فرانس سے اسلامی انقلاب کی قیادت کے لیے وطن واپس لوٹے۔

آیت اللہ خمینی کا انتقال 1989 میں ہوا جس کے بعد ان کے جانشین آیت اللہ علی خامنہ ای ملک کے رہبر اعلیٰ بنے۔

اس گھر کو بعد میں خمینی کی یاد میں ایک میوزیم میں تبدیل کر دیا گیا۔

یہ فوری طور پر واضح نہیں ہوسکا کہ آگ سے اس گھر کو کتنا نقصان پہنچا۔

اخلاقی پولیس کے ہاتھوں گرفتار ہونے والی مہسا امینی کی موت سے شروع ہونے والے مظاہروں نے 1979 کے انقلاب کے بعد سے ایران کے لیے سب سے بڑے چیلنجز میں سے ایک بن کر ابھرے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

تاہم ایرانی حکومت ملک میں جاری حالیہ احتجاج کو غیر ملکی سازش قرار دیتی ہے۔

مظاہروں میں آمریت مردہ باد کے نعرے اور خمینی کی تصاویر کو نذر آتش کیا جا رہا ہے۔

ایرانی عدلیہ کی ویب سائٹ میزان آن لائن کے مطابق  مہسا امینی کی موت کے بعد سے جاری ملک گیر احتجاج کے دوران ایران نے گذشتہ اتوار کو اس سلسلے میں پہلی موت کی سزا کا باضابطہ اعلان کیا۔

ایران کی عدلیہ نے احتجاج کے دوران تین صوبوں میں 750 سے زائد افراد پر ’حالیہ فسادات‘ میں ملوث ہونے کے الزام میں فرد جرم عائد کی ہے۔

(ایڈیٹنگ: عبدااللہ جان، بلال مظہر | ترجمہ: عبدالقیوم شاہد)

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا