’کہاں آیت اللہ خمینی اور کہاں نہاری کھانے والا؟‘

اسلام آباد میں ایک سیمینار سے خطاب میں وزیراعظم عمران خان نے بتایا کہ کابینہ اجلاس کے دوران سابق وزیراعظم نواز شریف کی بیماریاں سن کر وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری کی آنکھوں میں آنسو آ گئے تھے۔

اسلام آباد میں انصاف لائرز فورم کے زیراہتمام ایک سیمینار سے خطاب میں عمران خان نے   کہا کہ ’دو سال بعد عدالت فیصلہ کرتی ہے تو وہ (نواز شریف) کہتے ہیں کہ مجھے کیوں نکالا؟‘(سکرین گریب)

وزیراعظم عمران خان نے بتایا کہ کابینہ اجلاس کے دوران مسلم لیگ ن کے قائد اور سابق وزیراعظم ’نواز شریف کی بیماریاں سن کر وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری کی آنکھوں میں آنسو آ گئے تھے۔‘

اسلام آباد میں انصاف لائرز فورم کے زیراہتمام ایک سیمینار سے خطاب میں عمران خان نے کہا: ’کابینہ میٹنگ میں ان کی بیماریاں سن کر شیریں مزاری کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ آپ سب شیریں مزاری کو جانتے ہیں تو سوچیں کہ ہمیں کس طرح کی بیماریاں بتائی گئی ہوں گی۔‘

سابق وزیراعظم ان دنوں علاج کی غرض سے لندن میں مقیم ہیں، جنہیں بیرون ملک جانے کی اجازت کابینہ کی منظوری سے دی گئی تھی۔

وزیراعظم عمران خان نے ایک مرتبہ پھر اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ’بیروزگار سیاست دان‘ اس لیے اکٹھے ہوئے ہیں کیونکہ یہ قانون کی حکمرانی نہیں مانتے۔

مسلم لیگ ن کے قائد اور سابق وزیراعظم نواز شریف کے حوالے سے انہوں نے کہا: ’دو سال بعد عدالت فیصلہ کرتی ہے تو وہ (نواز شریف) کہتے ہیں کہ مجھے کیوں نکالا؟‘

عمران خان نے کہا: ’یہ سمجھتے ہیں کہ سڑکوں پر نکل کر عمران خان کو بلیک میل کر لیں تو دیکھ لیں کہ ہم نے کتنے بڑے بڑے جلسے کیے تھے۔ لوگ کسی کی چوری بچانے کے لیے نہیں نکلتے۔ لوگوں کو قیمے کے نان بھی کھلا دیں تو نہیں نکلیں گے۔ ان (مسلم لیگ ن) کے کارکنوں کو کہتا ہوں کہ پیسے بھی کھائیں، نان بھی کھائیں مگر گھر بیٹھیں۔‘

اپنے خطاب کے دوران وزیراعظم عمران خان نے نواز شریف کے ترجمان اور سابق گورنر سندھ محمد زبیر کی جانب سے نواز شریف کو آیت اللہ خمینی کے ساتھ تشبیہ دینے پر بھی تنقید کی اور کہا: ’میں دیکھ رہا تھا کہ یہ لوگوں کو بے وقوف سمجھتے ہیں۔‘

انہوں نے کہا: ’آیت اللہ خمینی کے ساتھ ایران کے عوام پیار کرتے تھے، ان کے لیے لاہور سے نہاریاں نہیں آتی تھیں، وہ دہی روٹی پر گزارا کرتے تھے، جب وہ دنیا سے گئے تو ان کا چھوٹا سا گھر تھا۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

عمران خان نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا: ’آیت اللہ خمینی کی لندن میں اربوں روپے کی جائیدادیں نہیں تھیں، ان کی بیٹی کے پاناما پیپرز میں چار چار پڑے بڑے فلیٹس نہیں تھے۔‘

ساتھ ہی انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا: ’کہاں آیت اللہ خمینی اور کہاں ہمارا نہاری کھانے والا۔۔‘

نواز شریف کی جانب سے حال ہی میں دیے گئے بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ ’پاکستانی فوج کے خلاف جو یہ زبان استعمال کر رہے ہیں تو یہ وہی ایجنڈا ہے جو بھارت لے کر پھر رہا ہے۔‘

ساتھ ہی انہوں نے کہا: ’مجھے پاکستانی فوج سے کیوں مسئلہ نہیں ہے، میرا کون سا منشور ہے جس کے پیچھے فوج نے میری مدد نہیں کی، کرونا وائرس بحران ہو یا کراچی ہر جگہ فوج نے مدد کی۔‘

سابق وزیراعظم نواز شریف کے اس بیان پر کہ انہیں 2014 کے دھرنے کے دوران اس وقت کے آئی ایس آئی سربراہ جنرل ظہیر الاسلام نے استعفیٰ دینے کا کہا تھا، عمران خان نے اپنے ردعمل میں کہا: اگر جنرل ظہیر الاسلام نے انہیں استعفیٰ دینے کو کہا تھا تو آپ نے کیوں چپ کرکے سن لیا، کیوں کہ ان کوپتہ تھا کہ آپ نے کتنا پیسہ چوری کیا ہے۔‘

عمران خان نے نواز شریف اور اپوزیشن کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: ’انہیں جمہوریت سے مطلب نہیں ہے، کیونکہ جمہوریت تو میں ہوں جو سب سے زیادہ ووٹ لے کر آیا ہوں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان