نواز شریف کے شکوے اور جواب شکوے

نواز شریف اپنی نااہلی ماضی کی طرح ختم کروا کر صدر یا وزیراعظم بننا چاہتے ہیں۔

میاں صاحب نے دھرنے سے پہلے اور بعد میں نہ پارلیمان کو عزت دی نہ کابینہ کو اہمیت دی (اے ایف پی)

یہ تحریر آپ یہاں سن بھی سکتے ہیں

 

میاں نواز شریف اپنی سیاسی زندگی کے اس مقام پر ہیں جہاں ان کا ہم پلہ کوئی نہیں۔ بےنظیر بھٹو وہ واحد شخصیت تھیں جو سیاست میں ان کی ذہنی سطح کے برابر تھیں۔ پاکستان کی اندرونی سیاست، اداروں کی سوچ اور غیر ملک قوتوں کے عزائم کو ان سے بہتر شاید ہی کوئی سمجھتا ہو۔

لیکن میاں صاحب کی سب سے بڑی کمزوری یا خرابی یہ رہی کہ وہ اپنی ذات سے آگے نہ سوچ سکے۔ ان کی سیاست کا محور اپنی ذات اور خاندان کے لیے سیاسی طاقت کا حصول رہا۔ کاروبار اور پیسہ سے نہ انہیں جوانی میں دلچسپی تھی اور نہ آج تک پیدا ہو سکی ہے۔ یہ کام انہوں نے اپنے بیٹوں اور بھائیوں کے سپرد کیا ہوا ہے۔

میں ان کی عزت کرتا ہوں اور کبھی انہیں کرپٹ اس لیے نہیں کہا کہ یہ فیصلہ عدالتوں کے کرنے کا ہے۔ پاناما مقدمے میں عدالت نے انہیں اقامہ پر نکالا کرپشن پر نہیں۔ مگر ان کی دولت پر سوالات ہیں اور یہ ریاستی اداروں کا کام ہے کہ اس کی تحقیق کریں۔ یہ حقیقت ہے کہ موجودہ نظام کرپشن ختم کرنے یا پکڑنے میں ناکام رہا ہے۔ 

آج کل میاں نواز شریف ہر روز شکوہ کر رہے ہیں۔ لیکن یہ شکوہ انہیں کس سے ہے؟ میں سمجھتا ہوں کہ ان کے ماضی کے فیصلے دیکھ کر شکوہ انہیں اپنے آپ سے اور اپنی پارٹی سے ہونا چاہیے تھا۔ یہ بات آپ کو سمجھانے کی کوشش کرتا ہوں۔ 

میاں صاحب کہتے ہیں 2014 کا دھرنا آئی ایس آئی کے سابق سربراہ کی حمایت سے ہوا اور ان سے استعفی مانگا گیا۔ لیکن میاں صاحب یہ بھول رہے ہیں کہ قوم نے، ادارے نے اور دوسری سیاسی جماعتوں نے پی ٹی آئی کے دھرنے کو مسترد کیا مگر میاں صاحب نے دھرنے سے پہلے اور بعد میں نہ پارلیمان کو عزت دی نہ کابینہ کو اہمیت دی۔ خود اہم فیصلے کیے اور اپنی پارٹی کے ہر اس شخص کو قربان کیا جس کی وجہ سے اقتدار بچایا جا سکتا تھا۔

یہی نہیں میں اب تک درجن بھر سے زیادہ دفعہ مطالبہ کر چکا ہوں کے 2014 کے دھرنے کی تحقیقات کرائی جائیں اور اس میں ملوث سرکاری افسروں کو قرار واقعی سزا دی جائے۔ مگر میاں صاحب اور ان کی پارٹی نے کبھی اس مطالبہ کی حمایت نہیں کی۔ کیوں؟ یہ میں آپ کو آخر میں بتاؤں گا۔ 

دھرنے کے ناکام ہونے کے بعد جب پاناما کا معاملہ شروع ہوا تو سپریم کورٹ نے اس کے لیے جے آئی ٹی تشکیل دی جس میں ایم آئی اور آئی ایس آئی کو بھی شامل کیا گیا۔ یہ ریکارڈ کا حصہ ہے کہ ہم نے اس کی شدید مخالفت کی اور وکلا کی تنظیموں نے بھی اس پر آواز اٹھائی۔ لیکن میاں صاحب خود اس پر خاموش رہے بلکہ اسے قبول کیا جبکہ پیپلز پارٹی نے نعرہ لگایا ’مک گیا تیرا شو نواز۔‘ ہم نے جنرل قمر باجوہ کو بھی تاکید کی کہ ادارے کو سیاسی نہ بنائیں۔ سوال یہ ہے اس وقت انہیں ان دونوں حضرات پر کوئی اختلاف نہیں تھا۔ اب دوسروں سے شکوہ کس بات کا ہے جب خود انہوں نے اسے قبول کیا؟ 

میاں صاحب کو اس بات کا بھی شکوہ ہے کہ ایک سازش کے تحت ان کے خلاف سیاسی انجینرنگ کی گئی، انہیں نااہل قرار دیا گیا اور ان کی پارٹی کو ہروایا گیا۔ یہ ریکارڈ کا حصہ ہے ہم نے 2018 الیکشن کے بعد اس بات کا مطالبہ کیا کہ پارلیمانی کمیٹی بنائی جائے جو تحقیق کرے اور ان تمام سرکاری اہلکاروں کو سزا دے جو اس انجینرنگ میں شامل تھے۔ ایک دفعہ پھر پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن اور پی ٹی آئی نے ایک دوسرے کا ساتھ دیا اور اس بات کو یقینی بنایا کہ پارلیمانی کمیٹی کوئی تحقیق نہ کرے۔ کیوں؟

میاں صاحب نے کہا کے سیاسی انجینرنگ کا آغاز بلوچستان میں ان کی حکومت کو گرا کر اور سینٹ الیکشن میں دھاندلی سے ہوا۔ کیا انہوں نے زرداری صاحب سے یہ سوال کیا کہ آپ کی وجہ سے جمہوریت کمزور ہوئی؟ صرف یہی نہیں سینٹ چیرمیئن کے خلاف عدم اعتماد کی قرارداد زرداری صاحب اور میاں شہباز شریف نے مل کر ناکام کرائی۔ اگر وہ کامیاب ہو جاتی تو آج سڑکوں پر احتجاج نہ کرنا پڑتا اور جمہوری ادارے آزاد ہونے شروع ہوتے۔ اس کے باوجود انہوں نے اپنی پارٹی کے ان ممبران کے خلاف اقدام کیوں نہ اٹھایا؟

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

آرمی چیف کی ایکسٹینشن کے خلاف ہم نے پیپلز پارٹی،  مسلم لیگ ن اور پی ٹی آئی سے التجا کی کہ اس طرح کی قانون سازی نہ کریں جس سے اداروں کو نقصان ہوگا۔ مگر ان تمام نے اس کی حمایت کی۔ آج میاں صاحب شکوہ کر رہے ہیں اور ان کے نام لے رہے ہیں جنہیں وہ خود سپورٹ کرتے رہے۔ آخر انہی لوگوں کو ایکسٹینشن کیوں دی؟

اب میں ان تمام کیوں کے جواب دینے کی کوشش کرتا ہوں۔ مسلم لیگ کے حمایتی آج کل اس بات پر بھنگڑے ڈال رہے ہیں کہ میاں صاحب بدل گئے ہیں اور انقلابی ہو چکے ہیں۔ مجھے ان تمام لوگوں کو بہت دکھ سے یہ بتانا ہے کہ میاں صاحب بالکل نہیں بدلے۔ ان کے تمام بیانات اور احکامات اس بات کی نشاندہی کر رہے ہیں کہ میاں صاحب اداروں کی سیاست میں مداخلت تو چاہتے ہیں لیکن اپنے حق میں۔ میاں صاحب کو معلوم ہے ماضی میں جتنے الیکشن بھی وہ جیتے وہ انجینرڈ تھے۔

آئندہ بھی کوئی الیکشن وہ انجینرنگ کے بغیر نہیں جیت پائیں گے اس لیے نشانہ چند لوگ ہیں جن پر انہیں غصہ ہے ادارے سے کوئی اختلاف نہیں۔ دوسرا ان کی خواہش یہ ہے کہ ادارے ان کی پارٹی کا حصہ بن جائیں اور جس طرح روس، ترکی، اور بھارت میں سول آمریت ہے پاکستان میں بھی قائم ہو جائے۔ نواز شریف اپنی نااہلی ماضی کی طرح ختم کروا کر صدر یا وزیراعظم بننا چاہتے ہیں۔

افسوس اس بات کا بھی ہے کہ تمام شواہد اس طرف اشارہ کر رہے ہیں کہ ادارہ اس وقت ان کی حمایت میں نظر آتا ہے اور چند لوگوں کی قربانی دینے کو تیار ہے۔ دائروں کا سفر پاکستان میں ابھی جاری ہے۔ 

میں آپ کو بتا چکا ہوں۔ اس وقت ملک میں تین دھڑے ہیں۔ فوجی حمایت والا دھڑا (پی ٹی آئی، ایم کیو ایم، پی ایس پی، جی ڈی اے)، لسانی/مذہبی دھڑا (مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی، جے یو آئی ایف، اے این پی وغیرہ) اور تیسرا دھڑا عوام کا ہے۔ عوامی دھڑے میں ہماری نئی جمہوریہ کی تحریک، جماعت اسلامی، وکلا، صحافی، چھوٹے تاجر، نوکری پیشہ، اور کسان شامل ہیں۔ عوامی دھڑا سب سے بڑا ہے مگر اس کی سیاسی قوت سب سے کم ہے اسلئے کے ان میں اتحاد نہیں ہے۔ اس کشمکش کے نتیجے میں یہ جعلی قومی مذاکرات کریں گے تاکہ ان کے درمیان مک مکا ڈیل ہو جائے۔ ڈیل میں سینٹ کی سیٹ ایڈجسمنٹ اور نئے الیکشن شامل ہو سکتے ہیں۔ مگر اس میں عوام کے مفاد میں کچھ  بھی نہیں۔ اسی لئے ہمارا اصرار ہے کہ ایسے قومی مذاکرات قبول نہیں۔ عوامی دھڑے کو کسی بھی غیر جمہوری ڈیل کو رد کرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ انشاء اللہ اس دفعہ ہم ان کی عوام کے خلاف سازش کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ