نواز شریف کے واپس نہ آنے پر کیا شہباز شریف کی نااہلی ممکن؟

بعض حکومتی وزرا کی جانب سے سابق وزیراعظم نواز شریف کے لندن سے وطن واپس نہ آنے پر ان کے بھائی شہباز شریف کی نااہلی کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ ماہرین قانون اس حوالے سے کیا کہتے ہیں؟

4  اکتوبر 2017 کی اس تصویر میں سابق وزیراعظم نواز شریف اور ان کے بھائی سابق وزیراعلیٰ پنجاب اور موجودہ اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی شہباز شریف مسلم لیگ ن کے ورکرز کنونشن  کے موقع پر (تصویر: اے ایف پی) 

پاکستان کے سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کی وطن واپسی سے متعلق ایک بار پھر سیاسی ماحول میں گرما گرمی دیکھنے میں آرہی ہے۔

قائد مسلم لیگ ن عدالتی ضمانت پر کابینہ کی اجازت سے برطانیہ میں علاج کے لیے گئے تھے، لیکن اس کے فوری بعد پنجاب کے محکمہ صحت کی جانب سے نواز شریف کی بیماری سے متعلق رپورٹس پر سوالات اٹھائے گئے اور اب بعض حکومتی وزرا کی جانب سے نواز شریف کے واپس نہ آنے پر ان کے بھائی شہباز شریف کی نااہلی کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

صوبائی وزیر صحت یاسمین راشد اور صوبائی وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان متعدد بار بیان دے چکے ہیں کہ اگر سابق وزیر اعظم واپس نہ آئے تو شہباز شریف کو نااہل قرار دیا جاسکتا ہے۔

ضمانت دینے والے کی نااہلی ممکن ہے؟

ماہر قانون سلمان اکرم راجہ اسے محض حکومتی وزرا کی جانب سے بیان بازی قرار دیتے ہیں۔

انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں انہوں نے بتایا: 'قانون کے مطابق کسی شخص کی صحت سے متعلق ضمانت دینے والے کو نااہل نہیں کیا جاسکتا، لیکن اگر کوئی ملزم عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کرے تو اس کے ضمانتی مچلکوں میں درج جائیداد یا رقم ضرور ضبط ہوسکتی ہے۔'

انہوں نے کہا کہ 'شہباز شریف کا اپنے بھائی کی واپسی سے متعلق عدالت میں صرف یقین دہانی کا بیان جمع ہے اور اس بنیاد پر ان کے خلاف عدالتی کارروائی یا ان کی نااہلی ممکن نہیں ہے۔'

سلمان اکرم راجہ نے مزید کہا کہ ماضی میں بھی ایسی کوئی مثال موجود نہیں کہ ملزم کے وعدے سے منحرف ہونے پر یقین دہانی کرانے والے کو نااہل کیا گیا ہو۔

نواز شریف کی واپسی سے متعلق حکومتی اختیار

سابق اٹارنی جنرل آف پاکستان اشتر اوصاف نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں اس معاملے پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ 'حکومت کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ عدالت میں نواز شریف کی ضمانت کو چیلنج کرے اور اگر عدالت انہیں واپس لانے کا حکم دے تو یہ کارروائی عمل میں لائی جاسکتی ہے۔'

انہوں نے کہا کہ 'شہباز شریف کی جانب سے میاں نواز شریف کی برطانیہ میں علاج کے لیے روانگی سے متعلق بیان حلفی میں نے خود عدالت میں جمع کروایا تھا، جس میں انہوں نے یقین دہانی کروائی تھی کہ جیسے ہی ڈاکٹرز نواز شریف کی صحت تسلی بخش قراردیں گے اور انہیں لندن سے پاکستان تک ہوائی سفر کی اجازت دیں گے تو وہ واپس آجائیں گے۔'

اشتر اوصاف کے مطابق: 'قانونی طور پر عدالت نے ضمانت منظور کی جبکہ میاں نواز شریف کو علاج کے لیے بیرون ملک بھجوانے کی اجازت کابینہ نے دی تھی۔ اب حکومتی وزرا کے انہیں واپس لانے کے بیانات سیاسی پوائنٹ سکورنگ کے سوا کچھ نہیں۔'

انہوں نے مزید کہا کہ 'نواز شریف اپنی صحت سے متعلق رپورٹس باقاعدگی سے عدالت میں جمع کرانے کے پابند ہیں لیکن حکومت کا اس سے براہ راست تعلق نہیں، اس لیے شہباز شریف کی نااہلی کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ دوسرا یہ کہ بنیادی انسانی حقوق کے تحت بھی برطانوی حکومت کسی بیمار شخص کو کسی بھی حکومت کی درخواست پر ملک سے نہیں نکال سکتی۔'

حکومتی عہدیدار کیا کہتے ہیں؟

ترجمان پنجاب حکومت مسرت جمشید چیمہ نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ نواز شریف کو چار ماہ کے لیے بیرون ملک علاج کی اجازت دی گئی تھی، لیکن جس طرح کا وہ لندن میں علاج کروا رہے ہیں وہ سب کو معلوم ہوچکا ہے۔'

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے بتایا کہ حکومت نواز شریف کی ضمانت کی منسوخی کے لیے عدالت سے رجوع کی تیاری کر رہی ہے جبکہ نیب کی جانب سے بھی ان کی ضمانت منسوخ کرانے کے بعد وطن واپس لانے کی درخواست عدالت میں دائر ہوگی۔

مسرت جمشید نے کہا کہ 'ن لیگ کی قیادت نے یہ ثابت کر دیا کہ حکومت انہیں ضمانتی بانڈز کے بغیر جانے کی اجازت نہ دینے کا درست موقف رکھتی تھی۔ اگر ان کے بڑی رقم کے ضمانتی بانڈز ہوتے تو وہ کب کے واپس آجاتے۔'

یاد رہے کہ  اسلام آباد کی احتساب عدالت نے دسمبر 2018 میں میاں نواز شریف پر العزیزیہ ریفرنس میں سات سال قید کے علاوہ 25 ملین ڈالر کا جرمانہ بھی عائد کیا تھا۔ اس کیس میں دوران سزا نواز شریف بیمار ہوگئے تھے۔

کئی دن سروسز ہسپتال میں زیر علاج رہنے کے بعد وہ شہباز شریف کی درخواست پر عدالت سے طبی بنیادوں پر ضمانت منظور ہونے اور کابینہ کی اجازت سے نومبر 2019 میں لندن چلے گئے تھے۔

انہیں عدالت نے چار ہفتوں کی ضمانت پر رہائی کا حکم دیاتھا اور علاج کی غرض سے اس مدت میں توسیع بھی ڈاکٹروں کی رپورٹ سے مشروط کی گئی تھی۔

نو ماہ کا عرصہ گزرنے کے باوجود میاں نواز شریف لندن میں ہی زیر علاج ہیں اور مسلم لیگ ن کی جانب سے ان کی میڈیکل رپورٹس جمع کرائی جاتی رہی ہیں۔

تاہم ان کی لندن سے تصاویر سامنے آنے کے بعد ان کی صحت کے حوالے سے قیاس آرائیاں شروع ہوگئیں۔

دوسری جانب ان کی صاحبزادی مریم نواز بھی اپنے والد سے ملنے برطانیہ جانا چاہتی ہیں لیکن ان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں شامل ہونے اور پاسپورٹ عدالت میں جمع ہونے کے باعث وہ بیرون ملک نہیں جاسکی ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست