پاکستان میں درآمد شدہ گاڑیوں کو ترجیح کیوں دی جاتی ہے؟

اگر آپ پرانی جاپانی موٹر کار کا موازنہ نئی پاکستانی موٹر کار سے کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ ہماری آٹو انڈسٹری کتنی پیچھے ہے، کار ڈیلر

پاکستان میں آٹو پالیسی میں ترمیم کے بعد بیرونی ممالک سے نہ صرف گاڑیاں درآمد کرنے کا طریقہ کار مشکل ہو گیا ہے بلکہ قیمتوں میں اچھا خاصا اضافہ بھی ہو گیا ہے۔ لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ پاکستانی اب بھی لوکل انڈسٹری کی نئی چمکتی کار پر پرانی استعمال شدہ امپورٹڈ گاڑی کو ترجیح دیتے ہیں۔ آخر اس کی وجہ کیا ہے؟

پشاور کے ایک آٹو ڈیلر محمد سعد نے انڈپنڈنٹ اردو کو بتایا کہ دراصل اس کی وجہ امپورٹڈ گاڑیوں میں پائیداری اور حفاظتی فیچرز کا ہونا ہے۔ ان کے مطابق: ’اگر آپ پرانی جاپانی موٹر کار کا موازنہ نئی پاکستانی موٹر کار سے کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ ہماری آٹو انڈسٹری کتنی پیچھے ہے- اس کے باوجود ان کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرتی ہیں۔‘

محمد سعد بتاتے ہیں کہ پاکستان میں زیادہ تر جاپانی گاڑیاں درآمد ہوتی ہیں۔ ان دونوں میں کافی فرق ہے۔

 

اس موازنے کے بعد یہ ثابت ہوتا ہے کہ پاکستان میں جتنے پیسوں میں ایک نئی ماڈل گاڑی ملتی ہے اتنے ہی پیسوں میں جاپانی استعمال شدہ پرانی ماڈل گاڑی ملتی ہے، لیکن لوگ پھر بھی جاپانی گاڑی کو ترجیح دیتے ہیں کیونکہ وہ پائیدار ہونے کے ساتھ ساتھ حفاظتی فیچرز سے بھی لیس ہوتی ہیں۔ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پاکستانی کار ڈیلرز کا کہنا ہے کہ بے شک پاکستانی حکومت گاڑیوں کی درآمد بند کروا دے لیکن پاکستانی آٹوز کی کوالٹی کو بھی اتنا اچھا ہونا چاہیے کہ لوگ خوشی خوشی ان کو خریدیں۔

پاکستان کے وفاقی ادارے برائے آمدن (ایف بی آر) کے مطابق  پاکستان میں پچھلے پانچ سال میں تقریباً دو لاکھ 70 ہزار استعمال شدہ گاڑیاں باہر سے منگوائی گئی ہیں جن میں زیادہ تعداد جاپانی گاڑیوں کی ہے۔

ایف بی آر کی تفصیلات کے مطابق مالی سال 14-2013 میں 33655، 15-2014 میں44131، 16-2015 میں 54328، 17-2016 میں 64762 اور 18-2017 میں 73025 گاڑیاں درآمد کی گئیں۔

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہر سال درآمد شدہ گاڑیوں کی تعداد میں بتدریج اضافہ ہوتا گیا ہے۔ اس سے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستان میں غیر ملکی  خصوصاً جاپان کے گاڑیوں کی بہت زیادہ مانگ ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی معیشت